اُردو خود نوشت، ایک قدم آگے

ڈاکٹر پرویز پروازی
Image caption ڈاکٹر پرویز پروازی کو اس صنفِ ادب سے طبعی لگاؤ ہے اور انھوں نے بڑی سنجیدگی سے اردو سوانح عمریوں کا تجزیہ بھی کیا ہے۔

جن لوگوں نے نوجوانی میں پاکستان بنتے دیکھا تھا وہ نئی صدی کے آغاز تک ستّر اسّی برس کی عمر کو پہنچ چکے تھے۔ اِن میں سے جو لوگ پاکستان آکر اعلیٰ عہدوں تک رسائی حاصل کر سکے یا علمی ادبی شعبوں میں نام کما سکے اُن کے لئے اکیسویں صدی کا آغاز، پلٹ کر ماضی کی طرف دیکھنے کا لمحہ تھا۔ ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ کر ان میں سے کچھ لوگوں نے اپنے حالاتِ زندگی رقم کرنے کی ٹھانی اور یوں اُردو کے افق پر گزشتہ بیس پچیس برس کے دوران رنگ رنگ کی خود نوشت سوانح عمریاں جلوں افروز ہوئیں۔

ڈاکٹر پرویز پروازی کو اس صنفِ ادب سے طبعی لگاؤ ہے اور انھوں نے بڑی سنجیدگی سے اردو سوانح عمریوں کا تجزیہ بھی کیا ہے۔ سات برس پہلے اُن کے تجزیوں کا اولین مجموعہ منظرِ عام آیا تو ہاتھوں ہاتھوں لیا گیا۔ اُس میں جن ستر سوانح عمریوں کا ذکر تھا وہ حسین احمد مدنی، شورش کاشمیری، زیڈ اے بخاری، سر ظفر اللہ خان، قدرت اللہ شہاب اور جنرل جہاں داد سے لیکر دیوان سنگھ مفتون، جوش ملیح آبادی، کشور ناہید اور رام لال کے بیان کردہ حالاتِ زندگی کا احاطہ کرتی تھیں۔

سوانح عمری کا شوق ڈاکٹر پروازی کو اس میدان میں بہت آگے تک لے گیا اور انھوں نے اگلے پانچ برسوں میں احمد ندیم قاسمی، احسان دانش، مختار مسعود، شیخ ایاز، امرتا پریتم، قرۃ العین حیدر، اے حمید، الطاف گوہر، ڈاکٹر کرن سنگھ، مسعود کھدرپوش اور جسٹس منیر سے لیکر جنرل روئیدار خان، جنرل عتیق الرحمٰن اور پرویز مشرف تک کی خود نوشت سوانحِ عمریاں کھنگال ڈالیں۔

کتاب کے اس دوسرے ایڈیشن میں نئی اور پرانی کل ملا کر ایک سو اکاون سوانح عمریوں کا انتہائی باریک بینی اور عرق ریزی سے تجزیہ کیا گیا تھا۔ اس موقعے پر راقم نے لکھا تھا:

’ ۔۔۔ ایک ایسے زمانے میں جب تحقیق و تفتیش کی گہرائی اور حقائق کی کھوج میں محقق کی عرق ریزی، ماضی کےافسانے بن چُکے ہیں، ڈاکٹر پروازی کا یہ کارنامہ ہر طرح سے سراہنے کے قابل ہے، لیکن ساتھ ہی اُن ریٹائرڈ سرکاری افسروں، جرنیلوں اور سیاست دانوں کےلئے ایک لمحہء فکریہ بھی ہے جو آج کل اپنی خود نوشت کےلئے نوٹس تیار کر رہے ہیں کیونکہ ڈاکٹر پروازی ایک ہاتھ میں چھلنی اور دوسرے میں محدّب عدسہ لئے ہر نئی آنے والی آپ بیتی کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔۔۔‘

Image caption اس میں میر تقی میر سے لیکر قتیل شفائی تک کوئی ستّر شخصیات کی خود نوشت سوانح عمریوں کا تجزیہ کیا گیا۔

اِس وقت جبکہ یہ سطور لکھی جا رہی ہیں اُس چھلنی اور محدب عدسے کے نتائج واضح ہو چکے ہیں اور پروازی صاحب کا تیسرا تحقیقی کارنامہ ’پس نوشت سوم‘ منظرِ عام پر آچکا ہے جس میں میر تقی میر سے لیکر قتیل شفائی تک، موسیقار نوشاد سے لیکر مغنیہ ملکہ پکھراج تک معروف پبلشر مولوی فیروز الدین سے لیکر فلمی مصنف سکے دار تک اور ملک معراج خالد سے لیکر اے پی جے عبدالکلام تک کوئی ستّر شخصیات کی خود نوشت سوانح عمریوں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔

خود نوشت لکھنے والا عموماً اپنی یاد داشت کی بنیاد پر بیتے ہوئے واقعات کی تفصیل رقم کرتا ہے۔ ویسے بھی اسے تاریخی تناظر سے زیادہ اپنے ذاتی نقطہء نگاہ کی فکر ہوتی ہے چنانچہ اسکی تحریر میں ایک مورخ اور محقق والی واقعاتی صحت اکثر مفقود ہوجاتی ہے، لیکن ڈاکٹر پرویز پروازی اسے کوئی معمولی کوتاہی سمجھ کر درگزر کرنے کے قائل نہیں ہیں کیونکہ اُن کے نزدیک یہ آپ بیتیاں مستقبل کے مورخ کو قومی تاریخ کا خام مال فراہم کرنے کی ذمہ دار ہیں اور یہ مال کھرا اور خالص نہیں ہوگا تو قومی تاریخ کا ریکارڈ بھی درست نہ رہ سکے گا۔

چنانچہ یوسف رضا گیلانی کی خود نوشت ’چاہِ یوسف سے صدا‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:

کارگل کے مسئلے پر گیلانی صاحب کی معلومات یک طرفہ اور نامکمل ہیں۔ (گیلانی صاحب ) لکھتے ہیں ’نواز شریف پر اپنی فوجیں واپس بلانے کے لئے سفارتی سطح پر عالمی دباؤ بڑھ گیا تو انھوں نے امریکہ کے صدر کلنٹن سے ہنگامی طور پر ملاقات کی اور انھیں آگاہ کیا کہ اگر کارگل سے فوج واپس بلائی گئی تو فوج کی طرف سے شدید ردِعمل کا خدشہ ہے۔ صدر کلنٹن نے انھیں اس خدشے سے محفوظ رکھنے کی یقین دہانی کرائی لیکن فوجیں واپس بلانے پر مُصر رہے ۔وائٹ ہاؤس میں ون ٹُو ون ملاقات کے فوراً بعد مشترکہ اعلامیے میں صدر کلنٹن کی موجودگی میں نواز شریف کو فوجیں واپس بلانے کا اعلان کرنا پڑا۔‘

یوسف رضا گیلانی کے اس بیان پر ڈاکٹر پروازی لکھتے ہیں: ’مجھے وثوق ہے کہ گیلانی صاحب نے اُس وقت تک صدر کلنٹن کی خود نوشت ’مائی لائف‘ نہیں دیکھی ہوگی۔ کلنٹن صاحب نے صاف لکھا ہے : ’نواز شریف نے چار جولائی کو امریکہ آنے کی خواہش ظاہر کی۔ میں نے انھیں کہا کہ چار جولائی کو انھیں صرف اُس صورت میں امریکہ آنے کی اجازت دی جا سکتی ہے کہ وہ پیشگی اس بات کی یقین دہانی کرائیں کہ وہ کارگل سے اپنی فوجیں حتمی طور پر واپس بلائیں گے، نواز شریف نے ایسی یقین دہانی کرائی تب ہم نے چار جولائی کو آنے کی اجازت اور دعوت دی‘ (مائی لائف صفحہ 531)۔

ڈاکٹر پروازی کے تجزیوں میں اسطرح کی تحقیق و تفتیش سے ہمیں قدم قدم پہ واسطہ پڑتا ہے۔ مستقبل کا ادبی مورخ اگر پاکستان میں آٹو بایو گرافی کی تاریخ رقم کرے تو ہمارے زمانے کو یقیناً خود نوشت کے دورِ پروازی سے تعبیر کرے گا – ایک ایسا دور جس میں دو عقابی آنکھیں ہر نئی آنے والی خود نوشت پر مرکوز تھیں اور کھرے کھوٹے کی پہچان کا ایک مستند پیمانہ مقرر ہو چکا تھا۔

اسی بارے میں