پاکستان، اصل ہیرو، ولن اور مسخرے

سیلاب ڈائری تصویر کے کاپی رائٹ

نام کتاب: سیلاب ڈائری

مصنف: وسعت اللہ خان

صفحات: 320

قیمت: چار سو روپے

سنِ اشاعت: جون 2011

ناشر: پاکستان اسٹڈی سینٹر، جامعہ کراچی۔ پی او بکس نمبر 8450 ۔ کراچی 75270

اس کتاب پر تبصرہ کرنے میں کئی دشواریاں ہیں اور ایک سے ایک بڑھ کر ہیں۔ ایک تو تازہ ترین ہے کہ میں اور وسعت اللہ دو ہزار ایک سے اکٹھے کام کر رہے ہیں۔ دوسری یہ ہے کہ ہمارے مراسم کچھ ایسے ہیں کہ جن میں روبرو بات میں زیادہ آسانی ہوتی ہے کیونکہ لفظوں کے ساتھ باڈی لینگویج معنی پر وہ سائے نہیں پڑنے دیتی جن کی وجہ سے رضی اختر شوق کو کہنا پڑا تھا:

پرتوِ شاخ کہے، سایۂ دیوار سُنے

یہ نہ ہو بات کو بازار کا بازار سُنے

تیسری بات یہ ہے کہ ’سیلاب ڈائری‘ میں ’پس منظر‘ کے عنوان سے بی بی سی اردو سروس کے ایڈیٹر عامر احمد خان جو کچھ لکھا ہے اس کے بعد میرے لیے اس پر تبصرہ کرنا کتنا دشوار ہو گا اس کا اندازہ وہی کر سکتے ہیں جو کبھی ایسی صورت سے گزرے ہوں یا جنہیں گزرنا پڑے گا۔ اس کا کچھ اندازہ آپ کو ’پس منظر‘ پڑھ کر ہی ہو گا۔

ایک بات اور ہے لیکن وہ میں پ کو آخر میں بتاؤں گا۔

Image caption ایسا موقع بھی کم لوگوں کو ملا کہ وہ کچھ سامان لے کر ہی کہیں جا سکیں

اس کتاب کے دوسرے بڑے وکیل، ڈاکٹر جعفر ہیں۔ یہ کتاب پاکستان اسٹڈی سینٹر جامعہ کراچی نے چھاپی ہے اور وہ ادارے کے ڈائریکٹر ہیں۔

عامر احمد خان اور سید جعفر دونوں مدعی وسعت اللہ اور ان کی کتاب کے وکیل بھی ہیں اور سٹیک ہولڈر بھی۔ اب بتایے کہ عامر کیسے کہہ سکتے ہیں وسعت نے سیلاب کے بعد پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور گلگت بلتستان کے اڑتیس اضلاع میں ستر دنوں راتوں اور ساڑھے چار ہزار کلو میٹر کے سفر دوران جو کچھ لکھا اور جو چند ایک آخری ڈائریوں کے علاوہ سارا ہی شایع اور نشر بھی ہوتا رہا، وہ بس گزارا تھا اور یہ بھی کہ انہوں نے اس کام کے لیے جس آدمی کا انتخاب کیا اس کے بارے میں انہیں پتہ نہیں تھا کہ وہ اس کام کے لیے اتنا کار آمد نہیں جتنا انہیں چاہیے تھا۔

یہی معاملہ ڈاکٹر جعفر کا بھی ہے۔ آپ خود پڑھ لیں انہوں نے کیا لکھا ہے: ’وسعت اللہ خان میرے زمانۂ طالبِ علمی کے دوست ہیں‘۔

رضا علی عابدی کی کتابوں ’کتاب خانہ‘، ’شیر دریا‘ اور ’جرنیلی سڑک‘ کو تاریخ و تہذیب کی زندہ امانتیں قرار دینے کے بعد وہ کہتے ہیں کہ ’میرا خیال ہے کہ وسعت اللہ خان کی سیلاب ڈائری اسی سمت میں ایک اور کامیاب کوشش اور ایک اہم ادبی و تہذیبی واقع قرار پائے گی‘۔

Image caption جس کے گھر والے بچ گئے اس نے اسی کو نعمت جانا اور جو تھا اسی میں گذارا کر لیا۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ’سیلاب ڈائری‘ ایک حادثے کی ادبی یادداشت اور تحقیقی دستاویز کے طور پر زندہ رہے گی۔

اب اس کے بعد میں کہا کہوں۔ کیونکہ ڈاکٹر جعفر کو میں تاریخ کا ڈاکٹر مبارک جیسا آدمی سمجھتا ہوں۔ وہ ایسے بے لاگ ہیں جیسا کہ تاریخ اور تاریخ سے متعلق کام کرنے والے آدمی کو ہونا چاہیے اور وہ اس بات کو مجھ سے زیادہ بہتر طور پر جانتے ہیں کہ جب آپ مستقبل کے بارے میں پیش گوئی کرتے ہیں تو خود کو داؤ پر لگاتے ہیں اور یہ وہ داؤ ہے جو تاریخ کا فہم رکھنے والا محض دوستی کی بنا پر نہیں لگا سکتا۔

جہاں تک میرا معاملہ ہے تو وسعت اللہ کتاب چھپنے کے سوا مجھ سے ہر معاملے میں سینئر ہیں۔ پیدا وہ میرے بعد ہوئے لیکن عمر ان کی مجھ سے کہیں زیادہ ہے۔ صحافت میں وہ میرے بعد آئے لیکن تجربہ ان کا مجھ سے زیادہ اور نادر ہے۔ ادب کا روگ بھی انہیں بعد میں لگا لیکن ان کا مطالعہ، فہم اور تخلیقی قوت مجھ سے کہیں زیادہ ہے۔ پھر سفر کا جنون اور مجلسی زندگی کی لت انہیں ایسی ہے کہ اگر بیابان میں بھی چھوڑ دیا جائے تو ویرانی مسائل بانٹنے لگے گی۔

وسعت اللہ کے بارے میں یہ باتیں میں ایک عرصے سے جانتا ہوں لیکن انّا گیری کی وجہ سے اب تک کہنے کا حوصلہ نہیں ہوا تھا۔

Image caption امداد کا حال ایک انار سو بیمار کا سارہا

وسعت اللہ نے اپنے بارے تھوڑا سا اس کتاب میں بھی بیان کیا ہے۔ انہوں نے جنگ زدہ خطوں کی بھی رپورٹنگ کی ہے اور بحرانوں کی بھی۔ ان موقعوں کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں نے بہت بہت اچھی کتابیں دی ہیں اور مجھے وسعت اللہ میں ہمیشہ ایک ریشارڈ کاپوشنشکی Ryszard Kapuściński دکھائی دیا ہے۔ جسے میں اس حوالے سے سرفہرست لوگوں میں گنتا ہوں۔

یہ وہ ڈائریاں ہیں جو وسعت اللہ نے ستر روزہ سفر کے دوران لکھیں اور مسلسل شائع اور نشر بھی ہوتی رہیں۔ ان میں سے اکثر میں ایڈٹنگ اور بعض اوقات پروفنگ کے دوران بھی پڑھ چکا تھا جب یہ آن لائن پر شائع ہو رہی تھیں لیکن اب جو کتابی شکل میں پڑھی ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ یہ ڈائریاں نہیں تھیں۔ وسعت نے سیلاب کے بارے میں پہلے سے ایک کتاب لکھ کر رکھی ہوئی تھی جسے وہ تاریخ وار بھیجتے رہتے تھے۔

بہت عمدہ شائع ہونے والی اس مجلد کتاب کی قیمت کچھ زیادہ تو نہیں ہے لیکن وسعت اللہ کے عاشقوں کی بڑی تعداد کے لیے تھوڑا سا امتحان ضرور ہو گی اس کا ایک پیپر بیک ایڈیشن بھی شایع ہونا چاہیے اور جلد ہونا چاہیے۔

Image caption جہاں پانی نے مہربانی کی وہاں سے جلد ہی کسی اور سمت چل دیا

یہ ایڈیشن تو بہت جلد فروخت ہو جائے گا۔ کیونکہ اس کتاب میں سیلاب ہے اور سیلاب کی پوری زندگی ہے پیدائش سے موت تک اور موت کے بعد کی بھی۔ اس میں سیلاب کی تاریخ، جغرافیہ، سماجیات، نفسیات، معیشت اور سیاست ہے اور پھر جغرافیے کا جغرافیہ، سماجیات کی سماجیات، نفسیات کی نفسیات، معیشت کی معاشیات، سیاست کی سیاست اور تاریخ کی تاریخ ہے۔

اس میں ایک پاکستان ہے اور اس کے اصل ہیرو ہیں، ولن ہیں اور مسخرے بھی۔ اس اعتبار سے یہ ایک فلم اور ناول بھی ہے۔ اب چونکہ یہ ہیرو، ولن اور مسخرے تخیلاتی نہیں ہیں اس لیے آپ اسے دستاویزی فلم بھی کہہ سکتے ہیں۔ ایک ایسی دستاویزی فلم جس میں کوئی وائس اوور نہیں ہے ہر کلپ دوسرے کلپ سے جڑا ہوا ہے اور اس کو آگے بڑھاتا ہوا ہے۔

اور ایک بات جو مجھے آخر میں بتانی تھی: میں وسعت کو جانتا تو تھا لیکن ایک دن میرا رشک، حسد میں بدل جائے گا، اس کا اندازہ نہیں تھا۔

اس کتاب میں پروفنگ کی غلطیاں عورتوں، بچوں اور غیر اہم واقعات سے بھی کم ہیں لیکن ایک بہت بڑی ہے اور یہ کہ یہ کتاب پہلی بار 2010 میں شائع ہوئی تھی۔ جب کہ پہلی ڈائری سنیچر، سات اگست 2010 کی ہے۔

اب آپ کتاب شروع کریں اور ختم کرنے کے بعد آنکھیں بند کر لیں اور آپ کو کراچی سے عطا آباد تک سب دکھائی دینے لگ جائے گا لیکن اگر آپ وسعت اللہ کے راستے پر عملاً چلنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو یاد رکھیں کہ ٹریول ایجنٹ پر اعتبار نہیں کرنا۔

اسی بارے میں