یاسمین رشید کی نظم’ تخلیق‘

امریکہ کی ریاست اوہائیو رہنے والی یاسمین رشید کی نظم’ تخلیق‘

رات کے پچھلے پہر

میرے پاس آتا ہے

بصورت تخلیق

وہ میرا دوست میرے ہاتھوں میں

ایک پھتر تھما کے جاتا ہے

مجھ سے کہتا ہے منتقل کر دوں

ایک پھتر میں روشی اپنی

سنگ کے اس حقیر ذرے میں

بھر دوں سانسوں سے زندگی اپنی

اپنے افکار کا سحر دے کر

اپنے افکار کا جگر دے کر

خود میں تنہائی کا زہر بھر کر

چھوڑ آوں اسے زمانے میں

اپنی تخلیق کی نظر دے کر