قدیم فن پاروں میں رنگ قدرتی

Image caption پتھر کے ان فن پاروں کو انیسویں صدی میں ان کو دریافت کرنے والے ماہر کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔

ایک نئی ریسرچ کے مطابق مغربی آسٹریلیا میں پائے جانے والے پتھر کے قدیم فن پاروں کےگہرے رنگ قدرت کا عطیہ ہیں۔

اگرچہ پتھر کے کچھ فن پاروں کے رنگ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ماند پڑ جاتے ہیں لیکن ’بریڈشا آرٹ‘ کے نمونوں کے رنگ چالیس ہزار سال گزرنے کے باوجود تازہ ہیں۔

پتھر کے ان فن پاروں کو انیسویں صدی میں ان کو دریافت کرنے والے ماہر کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔

آسٹریلیا میں کوئینز لینڈ یونیورسٹی کے جیک پیٹی گریو نے ثابت کیا ہے کہ مصوری کے یہ نمونے ابھی تک اس لیے رنگین ہیں کیونکہ ان کی سطح پر بیکٹیریا اور پھپھوندی نے ڈیرہ جمایا ہوا ہے۔

شاید اسی وجہ سے ماضی میں ماہرین کو پتھر کے فن پاروں کی صحیح عمر بتانے میں مشکل پیش آ رہی تھی۔

ریسرچ کے دوران پروفیسر جیک پیٹی گریو اور ان کے ساتھیوں نے مغربی آسٹریلیا کے کِمبرلی علاقے میں سولہ مقامات پر بریڈشا آرٹ کے اسی نمونوں کا مشاہدہ کیا۔

انہوں نے بریڈشا آرٹ کے دو قدیم ترین اقسام تاسیل اور ساش پو توجہ دی اور دیکھا کہ ان کے زیادہ تر فن پاروں پر بیکٹیریا اور پھپھوندی کے آثار تو موجود تھے لیکن پینٹ کا کوئی نام و نشان تک نہیں تھا۔

ٹیم نے اس عمل کو ’قدرت کے رنگوں‘ کا نام دیا۔

پروفیسر پیٹی گریو نے بی بی سی کو بتایا کہ قدرت کے رنگ اس عمل کو بیان کرنے کا ایک استعاراتی طریقہ ہے جس میں اصلی پینٹ کے ذرات کی جگہ بیکٹیریا اور پھپھوندی نے لے لی ہے۔

’بیکٹیریا اور پھپھوندی نامیاتی اجزاء ہیں اور اور ہزاروں سالوں تک اپنے آپ کو زندہ رکھ سکتے ہیں اور اس طرح ان فن پاروں کی تازگی بھی برقرار رہ سکتی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ بریڈشا آرٹ کے نمونوں کی صحیح عمر تعین ان کے معانی اور ارتقاء کو جاننے کے لیے بہت اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس کا فوری امکان نہیں ہے لیکن بیکٹیریا اور پھپھوندی پر مشتعمل بائیو فلم ایک راستہ ہے جس پر چل کر اس کام کو آگے بڑٌھایا جا سکتا ہے۔

’ہم نے اس پر کام تو شروع کیا ہے لیکن یہ ایک طویل پروجیکٹ ہے۔‘

اسی بارے میں