رات گیارہ بجے کیوں؟ حکمِ امتناعی مل گیا

وینا ملک
Image caption بھارت میں لوگوں نے خصوصاً بگ باس میں وینا ملک کے ’تولیے کو گرانے‘ اور راکھی کا انصاف کے شو میں ’بہیودہ زبان‘ کے استعمال پر شکایات کی ہیں

’وائے کام ایٹین‘ نے کلرز چینل پر دکھائے جانے والے ریالٹی شو بگ باس سیزن فور کو رات گیارہ بجے دکھانے جانے کے فیصلے کے خلاف ممبئی کی ایک عدالت سے حکمِ امتناعی حاصل کر لیا ہے۔

شو کو رات گیارہ بجے کے بعد دکھانے کا فیصلہ وزارتِ اطلاعات و نشریات نے کیا تھا جس کے خلاف ممبئی کے ایک ڈویژن بینچ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔

جسٹس ڈی کے دیشمکھ اور جسٹس این ڈی دیشپانڈے کے ڈویژن بینچ نے ’ٹی وی ایٹین‘ کی جانب سے داخل کردہ درخواست کو قبول کرتے ہوئے اس پابندی پر پیر تک حکمِ امتناعی جاری کر دیا اور اگلی سماعت بائیس نومبر تک کے لیے ملتوی کر دی۔

پامیلا بگ باس میں

بگ باس سیزن فور میں ’فحش کلمات استعمال کرنے‘ ، لڑائی جھگڑے اور ’فحش مناظر‘ پیش کرنے کے الزامات کے بعد وزارت اطلاعات اور نشریات کی مخصوص کمیٹی نے پندرہ نومبر کو ایک میٹنگ کے بعد یہ حکم جاری کیا تھا کہ ’بگ باس‘ اور امیجن ٹی پر دکھائے جانے والے ٹی وی شو ’راکھی کا انصاف‘ کو رات گیارہ بجے کے بعد دکھایا جائے کیونکہ یہ شو بچوں کے دیکھنے کے لائق نہیں ہیں۔

ممبئی میں بی بی سی کی نامہ نگار ریحانہ بستی والا نے بتایا ہے کہ وزارتِ اطلاعات و نشریات کی طرف سے حکم کےجاری ہونے کے بعد بھی بدھ کے روز بگ باس رات نو بجے ہی دکھایا گیا۔ چینل کے ترجمان کا کہنا تھا کہ انہیں اس حکم کی کوئی کاپی موصول نہیں ہوئی ہے لیکن جمرات کی صبح چینل نے عدالت سے اس پابندی کے خلاف حکمِ امتناعی حاصل کر لیا۔

بھارتی حکومت نے دو ریالٹی ٹی وی شو’ بگ باس‘ اور ’راکھی کا انصاف‘ کے پرائم ٹائم پر نشر کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔بھارتی حکومت نے نیوز چینلوں کو بھی پابند کیا ہے کہ وہ ان ریالٹی پروگراموں کی کوریج کے دوران اس کےمخصوص حصوں کو نشر نہ کریں۔

برطانوی ٹیلی ویژن چینل فور کے پروگرام بگ برادر کی طرز پر بننے والے بھارتی ریالٹی شو بگ باس میں سابق ’بے واچ‘ سٹار پامیلا اینڈرسن اور پاکستانی اداکارہ وینا ملک شرکت کر رہی ہیں۔

بھارتی وزارت اطلاعات و نشریات نے پروگرام پر پابندی کا حکم جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان پروگراموں کو دن کے پرائم ٹائم پر دکھانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور اب یہ صرف رات گیارہ سے صبح پانچ بجے تک دکھائے جا سکیں گے اور اس پر واضح طور پر لکھا ہوگا کہ یہ پروگرام صرف بالغوں کے لیے ہے۔

یہ پابندی اس وقت عائد کی گئی ہے جب پامیلا اینڈرسن اس شو میں داخل ہوئیں۔ پامیلا اینڈرسن کی بگ باس میں شمولیت کی وجہ سے اس شو کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔

Image caption پامیلا اینڈرسن پہلی مرتبہ جب بگ باس میں شرکت کے لیے پہنچیں تو انہوں نے سفید ساڑھی پہن رکھی تھی اور نمستے کہا۔ انہوں نے فرداً فرداً تمام شرکاء سے ہاتھ ملایا۔

دلی میں بی بی سی کی نامہ نگار ٹنکو رے نے بتایا کہ وزارتِ اطلاعات و نشریات کے دفتر میں شکایات کا ایک انبار لگ چکا ہے اور لوگوں نے خصوصاً بگ باس میں وینا ملک کے ’تولیے کو گرانے‘ اور راکھی کا انصاف کے شو میں ’بہیودہ زبان کے استعمال‘ پر شکایات کی ہیں۔

پروگرام کے پروڈیوسروں نے حکومتی پابندی سے متعلق لاعملی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے انہیں اس بارے میں حکومت کی جانب سے انہیں کوئی ہدایات نہیں ملی ہیں۔

پامیلا اینڈرسن پہلی مرتبہ جب بگ باس میں شرکت کے لیے پہنچیں تو انہوں نے سفید ساڑھی پہن رکھی تھی اور نمستے کہا۔ انہوں نے فرداً فرداً تمام شرکاء سے ہاتھ ملایا۔ پامیلا اینڈرسن نےگھر میں رہن سہن کے طریقوں سے آگاہی حاصل کی ۔

اسی بارے میں