کراچی: بربادی کی باقیات کی نمائش

بشیر احمد
Image caption بشیر احمد کی اکثر تصویروں میں سرخ ربگ غالب ہے۔

دنیا نے کتنی بربادیاں دیکھی ہیں اس کی شہادتیں تو تاریخ میں بڑی حد تک محفوظ ہیں اور ہم جب بھی چاہیں پلٹ کر ان کی طرف دیکھ سکتے ہیں لیکن کتنی بربادیاں ابھی اس دنیا کے انتظار میں ہیں اس کے بارے میں کوئی بھی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ کیونکہ کم کیے جانے کے باوجود 2010 میں وسیع تر تباہی کے حامل ایٹمی ہتھیاروں کی مجموعی تعداد 22000 تھی اور جو کم ہوئے ہیں انہیں بھی تباہ نہیں کیا گیا۔ یہ سارے اعداد شمار کبھی بھی مصدقہ تصور نہیں کیے گئے غالب گمان ہے کہ اصل صورت زیادہ گھناونی اور سنگین ہے۔

مجسمہ ساز و مصور بشیر احمد منفرد کیوں ہیں

ان ہتھیاروں میں اور کتنی کمی بیشی ہوتی ہے یا ہو رہی ہے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ لیکن ان سے اس کرۂ ارض کو کیا خطرہ ہے اسے اوّل تو فنکار محسوس نہیں کرتے اور کرتے ہیں تو ایسے کہ جیسے حاضری کا کام کر رہے ہوں۔

بشیر احمد، مصور و مجسمہ ساز بھی ہیں اور پروفیسر بھی۔ اس کے علاوہ اس وقت وہ نیشنل کالج آف آرٹس کے سربراہ بھی ہیں۔

اتوار کو کراچی آرٹس کونسل کی احمد پرویز آرٹ گیلری میں ان کی تصویروں اور مجسموں کی نمائش ہوئی۔ نمائش کا افتتاح ممتاز مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی نے کیا۔ افتتاح کے بعد بشیر احمد، مشتاق یوسفی کو جس پینٹنگ کی طرف لےگئے اس کا نام تھا: ’بدھا انڈدر دی مشروم آف ایٹم‘، غیر روایتی انداز میں بورڈ پر مکس میڈیا میں بنائی گئی 10.2 x 3.5 فٹ کی یہ تصویر ہال کے ایک کونے میں دو دیواروں پر لگی تھی، آدھی ایک دیوار پر اور آدھی دوسری پر۔ بشیر کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ تصویر 1976 میں کارنر ڈسپلے ہی کے لیے بنائی تھی۔اس تصویر کا غالب رنگ آتشی سرخ ہے اور اس میں وقت حال سے ماضی کر طرف جاتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

Image caption مصور بشیر احمد، نامور ادیب مشتاق یوسفی اور فاطمہ حسن کے سات ، مشتاق یوسفی نے نمائش کا افتتاح کیا۔

شروع کے حصے میں گوتم بدھ ہیں جو دھماکے سے پیدا ہونے والے ایٹمی بادلوں نیچے بیٹھے ہیں اور یہی سوال ہے کہ کیا دونوں کا ملاپ ہو سکتا ہے؟ کیا جنگ کے ذریعے امن حاصل کیا جا سکتا ہے؟ یہیں سے ذہن دوسری جنگِ عظیم اور ایٹم کی طرف جاتا ہے اور بشیر احمد بھی مشتاق یوسفی کو ادھر ہی لے جا رہے ہیں۔

اب جس تصویر کے سامنے ہم کھڑے ہیں اس کا بھی غالب رنگ سرخ ہے اور 3024X انچ کی اس پینٹگ میں انسانی جسم کے موہوم اور تحلیل ہوتے ہوئے عکس دکھائی دیتے ہیں۔ اس تصویر کا نام ’ڈس انٹیگریٹنگ ہیومنز‘ ہے۔

اکثر تصویروں میں سرخ اور سفید کا تناسب نو ایک کا ہے۔ سرخ رنگ جنگ، جارحیت، تشدد اور بد امنی کا رنگ ہے اور سفید امن کا۔ بشیر احمد ہمیں خطرے سے آگاہ کر رہے ہیں کہ امن صرف دس فیصد رہ گیا ہے اب بھی ہم نے کچھ نہ کیا تو نوے فیصد باقی دس فیصد کو بھی کھا جائے گا۔

بشیر احمد کی مصوری پاکستانی انداز کی نہیں ہے۔ اس میں جدید جاپانی مصوری کا سا انداز چھلکتا ہے۔ لیکن اس کا کیا جائے کہ ایٹمی تباہی کا اب تک ایک ہی حوالہ ہے۔ جاپان: ہیرو شیما اور ناگا ساکی۔ اس کے بغیر شاید اس موضوع کو مصور ہی نہیں کیا جا سکتا، یقیناً معاملہ لاشعوری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بشیر احمد نے اس تصویر میں ایٹم بم کے بعد جاپانیوں پر گزرنے والی کیفیت کو گرفت میں لینے کی کوشش کی ہے۔

ایک اور بات کہ بشیر احمد کی اس نمائش میں رکھی گئی تصویروں میں برش کا وہ کام نہیں ہے جو نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں مصوری سے مشروط خیال کیا جاتا ہے اور جس کے خلاف، اگر میں غلط نہیں تو پہلی بغاوت جیکسن پولاک نے کی تھی۔ لیکن بشیر احمد کے ہاں جیکسن پولاک کا انداز نہیں ہے۔ انہوں نے کہیں بھی رنگوں کو چھلکایا نہیں ہے اور نہ تو ان کے رنگوں میں پولاک کے رنگوں کی جارحیت ہے اور نہ ہی بشیر نے انہیں اپنی مرضی کرنے کی آزادی دی ہے۔

مصوری میں معنی یا موضوع کو بالعموم اس طرح مصور کیا جاتا ہے کہ ان کا جمالیاتی پہلو کہیں دور چلا جاتا ہے اور معنی کی برتری عیب بن جاتی ہے لیکن بشیر احمد کی ان پینٹنگس میں معنی ایسے منعکس ہو رہے ہیں کہ جمالیاتی کشش دو چند ہو گئی ہے۔ سوائے اس پہلی تصویر کے جس کا ذکر پہلے آیا ہے، ہر تصویر کوشش کے بغیر پہلے ہماری اندر اتر جاتی ہے اور پھر اپنے معنی کھولتی ہے۔

یقیناً اس کی وجہ یہ ہے کہ مصور نے موضوع اوڑھا نہیں ہے بلکہ وہ ان میں ایسے رچا ہوا محسوس ہوتا ہے جیسے انتہائی ذاتی دکھ، اور اسی سے اس نمائش میں رکھی تمام تصویروں کو ایک ایسا نیا اسلوب ملا ہے جو پاکستان میں ایک نئے سکول کی ابتدا ثابت ہو سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بشیر احمد کا کہنا ہے کہ انسان ایٹم کی اس صلاحیت سے دستبردار نہیں ہوا جو کم از کم اس کی دنیا کو تو ضرور تباہ کر دے گی۔

بشیر احمد کے لیے یہ کام یقیناً انتہائی دشوار ہوگا کیونکہ ان کی بنیادی شہرت منی ایچر کی ہے وہ اِسی کی پڑھے کڑھے ہیں۔ مصوری میں بالعموم جب ایک شناخت بن جاتی ہے تو مصور کے لیے اس میں سے نکلنا بہت دشوار ہوتا ہے لیکن غالباً 57 سالہ بشیر احمد میں اب بھی اتنی قوت اور اعتماد ہے کہ انہوں ایک نئی ابتدا کر دکھائی ہے۔

اس نمائش میں بشیر احمد کے مجسمے بھی ہیں جو اس موضوع کو زیادہ ہولناک اور زیادہ جمالیاتی انداز سے سامنے لاتے ہیں لیکن ان کے لیے ایک الگ جائزے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں