پاکستانی فنکاروں کی شمولیت پر اعتراض

وینا ملک
Image caption وینا ملک اور علی سلیم بیگ باس میں حصہ لے رہے ہیں

مہاراشٹر کی علاقائی سیاسی جماعت شیوسینا اور مہاراشٹر نو نرمان سینا نے ٹی وی ریالٹی شو بگ باس سیزن فور میں پاکستانی فنکاروں کی شمولیت پر سخت اعتراض کیا ہے۔

اس اعتراض کے بعد پولیس نے کلرز ٹی وی چینل کے دفتر میں حفاطتی انتظامات سخت کر دیے ہیں۔

کلرز ٹی وی چینل پر اتوار کی شب بگ باس فور شروع ہوا۔ اس کی افتتاحی تقریب میں چودہ فنکاروں کو دکھایا گیا جو تین ماہ تک بگ باس فور کے گھر میں رہنے والےہیں۔

اس شو میں پاکستان کے دو فنکار وینا ملک اور علی سلیم عرف بیگم نوازش علی بھی شامل ہیں۔ اس شو کے میزبان بالی وڈ اداکار سلمان خان ہیں۔

ان دونوں کی شمولیت پر شیوسینا کے ترجمان اخبار ’سامنا‘ میں ایک آرٹیکل لکھا گیا ہے جس کا عنوان ہے ’بگ باس گھر میں پاکستانی گھس بیٹھیے ( درانداز )۔‘ اس مضمون میں لکھا گیا ہے کہ جب پاکستان ہمارے فنکاروں کو اپنے ملک میں آنے کی اجازت نہیں دیتا ہے تو پھر ہم ان کے فنکاروں کو اپنے یہاں کیوں بلاتے ہیں؟

شیوسینا لیڈر سنجے راؤت نے اس کے بعد میڈیا کو دیے گئے ایک بیان میں کہا کہ کلرز کا اپنے پروگرام میں پاکستانی فنکاروں کو شامل کرنا شرمناک ہے۔ ’وہ ہمارے دیش میں دہشت پھیلنے والوں کی حمایت کرتے ہیں اور ہمارے فلم والے اور چینل والے انہیں یہاں بلا کر ان کا سواگت کرتے ہیں۔ انہوں نے چینل کے ذریعہ ان فنکاروں کو بلانے کے عمل پر کہا کہ انہوں نے ’دیش کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔‘

راؤت نے مزید کہا کہ اگر آپ کو پاکستان سے اتنا ہی پیار ہے تو آپ پھر اجمل قصاب اور افضل گرو کو بھی بلا لیجئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سلمان خان سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا انہیں ڈر نہیں لگتا؟ اپنے اس بیان کے ساتھ ہی انہوں نے دھمکی دی ہے کہ دیکھیں یہ پروگرام تین مہینے تک کیسے چلتا ہے۔

شیوسینا کی آواز میں آواز میں ملاتے ہوئے مہاراشٹر نو نرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے نے میڈیا کو ایک بیان دیا جس میں انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کی آبادی ایک ارب سے زیادہ ہے اور کیا ہمارے یہاں فنکاروں کی کمی ہے جو ہم پاکستان سے فنکاروں کو بلاتے ہیں؟

پاکستانی فنکاروں کی مخالفت پہلی مرتبہ نہیں ہوئی ہے۔ اس سے پہلے منسے نے پاکستانی مزاحیہ فنکار شکیل صدیقی کے کامیڈی شو میں شمولیت پر کافی ہنگامہ کیا تھا۔ منسے کے ورکروں نے باضابطہ پروگرام میں خلل اندازی کی تھی اور مجبوراً شکیل کو وطن واپس لوٹنا پڑا تھا۔

اسی بارے میں