کانگاں کا ایک تاریخی ساز کام

کانگاں، وارث شاہ نمبر تصویر کے کاپی رائٹ

نام کتاب: کانگاں، وارث شاہ نمبر

شمارہ: اپریل تا جون 2011

مدیر: محمدافضل راز

صفحات: 864

قیمت: 700 روپے

ناشر: افضل راز روزن بلڈنگ، ریلوے روڈ گجرات۔ رابطہ: dailyrozan@gmail.com

مجھے نہیں پتہ کہ دوسری زبانوں میں بڑا شاعر ہونے کا امتحان کیا ہوتا ہے لیکن پنجابی زبان میں اس کا امتحان ہے اور یہ امتحان ہیر لکھنے کا ہے۔ اگر کوئی شاعر ہیر کی داستان لکھے اور وارث شاہ کی طرح اپنے زمانے کی ثقافت، معیشت، سیاست، فلسفہ، تصوف، نفسیات اور انسانی رشتوں کو بیان کرتے ہوئے اس داستان کو ایک نیا روپ دینے میں کامیاب ہو تو کوئی بھی اس کی بڑائی سے انکار نہیں کر سکے گا۔

یہ امتحان کسی نے طے نہیں کیا لیکن لگتا ہے کہ از خود طے پا گیا اور شاید اسی بنا پر وارث شاہ کی ہیر، بڑی ہیر کہلاتی ہے۔ بڑی ہیر کی اصطلاح ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اور ’ہیریں‘ بھی ہیں اور اس کے تاریخی شواہد بھی ہیں۔

ہیر کے ایک محقق یاسر ذیشان مغل کا کہنا ہے ’ہیر پنجابی زبان کی ایک ایسی داستان ہے جسے سب سے پہلے منظوم کیا گیا‘ یعنی پہلے یہ داستان منظوم نہیں تھی۔ شاعری کا یہ کارنامہ نثر میں تھا۔ مغل کا کہنا ہے کہ مغل عہد کے ہری داس ہریا نے پندرھویں اور سولہویں صدی میں اس داستان کو پہلی مرتبہ پنجابی میں منظوم کیا۔ اس کے بعد اکبر کے درباری شاعر گنگ بھٹ نے اسے ہندی میں ڈھالا، دسویں صدی ہجری میں اسے فارسی میں منتقل کیا گیا اور اس کے بعد ہی اسے دمودر نے اسے پنجابی میں تالیف کیا۔

شاہ جہاں کے دور میں اس داستان کو دو مختلف لوگوں نے فارسی میں منتقل کیا، ایک نے ’قصہ دلپذیر‘ کے نام سے اور دوسرے نے ’مثنوی ہیر رانجھا‘ کے نام سے۔ عالمگیر کے دور میں بھی کئی شعرا نے اس پر طبع آزمائی کی، جن میں سرِ فہرست کوی احمد گجر تھے جنہوں نے 1682 میں اسے ایک بار پھر پنجابی کی شکل دی۔ یہ سلسلہ مسلسل جاری رہا ہے۔ وارث شاہ سے پہلے حافظ شاہجہاں مقبل غالباً اس قصے کو پنجابی میں بیان کرنے والے آخری شاعر تھے۔

ہیر اور وارث شاہ سے متعلق ان باتوں اور ایسے ہی کئی گوشوں کا انکشاف مہینا وار ’کانگاں‘ کے وارث شاہ نمبر میں شامل مضامین سے ہوتا ہے۔ اسی سی یہ انکشاف بھی ہوتا ہے کہ وارث شاہ کے بعد بھی ہیر رانجھے کی اس داستان کو بیان کرنے کا سلسلہ جاری رہا لیکن کوئی بھی ہیر کیونکہ ’وڈی ہیر‘ کو نہیں پہنچ سکی اس لیے ان سب کو ہیر کی نقلیں کہا گیا۔

یہ ادب کا معیار ہے۔ اگر آپ تاریخ میں پہلے سے موجود کسی متن کو زیادہ تخلیقی قوت سے پیش نہیں کر سکتے تو آپ کی کوشش چوری یا نقل کے زمرے میں آئے گی۔

میرے خیال میں، کانگاں کا وارث شاہ نمبر اگرایک انتہائی با کمال کارنامہ نہیں ہے تو ایک اہم ترین کام ضرور ہے۔ اس میں کل تیراسی مضامین ہیں جن میں سے بارہ اردو میں، دو انگریزی میں، دو گورمکھی میں اور دو گورمکھی سے شاہ مکھی میں کیے گئے ہیں۔ جب کہ پانچ شاعروں نے شعری خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

شاہ مکھی کے لکھنے والوں میں محمد شفیع بلوچ، زاہد اقبال، تنویر اعظم، ڈاکٹر سید اختر جعفری، شریف کنجاہی، زبیر احمد، پروفیسر ایوب، اکبر علی غازی، پروفیسر محمد ایوب، محمد انور رانا، ڈاکٹر حفیظ احمد، عزیز اللہ وارثی، مسعود چودھری، پروفیسر زہیر کنجاہی، صدیق تاثیر، خان محمد ساجد، ڈاکٹر نبیلہ رحمٰن، پروفیسر شارب انصاری، مجید خاور میلسی، محمد علی فریدی، ڈاکٹر مولوی محمد شفیع، چوہدری علی محمد خان، پروفیسر حمید اللہ ہاشمی، محمد اکرم سعید، زاہد اقبال، پروفیسر ناصر رانا، ڈاکٹر صغرا صدف، ڈاکٹر محمد ریاض شاہد، غلام رسول آصف، عزیز اللہ وارثی، قدر آفاقی، منشا یاد، ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد، شاکر کنڈان، صدیق تاثیر، تنویر ظہور، ڈاکٹر عابدہ حسین، ڈاکٹر مجاہدہ، احسان باجوہ، نصیر احمد، اعزاز احمد آذر، عبدالرزاق، وسیم گردیزی، خالد ہمایوں، ڈاکٹر افضل شاہد، ڈاکٹر سید اختر حسین، شوکت مغل، ملک غلام فرید شوکت، ڈاکٹر شوکت علی قمر، ڈاکٹر جگتار، رمن لدھیانوی، سکھ دیو سنگھ سرسا، ایس ایچ مانگٹ، ّاکٹر راشد حمید، ڈاکٹر کرنیل سنگھ تھند، اپبال ماہل، کہر شریف، ڈاکٹر گوردیو سنگھ سدھو، سفیر رامہ، ڈاکٹر منظور اعجاز، صدیق تاثیر، ڈاکٹر دھرم سنگھ اور ڈاکٹر طاہر تونسوی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption وارث شاہ ایک ایسے بڑے شاعر ہیں جن کا مقابل کئی زبانوں کو میسر نہیں

گورمکھی میں مضامین ڈاکٹر بلوندر کور سدھو، ڈاکٹر ستش کمار ورما، نے لکھے ہیں۔ جب کہ انگریزی کے مضمون لکھنے والےعبداللہ حامی اور ڈاکٹر منظور اعجاز ہیں۔ اردو میں چار مضامین علامہ عرشی امرتسری نے اور باقی ارشد پنجابی، شہباز رحمٰن فاروقی، آغا گُل، یاسر ذیشان مغل، طاہرہ رباب، امجد طفیل، احسان اللہ طاہر اور شفقت تنویر مرزا نے تحریر کیے ہیں۔

ان مضامین ہیر اور سید وارث شاہ کے دور، فکر اور زندگی کے ہر پہلو کا جائزہ لیا ہے اور ہر موضوع کے بارے میں پڑھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ اس پر پورا تھیسس یا ایک کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ اگر لکھنے والے اس تقاضے کو پورا کرتے تو یہ نمبر اسی ضخامت کی ساٹھ سے زیادہ جلدوں پر مشتمل ہوتا۔

وراث شاہ نمبر سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ پنجابی میں بھی تنقید پر مردوں کی اجارہ داری ہے۔ اتنے سارے لکھنے والوں میں صرف چھ خواتین ہیں۔ پتہ نہیں دنیا بھر کر عورتوں کو کب یہ احساس ہو گا کہ زبان اور تخلیق تو ہیں ہی ان کے میدان۔

جوں جوں آپ ’کانگاں‘ کے وارث شاہ نمبر میں شامل مضامین پڑھیں گے تو آپ کے دل سے یہ آواز اٹھے گی اور بلند سے بلند ہوتی جائے گی کہ سید وارث شاہ ہیر نہ لکھتے تو بھی پنجابی شاعری ہوتی، مگر اِس قامت کی نہ ہوتی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ تاریخِ اردو ادب کے ایک اہم موّرخ رام بابو سکسینہ کو یہ لکھنا پڑا: ’افسوس کہ اردو زبان میں کوئی وارث شاہ پیدا نپیں ہوا‘۔

کانگا کا یہ نمبر مجلد ہے۔ عمدہ شایع ہوا ہے۔ پروف کی غلطیاں انتہائی کم ہیں لیکن اسے جس نیوز پرنٹ پر شایع کیا گیا ہے وہ اس کے شایانِ شان نہیں۔ یہ نمبر وارث شاہ پر کام کرنے والوں کے لیے ایک اہم حوالہ ثابت ہو گا، اسے ایسے کاغذ پر شایع ہونا چاہیے تھا کہ ساٹھ ستر سال کی مار سہ سکتا۔ اس صورت میں اس کی قیمت انتہائی مناسب ہے۔ یہ ایک ایسا کام ہے کہ اسے تمام لائبرییوں میں ضرور محفوظ کیا جانا چاہیے اور اگر یہ بھی نہیں ہو سکتا تو ان تمام مضامین کو آن لائین ضرور ہو جانا چاہیے۔

اسی بارے میں