پولانسکی کو ملک بدر نہ کرنے پر امریکہ مایوس

رومن پولانسکی
Image caption رومن پولانسکی 1977 کے ایک مقدمے کے سلسلے میں امریکہ کو مطلوب ہیں۔

امریکہ نے کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ کی جانب سے فلم ہدایتکار رومن پولانسکی کو ملک بدر کر کے امریکہ کے حوالے نہیں کیے جانے پر اسے افسوس ہے۔

امریکہ میں وزارات خارجہ کے ترجمان پھلپ کراؤلی کا کہنا ہے کہ سوئٹزرلینڈ کے اس فیصلے کے باوجود امریکہ مسٹر پولانسکی کی حوالگی کا مطالبہ کرتا رہے گا۔ انکا کہنا تھا کہ ' ہم اس معاملے کو بھولے نہیں ہیں'۔

رومن پولانسکی 1977 کے ایک مقدمے کے سلسلے میں امریکہ کو مطلوب ہیں۔

چھہتر سالہ پولانسکی دسمبر 2009 سے سوئٹزلینڈ میں اپنی رہائشگاہ میں نظر بند ہیں۔

پولانسکی تینتیس سالہ پرانے تیرہ سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کے ایک مقدمے میں امریکہ کو مطلوب ہیں۔ وہ سزا سنائے جانے سے پہلے ہی امریکہ سے فرار ہو گئے تھے۔ وہ تقریباً تیس سال فرانس میں رہتے رہے اور انہیں پچھلے سال زیورخ پہنچنے پر اچانک گرفتار کر لیا گیا تھا۔

سوئٹزرلینڈ کی وزارات انصاف کا کہنا ہے کہ امریکہ نے پولانسکی کی حوالگی کے لیے کوئی قابل اطمینان وجہ پیش نہیں کی ۔ گزشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ کےوز یرِ انصاف ایولین وڈمر شلمف نے کہا تھا کہ پولانسکی کو آزادی پر لگائی جانے والی پابندیاں اٹھا لی گئی ہیں۔

سوئٹزرلینڈ کے ایک اہلکار نے کہا تھا کہ امریکہ اس فیصلہ کے خلاف اپیل نہیں کر سکتا۔

لیکن صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پھلپ کراؤلی نے کہا ' ایک تیرہ سال کی لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی ایک جرم ہے'

انکا مزید کہنا تھا' ہم اس معاملے میں انصاف کی گہار لگاتے رہیں گے'۔

پولانسکی کو پہلے چھ الزامات کا سامنا تھا لیکن انہوں نے غیر قانونی سیکس جیسے جرم کا اعتراف کر لیا تھا۔ لیکن 1978 میں جیل بھیجے جانے سے پہلے ہی پولانسکی امریکہ سے فرار ہو گئے اور پھر کبھی واپس نہیں گئے۔

وہ گزشتہ سال ستمبر میں فرانس سے زیورخ گئے جہاں انہیں زیورخ فلم فیسٹیول میں زندگی بھر کی مجموعی کارکردگی پر ایوارڈ ملنا تھا۔ انہیں زیورخ میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

گرفتاری کے بعد ’روزمیریز بی بی‘ اور ’دی پیانسٹ‘ جیسی فلموں کے ہدایتکار پولانسکی کو جیل سے ان کی رہائشگاہ پر منتقل کر کے وہاں نظر بند کر دیا گیا۔

گزشتہ سوموار کو سوئٹزرلینڈ کے حکام نے پولانسکی کو امریکہ کے حوالے کرنے کی امریکی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں ایک آزاد شخص قرار دے دیا تھا۔

اسی بارے میں