ایک مائیکل جیکسن کی تلاش ہے:جینیفر

فائل فوٹو
Image caption جینیفر لوپز کا گانا مقبولیت کے چارٹ میں سر فہرست رہا

گلوکارہ جینیفر لوپز اور سٹیون ٹیلر نے امریکہ میں ٹی وی کے گانے کے ایک مشہور پروگرام ’ امریکن آئیڈل‘ میں شمولیت اختیار کر لی۔

وہ اس پروگرام کے دسویں سلسلے میں جج کے حیثیت سے شامل ہونگے۔

اس سے پہلے امریکن آئیڈل کے مشہور جج سائمن کوول نے اسی نوعیت کے اپنے پروگرام ’ایکس فیکٹر‘ پر پوری توجہ دینے کے لیے پروگرام سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

لوپز اور ٹیلر کے بارے میں کئی ہفتوں سے پروگرام میں آنے کی افواہیں گردش کر رہی تھیں۔

واضح رہے کہ ’امریکن آئیڈل ‘ ایسے غیر تربیت یافتہ شوقین افراد کے مقابلے کا پروگرام ہے جو مستقبل میں گلوکار بننا چاہتے ہیں۔ اس پروگرام میں کامیابی کا مطلب زندگی کا حاصل سمجھا جاتا ہے، جو جیتنے والے کو شہرت اور دولت کی بلندیوں پر لے جاتا ہے۔

Image caption 2009 کے امریکی پوپ آئڈل

ایک امریکی ٹی وی پر چلنے والا یہ پروگرام انتہائی مقبول شو تھا تاہم گزشتہ برس گو کہ یہ ٹی وی پر سب سے زیادہ دیکھے جانے والا پروگرام تھا تاہم 2002 کے مقابلے میں اس مقبولیت بہت کم ہوگئی تھی۔

ایک جریدے پیپلز میگزین کے مطابق جینیفر لوپز کو بارہ ملین ڈالر معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ لوپز کا ایک گانا ’love don't cost A Thing and Ain't it funny‘ گانوں کے چارٹ میں سر فہرست رہا ہے۔

پریس کانفرنس میں پروگرام میں جج بننے کا اعلان کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ ہمیں ایک مائیکل جیکسن کی تلاش ہے‘۔ انھوں نے کہا کہ ’امریکن آئیڈل کو چلتے ہوئے دس برس ہوگئے ، میرے لیے اس میں جج بنناایک بہترین موقع ہے جو باعثِ مسرت و اعزاز ہے‘۔

سٹیون ٹیلر نے کہا کہ جج کا کردار انتہائی ذمے داری کا ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کسی گلوکار کی قسمت کا فیصلہ کرنا دوسرے لفظوں میں اُس کے خواب کو چکنا چور کرنا کوئی آسان مرحلہ نہیں ’ میں مقابلے میں شریک ہونے والے کو بہت ہی محبت اور پیار سے سمجھاؤنگا کہ ہوسکتا ہے جو کچھ میں کہ رہا ہوں آپ کو پسند نہ آئے مگر اس پر غصے میں آنے کی ضرورت نہیں بلکہ خود کو بہتر بنائیے۔‘

پروگرام کے پروڈیوسرز کو توقع ہے کہ مشہور شخصیات کی شمولیت سے پروگرام اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت حاصل کرلے گا۔

اسی بارے میں