امریکی درخواست مسترد، پولانسکی آزاد

رومن پولانسکی
Image caption رومن پولانسکی امریکہ سے فرار ہو کر پچھلے تیس سال سے یورپ میں مقیم تھے

سوئٹزرلینڈ کے حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ فلم ہدایتکار رومن پولانسکی کو ملک بدر کر کے امریکہ کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ وہ 1977 کے ایک مقدمے کے سلسلے میں امریکہ کو مطلوب ہیں۔

چھہتر سالہ پولانسکی دسمبر 2009 سے سوئٹزلینڈ میں اپنی رہائشگاہ میں نظر بند ہیں۔

پولانسکی تینتیس سالہ پرانے تیرہ سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کے ایک مقدمے میں امریکہ کو مطلوب ہیں۔ وہ سزا سنائے جانے سے پہلے ہی امریکہ سے فرار ہو گئے تھے۔ وہ تقریباً تیس سال فرانس میں رہتے رہے اور انہیں پچھلے سال زیورخ پہنچنے پر اچانک گرفتار کر لیا گیا تھا۔

سوئٹزرلینڈ کی وزیرِ انصاف ایولین وڈمر شلمف نے کہا ہے کہ پولانسکی کو آزادی پر لگائی جانے والی پابندیاں اٹھا لی گئی ہیں۔

سوئٹزرلینڈ کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ امریکہ اس فیصلہ کے خلاف اپیل نہیں کر سکتا۔

پولانسکی کو پہلے چھ الزامات کا سامنا تھا لیکن انہوں نے غیر قانونی سیکس جیسے جرم کا اعتراف کر لیا تھا۔ لیکن 1978 میں جیل بھیجے جانے سے پہلے ہی پولانسکی امریکہ سے فرار ہو گئے اور پھر کبھی واپس نہیں گئے۔

وہ گزشتہ سال ستمبر میں فرانس سے زیورخ گئے جہاں انہیں زیورخ فلم فیسٹیول میں زندگی بھر کی مجموعی کارکردگی پر ایوارڈ ملنا تھا۔ انہیں زیورخ میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

گرفتاری کے بعد ’روزمیریز بی بی‘ اور ’دی پیانسٹ‘ جیسی فلموں کے ہدایتکار پولانسکی کو جیل سے ان کی رہائشگاہ پر منتقل کر کے وہاں نظر بند کر دیا گیا۔

سوموار کو سوئٹزرلینڈ کے حکام نے پولانسکی کو امریکہ کے حوالے کرنے کی امریکی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں ایک آزاد شخص قرار دے دیا۔

اسی بارے میں