جیکسن کے پوسٹمارٹم پر شو

مائیکل جیکسن
Image caption مائیکل جیکسن کے پوسٹ مارٹم والا شو جنوری میں نشر ہونا تھا

مائیکل جیکسن کی وصیت تیار کرنے والے وکیلوں نے ڈسکوری چینل سے اس شو کو نشر نہ کرنے کے لیے کہا ہے کہ جس میں گلوکار کی لاش کے پوسٹ مارٹم کو ڈرامائی انداز میں پیش کیا جانا تھا۔

جان برانسا اور جان میکلین نے کہا ہے کہ اس شو کا مزاج اور مقصد اچھا نہیں تھا۔

ان دونوں وکیلوں نے ایک خط میں ٹی وی کمپنی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ گلوکار کی موت سے فائدہ اٹھانا چاہتے تھے۔

اس شو کا نام ’مائیکل جیکسن اٹوپسی: واٹ ریئلی کلڈ مائیکل جیکسن‘ ہے اور یورپ میں یہ جنوری میں نشر ہونے والا تھا۔

وکیلوں نے ٹی وی کمپنی کو اپنے خط میں لکھا ہے کہ ’ آپ کی جانب سے اس شو کو بنانا اور نشر کرنے کا پروگرام بھی بنانا بے حد خراب مقصد تھا اور یہ شو گلوکار کے خاندان کا دل دکھانے جیسا ہے‘۔

خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ہم مائیکل جیکسن کےگھر والوں اور ان کے مداحوں کی جانب سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ اس شو کو منسوخ کرنے کے بارے میں سوچیں‘۔

اس شو سے پہلے اس سے متعلق جو اشتہار دکھایا جارہا ہے اس میں ایک لاش کو چادر سے ڈکھا ہوا دکھایا گیا ہے اور چادر میں سے مائیکل جیکسن کا دستانہ پہنے ہوئے ایک ہاتھ دکھائی دیتا ہے۔

مائیکل جیکسن کے وکیلوں کا کہنا ہے کہ ’ڈسکوری چینل اس اشتہار کو بے حد چالاک اور کری ایٹو اشتہار سمجھتا ہے جس سے اس کو فائدہ ہوتا‘۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ڈسکوری چینل نے اس معاملے پر کچھ بھی کہنے سے انکار کردیا ہے۔

دراثناء ایک سرکاری وکیل کا کہنا ہے کہ مائیکل جیکسن کے ڈاکٹر جن پر قتل غیر عمد کا الزام ہے ان کے وکیل عدالت کے سامنے یہ کہہ سکتے ہیں گلوکار نے اپنی جان خود لی ہے۔

اسی بارے میں