پولانسکی کی درخواست مسترد

رومن پولانسکی
Image caption رومن پولانسکی امریکہ سے فرار ہو کر پچھلے تیس سال سے یورپ میں مقیم تھے

امریکی عدالت کے جج نے فلمی ہدایتکار رومن پولانسکی کی یہ درخواست رد کر دی ہے کہ انہیں ان کی غیر حاضری میں ہی سزا سنا دی جائے۔

پولانسکی بتیس سالہ پرانے اس کیس میں ایک تیرہ سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کے مجرم ہیں لیکن سزا سنائے جانے سے پہلے وہ امریکہ سے فرار ہو گئے تھے۔ وہ تقریباً تیس سال سے فرانس میں رہتے رہے اور انہیں پچھلے سال زیورخ پہنچنے پر اچانک گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اس فیصلے کے بعد چھہتر سالہ پولانسکی کے امریکہ کے حوالے کیے جانے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ سوئٹزرلینڈ پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ وہ پولانسکی کو امریکہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ اس وقت تک نہیں کرے گا جب تک امریکہ میں ان کے خلاف مقدمے کے خلاف دائر شدہ اپیل کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔

چھہتر سالہ پولانسکی اس وقت سوئٹزلینڈ میں اپنی رہائشگاہ میں نظر بند ہیں اور ان کے وکلاء ان کی امریکہ حوالگی کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

پولانسکی نے جرم کا اعتراف کر لیا تھا سو انہیں دو سال قید تک کی سزا کا سامنا ہے۔ تاہم خیال ہے کہ سزا کے سنائے جانے کے بعد ان کے وکلاء عدالت سے رجوع کر کے کہیں گے کہ چونکہ پولانسکی پہلے ہی سے نظر بند ہیں اس لیے انہیں مزید قید کی سزا نہیں کاٹنی چاہیے۔

پچھلے ماہ امریکی ریاست کیلیفورنیا کی ایک اپیل عدالت نے پولانسکی کی وہ درخواست رد کر دی تھی کہ اس کیس کو عدالتی بد عملی کی بنیاد پر ختم کر دیا جائے۔ تاہم عدالت نے کہا تھا کہ بد عملی کے الزامات سنگین ہیں اور ان کی تفتیش کی جانی چاہیے۔ پولانسکی کے وکلاء نے الزام لگایا تھا کہ 1977 میں لاس اینجلیز کے متعلقہ جج نے اس کیس میں مداخلتی کارروائی کی تھی (اس جج کا انتقال ہو چکا ہے)۔

اسی بارے میں