فلپ روتھ کو عالمی بُکر انعام کیوں؟

فلپ روتھ تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption فلپ روتھ کی نثر کا پیرایہ طنزیہ اور بعض اوقات مزاحیہ بھی ہوتا ہے اور وہ معاشرتی تلخیوں کو تناظر کی تبدیلی سے بیان کرتے ہیں۔

اس میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ فلپ روتھ اس وقت دنیا بھر کے ان گنتی کے ناول نگاروں میں ہیں جنھیں بڑا کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہں ہوتی۔

جب روتھ کا نام عالمی بُکر پرائز کے لیے تیرہ منتخب ناول نگاروں کے ناموں کا اعلان کیا گیا تھا تو اس وقت میں نے اس بات کا اظہار کیا تھا کہ روتھ پہلے بھی اس انعام کے لیے منتخب ہو چکے ہیں لیکن پہلا عالمی بُکر البانیہ کے اسماعیل قادرے کو اور دوسرا دو ہزار سات میں نائجیریا کے چینوا اچیبے کو دیا گیا۔

تمام تر تنقید، اختلافات اور شبہات کے باوجود نوبل انعام کے بعد عالمی بُکر انعام ادب کا دوسرا بڑا انعام ہے اور جس ادیب اور شاعر کو یہ انعام دیا جاتا ہے اس میں بڑائی کا کوئی نہ کوئی پہلو ضرور ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ یہ ناول نگار اور شاعر بڑائی کی اس منزل تک پہنچ چکے ہوتے ہیں جہاں انھیں انعام دینے سے خود انعام کے اعتبار اور ساکھ کو استحکام حاصل ہوتا ہے۔

جب پہلا عالمی بُکر انعام اسماعیل قادرے کو دیا گیا تو ان کے ساتھ متوقع لوگوں میں گبریل گارشیا مارکیز، گنٹر گراس، ڈورس لیسنگ، سال بیلو، کینزابورو جیسے ناول نگار بھی تھے جو پہلے ہی نوبل انعام حاصل کر چکے تھے۔ جب کہ دیگر میں میلان کندیرا، جان اوپڈائیک، مارگریٹ ایٹووڈ، سٹانسلا لیم، ٹومس مارٹینیز اور ای ان مکیوان بھی تھے جن کی بڑائی خرج از بحث ہو چکی ہے اور ان پر کوئی بات ہوتی ہے تو محض ذاتی پسند و ناپسند اور خصوصی ذوق اور ترجیح کی بنیاد پر ہوتی ہے۔

اسی طرح دو ہزار سات کے عالمی بُکر انعام کے حق دار نائجیریا کے چینوا اچیبے ٹھہرے تو ساتھ متوقع ادیبوں میں سلمان رشدی، خود فلپ روتھ، مارگریٹ ایٹ ووڈ، جان باویلّے، پیٹر کیری، ڈان ڈیلیلیو، کارلوس فونتیز، ڈورس لیسنگ، ای ان مکیوان، ہیری ملیسچ، ایلک منرو، مائیکل اونڈاٹیج، اموس اوز، اور مائیکل ٹورنیئر جیسے ادیب شامل تھے۔ اس لیے جب اچیبے کو انعام دیا گیا تو کسی کو حیرت نہیں ہوئی۔

چوتھے اور اس بار کے بُکر انعام میں البتہ کچھ نام ایسے ضرور تھے جو دنیا بھر میں فکشن پڑھنے والوں کے لیے ضرور نئے تھے۔

دو ہزار گیارہ کے لیے جن تیرہ ناول نگاروں کو چُنا گیا تھا ان میں چین کی وانگ اینیی اور سو تونگ، سپین کے جوان گوے ٹیسولو، برطانیہ کے جیمز کیلمین، فلپ پُلمین، اور جان لی کارے، لبنان کے امین مالوف، آسٹریلیا کے ڈیوڈ مالوف، اٹلی کی ڈاسیا مارینی، کینیڈا کے انڈیا نژاد روہنتن مستری، امریکہ کی میریلین روبنسن، اینی ٹیلر اور فلپ روتھ شامل ہیں۔

ان میں وانگ اینیی، سو تونگ، جوان گوے ٹیسولو، ڈیوڈ مالوف، ڈاسیا مارینی، اور میریلین روبنسن قدرے اتنے جانے پہچانے نہیں تھے جتنے کہ جیمز کیلمین، فلپ پُلمین، جان لی کارے، امین مالوف، روہنتن مستری، اینی ٹیلر اور خود فلپ روتھ شامل تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption فلپ روتھ دو بار عالمی بُکر انرام کے لیے نامزد ہو چکے ہیں۔ اب وہ تیسری بار اس انعام کے لیے انعام کے لیے نامزد ہوئے تھے۔

ان میں جان لی کارے کا معاملہ ذرا مختلف ہے وہ انگریزی کے انتہائی مقبول فکشن نگار ہیں لیکن جیسے اردو میں ابنِ صفی، نسیم حجازی، ایم اسلم، گلشن نندہ، رضیہ بٹ جیسے ناول نگاروں کے نام اس درجے میں نہیں آتے جس میں قراۃ العین، عبداللہ حسین، انتظار حسین اور انور سجاد ہیں اسی طرح لی کارے کا نام بھی اس درجے میں نہیں آتا جس میں وہ تمام ناول نگار ہیں جنھیں اب تک عالمی بُکر کے لیے نامزد کیا جاتا رہا ہے اور اس کا احساس خود لی کارے کو بھی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ انھوں نے خود ہی یہ درخواست کر دی تھی کہ ان کا نام متوقع لوگوں میں سے نکال دیا جائے۔

اب فلپ روتھ کو انعام دینے کا اعلان ہو چکا ہے۔ ان کی نثر کا پیرایہ طنزیہ ہوتا ہے اور وہ معاشرتی تلخیوں کو تناظر کی تبدیلی سے بیان کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کے ساتھ بھی بنیادی مسئلہ وہی ہے جو اکثر امریکیوں کے ساتھ ہے کہ ان کی دنیا صرف امریکہ ہے۔ لیکن اب چوں کہ امریکہ اور امریکیت کی چھاپ ساری دنیا پر ہی لگتی چلی جا رہی ہے تو امریکیوں کی دنیا باقی دنیا کے لیے اتنی اجنبی نہیں رہی۔

روتھ امریکہ کے بھی ان دایبوں میں شامل ہیں جو کم و بیش تما امریکی اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔ دیگر انعامات کے علاوہ انھیں دو بار نیشنل بُکر ایوارڈ مل چکا ہے۔ انیس سو ستانوے میں انھیں ’امریکن پیسٹرل‘ پر پلئٹزر انعام بھی دیا گیا۔ ان کا یہ ناول اپنے انداز میں ان کے دوسرے ان ناولوں سے قدرے مختلف ہے جو مزاح کا رنگ لیے ہوتے ہیں۔

اٹھہتر سالہ فلپ روتھ اب دنیا بھر کے ان لوگوں میں جانے پہچانے ہیں جو ادب انگریزی میں بھی پڑھ سکتے ہیں لیکن امریکہ میں تو وہ ایسے ہیں جیسے کوئی بادشاہ اپنی بادشاہت میں ہو سکتا ہے، پھر بھی انیس سو تیرانوے میں اپنی دوسری بیوی کلارے بلوم سے طلاق کے بعد وہ بالکل اکیلے رہتے ہیں۔ اپنے تمام کام خود کرتے ہیں، یہاں تک کہ اپنا کھانا بھی خود پکاتے ہیں اور خود ان کے الفاظ میں ’میں ہر طرح کی سماجی دنیا سے نکل چکا ہوں۔ تشہیر کے اعتبار سے میں گوشہ نشین جے ڈی سیلنجر اور خود تشہری کے شوقین نارمن میلر کے درمیان ہوں۔‘

اس کے باوجود وہ صبح سے شام تک اپنے گھر کے اس حصے میں رہتے ہیں جہاں وہ پڑھنے لکھنے کا کام کرتے ہیں اور رات ہوتی ہے تو گھر کے دوسرے حصے میں ایسے لوٹ آتے ہیں ’ جیسے ایک مزدور جو فکشن فیکٹری میں کام کرتا ہو۔‘

لیکن انھیں انعامات کا مستحق کیوں گردانا جاتا ہے؟ کیا اس لیے کہ ان کے کردار یہودی ہوتے ہیں؟ شاید یہ بات اہم ترین باتوں میں سے ہے کہ ان کے کردار یہودی ہوتے ہیں لیکن ایسے یہودی جو جنسی معاملات میں اتنے ہی آزاد ہوتے ہیں جتنے کہ دوسرے امریکی ہو سکتے ہیں۔ لیکن بات اتنی ہی نہیں غالباً وہ یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ ایسے لوگ جنھیں تاریخ ہراس کے ورثے کے سوا کچھ نہیں دیتی دوسرے عام لوگوں جیسی زندگی کیسے گزارتے ہیں۔

اسی بارے میں