دل اجازت نہیں دیتا: ریما

ریما
Image caption ’لو میں گم‘ بحیثیت ہدایتکار ریما کی دوسری فلم ہے

پاکستان کی مقبول فلم سٹار ریما نے سیلاب کے باعث اپنی نئی فلم ’لو میں گم‘ کی نمائش کو کچھ عرصے کے لیے موخر کر دیا ہے۔ یہ فلم ستمبر میں ریلیز کی جانی تھی اور ملک کے مختلف سینماگھروں میں اس کی نمائش ہونی تھی۔

اداکارہ ریما کا کہنا ہے کہ ملک میں سیلاب نے تباہی مچا دی ہے اور ان حالات میں ان کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اپنی نئی فلم کی نمائش کریں۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق سے بات کرتے ہوئے ریما کا کہنا تھا کہ ملک میں سیلاب کی وجہ سے جو حالات پیدا ہوئے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے ان کے دل اور ضمیر نے یہ اجازت نہیں دی کہ وہ اپنی فلم ’لو میں گم‘ کو نمائش کے لیے پیش کریں۔

ریما نے کہا کہ جب ملک کے لوگ مشکل میں ہوں تو پھر فلم ریلیز کیسے کی جا سکتی ہے۔

’یہ وقت تو سیلاب سے متاثر ہونے والے افراد کی مدد کا ہے، جیسے ہی حالات بہتر ہوئے تو فلم کو ریلیز کردیا جائے گا‘۔

ریما اداکاری کے ساتھ ساتھ اب ہدایت کاری بھی کر رہی ہیں اور بطور ہدایت کار ’لو میں گم‘ ان کی دوسری فلم ہے جو ڈیڑھ برس کے عرصے میں مکمل ہوئی ہے۔

اس سے پہلے سنہ دو ہزار پانچ میں ریما نے بطور ہدایت کار اپنی پہلی فلم ’ کوئی تجھ سا کہاں‘ بنائی تھی جس کو خاصی پذیرائی ملی۔

ریما نے بتایا کہ انہوں نے اپنی فلم کا نام پہلے ’ کتنی حسین ہے زندگی‘ رکھا تھا جسے تبدیل کردیا گیا ہے اور اب یہ فلم ’لو میں گم‘ کے نام سے نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔

ریما نے بتایا کہ فلم کی شوٹنگ ملائیشا میں کی گئی ہے اور ان کی نئی فلم پاکستان کی تاریخ کی مہنگی ترین فلم ہوگی۔

فلم کے ایک گانے کی عکس بندی وسطی ایشیائی ریاست آذر بائیجان میں کی گئی ہے جس پر بقول ان کے چالیس سے پینتالیس لاکھ روپے خرچ آیا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اس فلم میں خود بھی بطور اداکارہ کام کر رہی ہیں جب کہ فلم میں ایک نئے اداکار نیبل کو متعارف کروایا گیا ہے اور علی سلیم المعروف بیگم نوازش علی بھی اس میں کام کر رہے ہیں اور یہ ان کی پہلی فلم ہے۔

ریما نے اس امکان کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنی نئی فلم ’لو میں گم‘ کو اس سال عیدالضحیٰ پر نمائش کے لیے سیمنا گھروں میں پیش کریں گی۔