اینا ماریا ماتوتے کو سروانتے اعزاز

انیا ماریہ ماتوتے
Image caption ماتوتے یہ اعزاز پاکر بے حد خوش ہیں

ہسپانوی ادیب اینا ماریا ماتوتے کو ملک کے سب سے اعلی ادبی ایوارڈ سروانتے اعزاز سے نوازہ گیا ہے۔

ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد پچاسی سالہ ادیب نے کہا کہ وہ ’بے حد خوش‘ ہیں۔

اس ایواراڈ کے ساتھ انہیں ایک لاکھ چھ ہزار پاؤنڈ کی رقم دی گئی ہے۔

ماتوتے کا شمار ہسپانوی خانہ جنگی کے بعد کے بہترین ادیبوں میں ہوتا ہے اور ان کا زیادہ تر کام جنگ کے بعد کی کشیدگی اور تنازعہ کے بارے میں ہے۔

سروانتے ایوارڈ 1975 میں شروع کیا گیا تھااور تب سے لیکر اب تک صرف تین خواتین نے یہ اعزاز حاصل کیا ہے۔

1988 میں یہ اعزار خاتون ہسپانوی ادیب ماریہ زامبرانو اور 1992 میں کیوبا کی ماریہ لویاناز کو اس اعزاز سے نوازہ گیا تھا۔

میڈرڈ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ماریا ماتوتے نے کہا ' اس اعزاز کو میں اپنی تخلیق کے معیار کی پہچان کے طور پر نہ صحیح تو اپنی محنت اور لگن کے اعتراف کے طور پر قبول کرتی ہوں'۔

انیا ماریا ماتوتے کے سب سے مقبول ناولوں میں ’لوس ایبل‘، ’سولجیئر کرائی بائی نائٹ‘، ’دا ٹریپ‘ اہم ہیں۔ ان ناولوں کا تئیس زبانوں میں ترجمہ کیا جاچکا ہے۔

ماتوتے کے ناولوں میں بچے اور نوجوان اہم کردار اد کرتےہیں۔

بچوں اور نوجوانوں کے لیے لکھے گئے ان کے ناولوں میں ’دا ٹرو سٹوری آف سلیپنگ بیوٹی‘ ، اور ’دا سٹوپڈ چلڈرن‘ اہم ہیں۔

پیرو سے تعلق رکھنے والے اور اس برس ادب کے لیے نوبل اعزاز یافتہ ادیب ماریو ورگاس یوسا نے کہا ’ماتوتے کو یہ اعزاز بہت پہلے مل جانا چاہیے تھا۔ لیکن دیر آئے درست آئے‘۔

انکا مزید کہنا تھا مجھے یقین ہے کہ اس خبر سے دنیا بھر کے پڑھنے والے خوش ہونگیں جیسے کہ میں خوش ہوں۔

یوسا کو 1994 میں سروانتے اعزاز سے نوازہ گیا تھا۔

اسی بارے میں