ہاؤس آف بلقیس بی بی، بغیر دروازوں کا گھر

’ہاؤس آف بلقیس بی بی میں‘ گھر کی مالکہ اور ان کی پانچ بیٹیاں نماز فجر کے لیے جمع ہیں۔ مگر چھٹے نمبر کی سب سے چھوٹی بیٹی بشرا نماز کے لیے نہیں پہنچی۔ گھر کی خادمہ بتاتی ہے کہ ’ بشرا بی بی بالکل شہزادیوں کی طرح سو رہی ہے، مگر اُس کی سانس نہیں چل رہی۔‘

سب بہنوں کی چیخیں بلند ہوتی ہیں مگر بلقیس بی بی کی گرج دار آواز بلند ہوتی ہے ’خاموش: کوئی نہیں روئےگا‘ اور جماعت نماز کے لیے کھڑی ہوجاتی ہیں۔

تماشا تھیٹر میں پیش کیے جانے والے ڈرامے ’دی ہاؤس آف بلقیسں بی بی‘ کا یہ اختتامی منظر تھا۔ ڈرامے کی کہانی پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہر جھنگ کی ایک سخت گیر جاگیردارنی بلقیس بی بی اور اُن کے چھ کنواری لڑکیوں کے گرد گھومتی ہے، جن کے دوسرے شوہر کا انتقال ہوچکا ہے۔

اس گھر میں بیٹیوں کی عمریں اس لیے ڈھل رہی ہیں کیونکہ اُن کی حثیت کے رشتے نہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے اُن کی زندگیوں میں پت جھڑ کا موسم ٹھہر گیا ہو۔

موبائل فون، فیس بک اور سکائپ وغیرہ کی سہولت نے اُن پر عائد پا بندیوں کے احساس کو مزید بڑھا دیا ہے۔ بالکل یوں جیسے گھر کی دیواروں میں کھڑکیاں تو ہیں مگر دروازے نہیں۔

لڑکیوں کی گفتگو اُن کے اندر حد سے زیادہ حبس اور گھٹن کی عکاس ہے۔

Image caption بلقیس بی بی کو اپنی بیٹیوں سے زیادہ اپنی عزت کی فکر رہتی ہے

مثال کے طور پر ایک بہن اپنی بڑی بہن جس کی امریکہ سے آئے ہوئے کزن سے منگنی ہوچکی ہے، کے بارے میں کہتی ہے ’کزن نے رشتہ محض جائیداد کی لالچ میں طے کیا ہے ورنہ اُسے بڑی عمر کی عابدہ میں کوئی دلچسپی نہیں۔‘

ماں اور بڑی بہن عابدہ جانتی ہے کہ چھوٹی بہن بشرا کے اپنے ہونے والے بہنوئی سے جنسی تعلقات ہیں۔

’ہاؤس آف بلقیس بی بی‘ بھارتی نثراد برطانوی مصنفہ سودھا بوچر نے ایک ہسپانوی ڈرامے ’دی ہاؤس آف برنارڈا البا‘ سے ماخوذ کیا ہے۔

سپین کے فریڈریکو گارشیا لورکا یہ ڈرامہ 1930 کے عشرے میں یورپ میں اشرافیہ گھرانے میں لڑکیوں پر جبر، ان کی ذہنی نشو نما کے فقدان، شخصی عدم آزادی کے گرد گھومتا ہے۔

ڈرامے کی مصنفہ سودھا بوچر تنزانیہ اور بھارت میں پلی بڑھی اور پاکستان میں بھی رہ چکی ہیں۔ ڈرامے کے پس منظر اور کردار دیکھ کر لگتا ہے کہ انھوں نے یہ ماحول بہت قریب سے دیکھا ہے۔

Image caption سب سے چھوٹی بیٹی بشرا یعنی ’خوشخبری‘ کی موت نے ڈرامے کے ماحول کو مزید اجاگر کردیا

میرے سوال کے جواب میں سودھا کہ کہنا تھا کہ یہ درست ہے کہ لندن میں یہ موضوع کسی خاص دلچسپی کا حامل نہیں رہا، یہاں کی زیادہ تر خواتین کئی عشروں کی جدو جہد کے بعد حبس اور جبر کی فصیلوں سے باہرنکل آئی ہیں۔

’لیکن میں نے پاکستان کا پس منظر اس چنا کیونکہ وھاں گزشتہ چند برسوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور آئے دن خود کش بمبار حملوں کی خبروں نے ذہنوں کو اس قدر جکڑ رکھا ہے کہ عورتوں کی حالت زار بالکل پس منظر میں چلی گئی، میرا مقصد عورت کے گرد سمٹے مسائل کو اجاگر کرنا تھا۔‘

ڈرامے میں اداکاری کا معیار اور ہدایت کاری عمدہ تھی۔

تاہم اردو زبان سے ناواقف شائقین خادماؤں کے درمیان اپنے مالکوں اور لڑکیوں کے کردار، گھر کے ماحول کے بارے میں ذومعنی جملے اور نوک جھونک سے شاید زیادہ محضوظ نہیں ہوسکے، جس کا اندازہ ہال میں بیٹھےشائقین کے رد عمل سے ہورہا تھا۔

Image caption ڈھلتی عمر کی بڑی بیٹی عابدہ جانتی ہے کہ اُس کا منگیتر اُس کی چھوٹی بہن بشرا سے چھپ کر ملتا ہے

ڈرامے کا اختتام بھی اچانک سب سے چھوٹی بیٹی بشرا کی خود کشی پر ہوتا ہے۔ گو کہ بشرا یعنی ’خوشخبری‘ کی موت ڈرامے کے تناظر میں بہت ہی علامتی تھی تاہم اُس کی ہیجانی ذہنی کیفیت پوری طرح اجاگر نہیں ہوسکی۔

سخت گیر اور کٹر مذہبی جاگیردارنی کا کردار ادا کرنے والی، عام زندگی میں بہت ہی ملنسار ایلا ارون کا تعلق راجستھان کے راجپوت گھرانے سے ہے، ایلا بالی وڈ کی ایک بڑی فلم ’جودھا اکبر‘ میں شہنشاہ اکبر کی بی انا کا اہم اور مشکل کردار ادا کرچکی ہیں۔

میرے سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’مجھے یہ کردار ادا کرنے میں قطعی کوئی دشواری نہیں ہوئی کیونکہ بلقیس بی بی کا کردار ہرجاگیر دار گھرانے میں موجود ہے چاہے وہ راجھستان کے راجپوت ہوں، یا پھر جھنگ کے جاگیر دار۔‘

اُن کی اس بات میں سوال کی گنجائش ہے؟

البتہ ایک سوال کی گنجائش ضرور ہے کہ زندگی کے سٹیج پرعموماً مرد ظالم اور عورت مظلوم کے طور پر نظر آتی ہے مگر’ہاؤس آف بر نارڈا البا‘ کی بر نارڈا اور ’ہاؤس آف بلقیس بی بی‘ کی بلقیس ظلم کی ایسی داستانیں کیوں رقم کرنے لگیں جس میں مظلوم کردار ان ہی کی ہم جنس یا وہ خود ہوتیں ہیں؟

اسی بارے میں