ٹی وی ڈرامہ کی حیاتِ نو

Image caption مہرین جبار کے کھیل دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ ٹی وی ڈرامے کی دنیا میں ایک خاموش انقلاب جاری ہے

پاکستان میں ٹی وی ناظرین کی جو نسل خدا کی بستی، وارث، جھوک سیال، تنہائیاں اور ان کہی دیکھ کر جوان ہوئی تھی اس کے لیے بیسویں صدی کے خاتمے پر ٹیلی ویژن کے پاکستانی چینل سُوہانِ روح بن کے رہ گئے تھے۔

اُن کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ اسلم اظہر، فضل کمال، آغا ناصر، کنور آفتاب، یاور حیات، غفران امتیازی اور محمد نثار حسین نے پاکستان ٹیلی ویژن میں ڈرامے کی جو مضبوط روایات قائم کی تھیں وہ راتوں رات مٹی میں مِل جائیں گی۔ ناظرین کو ٹی وی ڈرامے کے وہ سنہرے دِن کیسے بھول سکتے تھے جب ڈرامے کے نشری اوقات میں سڑکیں ویران ہو جایا کرتیں تھیں، جب لوگ شادی بیاہ اور سالگرہ کی تقریبات کا وقت مقرر کرتے ہوئے اس بات کا خاص خیال رکھتے تھے کہ تقریب کےاوقات کہیں ڈرامے کے اوقات سے نہ ٹکرا جائیں۔

سن ستر اور اسی کی دہائیوں میں ہر طرف پی ٹی وی ڈرامے کا طوطی بولتا رہا، البتہ جب سن نوے کی دہائی میں پرائیویٹ چینل کھلنے شروع ہوئے تو ٹی وی ڈرامے کا معیار گرنے لگا اور خود پاکستان ٹیلی ویژن بھی ڈرامے کو لاحق اس بیماری کی لپیٹ میں آگیا۔

ڈرامہ نگاروں فن کاروں اور ہدایتکاروں کی محدود تعداد کسی طرح بھی اُس تیزی سے نہیں بڑھ سکتی تھی جس تیزی سے ملک میں ٹی وی چینل بڑھ رہے تھے۔ تربیت یافتہ ڈرامہ پروڈیوسر اور ڈرامہ نگار صرف پاکستان ٹیلی ویژن کے پاس تھے چنانچہ پرائیویٹ چینلوں نے خفیہ طور پر انھی پروڈیوسروں کی خدمات حاصل کرنی شروع کر دیں۔ چونکہ یہ لوگ چوری چھپے جعلی ناموں سے پرائیویٹ چینلوں کے لیے کام کرتے تھے اس لیے کام پر پوری توجہ نہیں دے سکتے تھے اور چوبیس گھنٹے چلنے والے اِن تفریحی چینلوں کا پیٹ بھرنے کےلیے بڑی تعداد میں ڈرامے درکار تھے چانچہ درجہ دوم اور سوم کے لکھاریوں اور پروڈیوسروں کی بن آئی۔ کراچی اور لاہور میں ڈراموں کی فیکٹریاں کھل گئیں جہاں ڈبل شفٹوں میں دھڑا دھڑ کامیڈی، سِٹ کام، سیریل اور لانگ پلے تیار ہونے لگے۔

ظاہر ہے کہ اسمبلی لائن پر تیار ہونے والے اِن ڈراموں میں معیار کی تلاش بے سود تھی چنانچہ ڈرامے کے بہت سے ناظرین نے مایوس ہو کر پاکستانی ڈرامہ دیکھنا چھوڑ دیا۔

ادھر بھارت میں ٹیلی ویژن ڈراموں کی پروڈکشن کا ایک نیا دور شروع ہو چکا تھا جن میں ایک طرف ’رشتے‘ جیسی کامیاب ٹیلی فلمیں تیار کی جا رہی تھیں تو دوسری جانب رامائن اور مہا بھارت کو سلسلے وار پیش کیا جا رہا تھا۔ ایک تیسرے محاذ پر گھریلو خواتین کے لیے ساس، بہو کے ازلی تصادم پر مبنی طویل مدتی کھیل بھی شروع ہو چکے تھے جنھوں نے پاکستانی گھروں میں بھی اپنی جگہ بنالی تھی اور بیگم صاحبہ سے لے کر گھر کی نوکرانیوں تک سبھی بڑے انہماک سے یہ بھارتی سیریل دیکھتے تھے۔

لیکن آہستہ آہستہ اِن گھریلو ڈراموں کی چکا چوند بھی ماند پڑ گئی کیونکہ ساس، بہو اور نند بھابھی کے رشتے پر بنائی جانے والی کہانیوں کے تمام امکانات ختم ہو چکے تھے اور پرانی کہانیوں کی جگالی شروع ہو گئی تھی۔

ٹی وی ناظرین کی مایوسی اور بیزاری کے اس ماحول میں پاکستانی ڈرامہ ایک خاموش انقلاب کے مرحلے سے گزر رہا تھا۔

پاکستان ٹیلی ویژن کے ریٹائرڈ پروڈیوسروں کی محتاجی سے آزاد ہو کر کئی پرائیویٹ چینل ایسے نوجوان ڈرامہ نگاروں اور پروڈیوسروں کی خدمات حاصل کر رہے تھے جن کی سوچ پر پی ٹی وی کی مہر نہیں لگی ہوئی تھی۔ اِن نئے ہدایتکاروں میں سے اکثر نے بیرونِ ملک میڈیا پروڈکشن کی تربیت حاصل کی تھی۔ یہ لوگ نئے خیالات اور نئی اپروچ لیکر پروڈکشن کے میدان میں آئے تھے۔

راقم الحروف کو اس نئی تبدیلی کا احساس دو برس پہلے اُس وقت ہوا جب اس نے اتفاق سے فصیح باری خان نامی نوجوان کا لکھا ہوا کھیل ’برنس روڈ کی نیلوفر‘ دیکھا۔ اس کھیل کے ہدایتکار مظہر معین تھے اور کاسٹ میں عابد علی اور نبیل جیسے منجھے ہوئے اداکاروں کے ساتھ ساتھ حنا دِل پذیر جیسا نیا چہرہ بھی تھا جو نیا ہوتے ہوئے بھی پرانے چہروں پر بھاری تھا۔

اس کھیل کو دیکھنے کے بعد احساس ہوا کہ شاید پاکستان میں ٹی وی ڈرامے کا منظر یکسر بدل چکا ہے اور غالباً سن ستر کے عشرے والے وہ ایام لوٹ آئے ہیں جب پاکستان کے ڈراموں سے متاثر ہو کر بھارت میں پونا فلم انسٹی ٹیوٹ کے طلباء تجرباتی فلمیں بنایا کرتے تھے۔ ان میں چند ایک یہ ہیں۔

دام

دام یہ اپنی بُنت اور پیش رفت کے لحاظ سے سنہری دور کے ڈراموں کا ہم پلہ ہے۔ وہی تین چار جہتوں میں پھیلتی ہوئی کہانی جسکے ڈانڈے دسویں قسط کے آس پاس ایک دوسرے میں مدغم ہونے لگتے ہیں اور کہانی اپنے کلائمکس کی طرف بڑھتی ہے۔

پی ٹی وی کے کلاسیکی سیریل اور دام میں اگر کوئی فرق ہے تو صرف اتنا کہ انفرادی سین کی طوالت اب بہت کم ہوچکی ہے۔ پاکستان میں کلاسیکی کھیل میں تین چار منٹ لبما منظر بھی ناظرین قبول کر لیتے تھے لیکن آج کا ناظر طویل منظر کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتا اس لئے انفرادی منظر کا اوسط دورانیہ ایک منٹ کے آس پاس رہتا ہے، چنانچہ کھیل میں مناظر کی مجموعی تعداد پندرہ سولہ کی بجائے چالیس بیالیس ہو چکی ہے جس کی بدولت کھیل کا بیانیہ ہمہ وقت رواں دواں محسوس ہوتا ہے۔

اے آر وائی چینل کے لئے تیار کئے گئے اس کھیل کو عمارہ احمد نے لکھا ہے اور ہدایت مہرین جبار نے دی ہیں۔ اداکاروں میں بہروز سبز واری کا ذکر اس لیے ضروری ہے کہ انھوں نے پہلی بار ایک پڑھے لکھے، مغرب نواز شہری باشندے کی بجائے ایک تنگ نظر مُلّا کا کردار چنا ہے اور اسے انتہائی خوبی سے ادا کیا ہے۔

نئی اداکارہ نمرہ بُچہ نے ایک غریب گھرانے کی کارکن خاتون کا کردار ادا کیا ہے جو خاندان کی کفالت اور چھوٹی بہنوں کی تعلیم و تربیت کے فرائض میں الجھ کر خود شادی کی عمر سے تجاوز کرتی جارہی ہے۔

عشقِ گم شدہ

اس سلسلے وار کھیل کی مصنفہ نور الہدیٰ شاہ ہیں جو کہ سن اسی کے عشرے میں سندھی کھیل کے افق پر نمودار ہوئی تھیں اور بعد میں انھوں نے اردو کے چند شاندار سیریل تحریر کیے تھے۔

کھیل کے جواں سال ڈائریکٹر ہائصم حسین بھی بیرونِ ملک سے تربیت حاصل کر کے آئے ہیں اور وہاں سیکھی ہوئی چیزوں کو بڑی کامیابی اور قرینے سے استعمال کر رہے ہیں، ساری کہانی ایک چھوٹے سے نفسیاتی نکتے پر مرکوز ہے:

’شے کی حقیقت -- اور شے کا تصور‘

محبت جو ہمیں محض دوستی دکھائی دیتی ہے – یا دوستی جسے ہم محبت سمجھ بیٹھے ہیں۔

کھیل میں اس مخمصے کا شکار ہونے والی لڑکی کا کردار ثروت گیلانی نے ادا کیا ہے – اور بہت خوبی سے ادا کیا ہے!

جاوید شیخ نے اپنے فن کارانہ کیریئر کا آغاز ٹیلی ویژن سے کیا تھا۔ فلم نگری میں کئی برس گزارنے اور پاک و ہند کی فلموں میں گوناگوں کردار ادا کرنے کے بعد وہ اپنے ہفت رنگ تجربات کے ساتھ ٹیلی ویژن کی دنیا میں لوٹے ہیں۔ زیرِ نظر ڈرامے میں انھوں نے ایک ابنارمل خاتون کے شوہر کا کردار ادا کیا ہے، جبکہ اُن کی بیوی کا انتہائی مشکل کردار ادا کرنے کا چیلنج ثمینہ پیرزادہ نے قبول کیا ہے۔ اس کردار کی ادائیگی میں ہمہ وقت یہ خطرہ موجود تھا کہ ذہنی طور پر ابنارمل خاتون کہیں فلمی پگلی میں تبدیل نہ ہو جائے، اس لحاظ سے ثمینہ پیرزادہ کو تمام وقت ایک تنی ہوئی رسی پہ چلنا پڑا جہاں توجہ میں ذرا سا خلل اور پاؤں کی ہلکی سی جنبش انھیں میلو ڈرامے کے غار میں پھینک سکتی تھی۔

اجازت

او اب آئیے ایک زیادہ عوامی کھیل کی طرف جس میں نہ تو انسانی نفسیات کی باریکیوں کا تجزیہ ہے اور نہ ہی بیانیے میں کوئی نازک علامتی پیرایہ اختیار کیا گیا ہے بلکہ سیدھے سادے انداز میں ایک شوہر اور بیوی کی کہانی پیش کی گئی ہے۔ جن کی خوشگوار زندگی میں ’دوسری عورت‘ داخل ہوگئی ہے۔

دوسری عورت کا یہ دشوار اور پیچیدہ کردار سعدیہ امام نے اس خوبصورتی سے نباہا ہے کہ ناظرین کے منہ سے بے اختیار داد نکلتی ہے۔

اجازت نامی اس کھیل کی مصنفہ سیما غزل ہیں جو قبل ازیں خواتین کے جریدوں اور ڈائجسٹ رسالوں میں سلسلے وار کہانیاں لکھتی رہی ہیں۔ اِس وقت اُن کے لکھے ہوئے کئی سیریل مختلف چینلوں سے بیک وقت دکھائے جا رہے ہیں اور اس لحاظ سے انھیں موجودہ دور کے پاکستانی ٹیلی ویژن کی مقبول ترین مصنفہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

ڈولی کی آئے گی بارات

اور ہاں اگر آپ کامیڈی کے دِل دادہ ہیں اور سمجھتے ہیں کہ پی ٹی وی کلاسیکی کامیڈی جیسا کام دوبارہ نہیں ہوسکتا تو آپ کےلیے بھی خوش خبری ہے کہ آپ کی من چاہی کامیڈی کا بھی دوسرا جنم ہوچکا ہے۔ صبا حمید، بشرٰی انصاری، جاوید شیخ اور ثمینہ احمد کو آپ نے پرانے وقتوں میں دیکھا تھا، اب ذرا آج کے تناظر میں بھی دیکھیے۔ نوجوان مصنف واسع چوہدری نے بشرٰی انصاری کی معاونت سے جو سکرپٹ تحریر کیا ہے وہ آپکو کلاسیکی کامیڈی کی یاد بھلا دے گا۔

اس مزاحیہ کھیل کی ہدایات مرینہ خان اور ندیم بیگ نے دی ہیں۔

نیا نو دِن اور پرانا سو دِن کی مثل یہاں بالکل پوری اترتی ہے۔ پرانے لوگوں کی تازہ کاری ملاحظہ کرنی ہو تو ایورنیو پروڈکشنز کی نئی کامیڈی دیکھیئے’ڈولی کی آئے گی بارات‘

پاکستان کے ٹیلی ویژن ڈرامے میں کچھ عرصہ قبل جو خاموش انقلاب شروع ہوا تھا اس کے ثمرات اب منظرِعام پر آرہے ہیں۔ شاید اس موقعے پر یہ توقع کرنا بے جا نہ ہو کہ پاکستانی ڈراموں کے وہ مایوس شائقین جو مقامی ٹیلی ویژن سے برگشتہ ہو چکے تھے، اب آہستہ آہستہ پاکستانی چینلوں کی طرف لوٹ آئیں گے۔

اسی بارے میں