اوپیرا ونی کے نام

جنوبی افریقہ میں موسیقی کے ایک نئے پروگرام ’اوپیرا ‘ کے ذریعے نسلی امتیاز کے خلاف جد وجہد کرنے والی سرکردہ شخصیت ونی وینڈیلا کی زندگی کو شاندار خراج تحسین پیش کیا جائیگا۔

اوپیرا کے شو ماہ اپریل میں پریٹوریا میں شروع ہونگے۔

ونی منڈیلا کی سابق صدر منڈیلا سے علیحدگی ہوچکی ہے۔

اوپیرا کی موسیقی کی دھنیں مغربی اور روائتی افریقی موسیقی کے امتزاج سے اور انھیں ہم آہنگ کرکے تخلیق کی جائینگی، اس کے ارکسٹرا میں ساٹھ سازندے حصہ لے گے۔

حصہ لینے والے موسیقار اور سازندوں کا تعلق جنوبی افریقہ سے ہے۔

جنوبی افریقہ میں تیار اور پیش کیا جانے والا اپنی نوعیت کا پہلا اوپیرا ہوگا۔ اس کے اخراجات کی تفصیل جنوری میں جاری کی جائیگی۔

واضح رہے کہ تین برس قبل ونی مینڈی کائئ زیلا منڈیلا کے لیے ایسا ہی ایک اوپیرا ’ونی کے جذبات‘ کے نام سے کینڈا میں پیش کیا جانے والا تھا مگر کینڈا کے سرکار نے ونی کو کینڈا آنے کا ویزہ دینے سے انکار کردیا تھا۔

اوپیرا کے اس نئے شو میں جنوبی افریقہ میں پیدا ہونے والے موسیقار اور سازندے حصہ لیں گے۔

ونی مینڈی کائئ زیلا منڈیلا 1964 میں اُس وقت منظر عام پر آئیں جب اُن کے شوہر نیلسن منڈیلا کو نسل پرست سفید فام حکومت کے خلاف سیا فاموں کے حقوق مانگنے کی پاداش میں عمر قید کی سزا سنادی گئی۔

جس کے بعد ونی نے دنیا میں نسلی تقریق پر استوار جنوبی افریقہ کی حکومت کے خلاف جدو جہد کی ٹھانی مگر ونی کو 1969 میں نسلی امتیز کے خلاف اشتہارات اور دوسرا مواد شائع اور تقسیم کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔

1992 میں ونی کی شوہر سے مبینہ طور پر بے وفائی کرنے کے الزامات کی باز گشت میں کی اپنے شوہر اور ایک عہد ساز شخصیت نیلسن منڈیلا سے علحدگی ہوگئی تھی۔

تاہم نسل پرست حکومت کے خلاف سیاہ فاموں کے حقوق کی جد وجہد تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔