پندرہ برس بعد بھی سنیما ہال میں

شاہ رخ اور کاجول
Image caption دلوالے دلہنیا لے جائیں گے کی کامیابی کے بعد شاہ رخ خان اور کاجول بالی وڈ کی سب سے ہٹ جوڑی مانے جانے لگے

ایک ایسے دور میں جب ایک دو ہفتے تک ہاؤس فل چلنے والی فلم کو ہٹ قرار دیا جاتا ہے رومانوی فلم ’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ نے ممبئی کے مراٹھا مندر تھیٹر میں ریلیز کے پندرہ سال بعد بھی چل رہی ہے۔

یہ فلم پچیس اکتوبر سنہ انیس سو پچانوے کو نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی اس طرح یہ فلم اس سال اپنی ریلیز کے پندرہ برس مکمل کر لے گی۔ یہ بھارتی فلم انڈسٹری میں ایک ریکارڈ ہے ۔

اس فلم نے باکس آفس پر کمائی کے علاوے سینما ہال میں سب سے لمبے وقت تک چلنے والی فلم کا ریکارڈ اپنے نام کرلیا ہے۔ بالی وڈ کی کوئی بھی فلم اتنے لمبے وقت کسی سینما ہال میں نمائش کے لیے پیش نہیں کی گئی ہے۔

مراٹھا مندر تھیٹر میں آج بھی یہ فلم ہاؤس فل چل رہی ہے۔

اس سے قبل امیتابھ بچن اور دھرمیندر کی فلم ’شعلے‘ منروا تھیٹر میں پانچ سال تک دکھائی جاتی رہی تھی۔ اب اس فلم کا ریکارڈ ’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ نے توڑ دیا ہے۔

فلم میں کاجول اور شاہ رخ خان کی رومانوی جوڑی ہے اور کہانی لندن سے شروع ہوتی ہے۔ دونوں کا رومانس وہیں جواں ہوتا ہے اور پھر کاجول کی شادی کے لیے اس کے والدین اسے پنجاب لے کر آتے ہیں۔

اس فلم کی کہانی اور سکرین پلے یش چوپڑہ کے بیٹے آدتیہ چوپڑہ نے لکھا ہے۔ فلم کے مکالمے جاوید صدیقی نے لکھے جو کافی مقبول ہوئےتھے۔

مراٹھا مندر تھیٹر میں سب سے اچھی سیٹ کا ٹکٹ بیس روپے کا ہے۔

سنمیا ہال کے ایگزیکٹو ڈائرکٹر کے مطابق فلم کئی وجوہات کی وجہ سے اتنی مقبول رہی ہے۔

انکا کہنا ہے’ فلم کا میوزک شاندار ہے اور بالی وڈ کے سب سے مقبول ترین ہیرو ہیروئن کا جوڑا اس فلم کے اہم کردار ہیں۔‘

’اسکے علاوہ مراٹھا مندر سنمیا ہال ایسی جگہ پر واقع ہے جہاں فلم دیکھنے آنے والوں میں چالیس فی صد وہ افراد شامل ہیں جو روزانہ ممبئی سے باہر جاتے ہیں یا ممبئی آتے ہیں۔‘

سینما ہال کے ایک منتظم جیون مارو کا کہنا ہے کہ جب سے یہ فلم ریلیز ہوئی تب سے وہ یہ فلم چلا رہے ہیں۔’ میں نے گزشتہ چودہ برس میں ہر دن یہ فلم دیکھی ہے۔ اس کے باوجود بھی اس فلم سے میرا دل نہیں بھرا ہے۔‘

فلم دیکھنے آنے والے ایک شخص رشی کا کہنا ہے ’ میں یہاں پانچ بار یہ فلم دیکھ چکا ہوں اور ٹی وی پر دیکھتا رہتا ہوں ۔ ہو سکتا ہو مجھے یہ فلم اس لیے اچھی لگتی ہے کیونکہ پہلی بار میں نے یہ فلم کالج میں دیکھی تھی۔‘

فلم ناقد ترن آدرش کا کہنا ہے کہ اس فلم کی مقبولیت کی وجہ یہ ہے کہ اس کی فلم کی موسیقی ، اداکاری، ہدایتکاری سب کچھ اچھا ہے۔

مراٹھا مندر تھیٹر کے مینیجر پروین رانے کہتے ہیں کہ یہ تھیٹر فلم ’مغلِ اعظم‘ کے وقت مقبول ہوا تھا اور آج اس فلم نے اسے تاریخ کا حصہ بنا دیا ہے۔

اسی بارے میں