گارڈ سے طبی اشیاء ہٹانے کے لیے کہا

کانراڈ مری
Image caption مائیکل جیکسن کے ڈاکٹر پر الزام ہے کہ ان کی غفلت کی وجہ سے گلوکار کی موت ہوئی

مائیکل جیکسن کے گارڈ نے عدالت میں اعتراف کیا ہے کہ گلوکار کے ڈاکٹر نے جیکسن کی موت کے فوراً بعد ان کے علاج سے متعلق اشیاء کو صاف کرنے کے لیےکہا تھا۔

گلوکار کی موت کے بعد جس پیرامیڈک یا ایمرجنسی ڈاکٹر کو بلایا گیا تھا ان کا کہنا تھا کہ گلوکار کے ڈاکٹر کانراڈ مرے نے انہیں یہ نہیں بتایا تھا کہ انہوں نے مائیکل جیکسن کو پروپوفول نامی دوائی دی تھی جس کی وجہ سے مبینہ طور پر ان کی موت ہوئی۔

مائیکل جیکسن کے گارڈ نے یہ بات ڈاکٹر مرے کے مقدمے کی سماعت کے دوران کہی ہے۔ ڈاکٹر مرے کا کہنا ہے وہ مائیکل جیکسن کی موت کے ذمہ دار نہیں ہیں۔

حالانکہ سرکاری وکیلوں کا کہنا ہے ڈاکٹر مرے کی غفلت کی وجہ سے مائیکل جیکسن کی موت ہوئی ہے۔

مائیکل جیکسن کے گارڈ البرٹو الویراز نے عدالت کو بتایا کہ جیکسن کی موت کے بعد ڈاکٹر مرے نے انہیں گلوکار کے بیڈروم میں بلایا اور بتایا کہ کچھ غلط ہوگیا ہے۔ ڈاکٹر مرے نے ان سے وہاں موجود علاج سے متعلق اشیاء ہٹانے کے لیے کہا اور ایمرجنسی ڈاکٹر بلانے کے لیے کہا۔

گارڈ کا کہنا ہے کہ اس وقت مائیکل جیکسن بستر پر لیٹے ہوئے تھے اور ان کی آنکھیں اور منہ کھلا ہوا تھا۔ ’میں نے پوچھا، ڈاکٹر مرے کیا ہوا ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں دوائیوں کا بہت برا رئیکشن ہوگیا ہے‘۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس فروری میں ڈاکٹر مرے پر قتل خطا کی فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

لاس اینجلز کی عدالت میں ڈاکٹر کونریڈ مرے پر مائیکل جیکسن کی موت کے ذمہ دار ہونے کا الزام لگایا گیاتھا تاہم اس الزام میں بد نیتی یا موت کی منصوبہ بندی شامل نہیں ہے۔

ڈاکٹر مرے نے عدالت میں اس الزام سے انکار کیا۔ فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد عدالت نے ڈاکٹر مرے کو 75 ہزار ڈالر کی ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔

لاس اینجلز کی عدالت اب اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ ڈاکٹر مرے پر مقدمہ چلانے کے لیے وکیلوں کے پاس کافی شواہد ہیں یا نہیں۔

اگر ڈاکٹر مرے پر الزام ثابت ہوجاتا ہے تو ان کو چار برس تک کی قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

اسی بارے میں