روایتی اسلامی آرٹ کی جدید تشریح

Image caption جمیل پرائز کے حتمی مرحلے کے لیے منتخب کیے جانے والے فن پارے روایتی اسلامی آرٹ کا تسلسل ہیں

سعودی عرب کے مدد سے چلنے والے جمیل پرائز کے لیے منتخب شدہ نو فن پاروں کی تمام عرب دنیا میں نمائش کی جائے گی جس سے مختلف ملکوں کے درمیان کلچر کے شعبے میں تعاون کے ساتھ ساتھ روایتی اسلامی آرٹ کی جدید تشریح کرنے میں مدد ملے گی۔

نمائش کا آغاز لندن کے وکٹوریہ اور البرٹ میوزیم میں جولائی میں ہوا تھا اور اب تک ان منتخب فن پاروں کی سعودی عرب اور لبنان نمائش ہو چکی ہے۔ آج کل یہ نمائش متحدہ عرب امارات کے شارجہ میوزیم برائے اسلامی تہذیب میں ہو رہی ہے۔

جمیل پرائز کے حتمی مرحلے کے لیے منتخب کیے جانے والے فن پارے روایتی اسلامی آرٹ کا تسلسل ہیں۔

انعام حاصل کرنے والے فن پارہ ایک ایرانی نژاد فن کار افروز آمیغی نے تخلیق کیا ہے۔ یہ فن پارہ اس مواد سے تیار کیا گیا جسے مہاجرین کے لیے خیمے بنائے جاتے ہیں۔ اس مواد کو ہاتھ سے بہت پیچیدہ انداز میں کاٹا جاتا ہے جس سے کارپٹ ڈیزائن، منی ایچر پینٹنگ اور روایتی فنِ تعمیر کا تاثر ملتا ہے۔

Image caption نمائش میں شامل حسن حجاج کا فن پارہ

اگرچہ نمائش میں شامل فن پاروں کی تعداد قلیل ہے لیکن اس کا اثر بہت زیادہ ہے۔

وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم میں مڈل ایسٹ کولیکشن کے سینئر کیوریٹر ٹِم سٹینلے کے مطابق جمیل پرائز کا مقصد اس طرح کے طرزِ مصوری کی تخلیق نہیں بلکہ اس کو اجاگر کرنا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ نمائش میں مختلف طرح کے فن پارے شامل ہیں جن کو مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے فن کاروں نے تخلیق کیا ہے۔

ترکی سے تعلق رکھنے والے مصور سیوان بکاچی کے فن پارے کو بہت پسندیدگی کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں