’تجزیات‘ کیوں جاری رہنا چاہیے؟

 تجزیات تصویر کے کاپی رائٹ

نام: ماہنامہ تجزیات، اسلام آباد

مدیر: محمد عامر رانا

صفحات: 188

قیمت: ایک سو روپے

ناشر: محمد عامر، پوسٹ بکس نمبر 2110 اسلام آباد۔ ویب: www.tajziat.com

کوئی سال ڈیڑھ سال پہلے میں نے پہلی بار ’تجزیات‘ کا ایک شمارہ دیکھا تھا۔ تب چوں کہ مجھے جلدی تھی اس لیے میں کتابیں اور رسالے خریدتا اور رکھتا جا رہا تھا کہ لندن میں جا کر پڑھوں گا لیکن جب روانگی کا وقت آیا تو سفر کے دوران پڑھنے کے لیے میں جو دو کتابیں رکھیں ان میں ایک ’تجزیات‘ تھا۔

جب میں تجزیات پڑھ لیا تو سب سے پہلے مجھے انقلاب ماتری مرحوم بہت یاد آئے۔ انہوں نے 1993 میں جب کراچی سے روزنامہ پبلک نکالا تو مجھے اس کا ایڈیٹر منتخب کیا۔ پانچ سال بعد پبلک بند ہو گیا، میں امروز اور پھر کائنات نکالنے کے لیے چلا گیا لیکن ماتری صاحب سے رفاقت ختم نہیں ہوئی۔

اس دوران ماتری صاحب جب بھی ملتے ہمیشہ ایک اردو ماہنامہ نکالنے کی بات کرتے۔ ہم دونوں کو انگریزی کے ماہنامے ہیرالڈ اور نیوز لائن پسند تھے کیونکہ یہ خبر کی نہیں، خبر کے پیچھے اور خبر سے آگے کی پالیسی پر چلتے ہیں۔ میں انہیں کہتا تھا وہ ضرور اردو میں ایسا رسالہ نکال لیں لیکن اس کی مشکلات بھی ذہن میں رکھیں۔ ایک تو یہ کہ وہ سب کچھ جو انگریزی میں برادشت کیا جاتا ہے اردو میں برداشت نہیں کیا جائے گا اور دوم، اردو میں ایسے لکھنے والے بہت ہی کم ہیں جو ہر بات کو بیان کرنے کے لیے ہر سطح پر سمجھ میں آنے اور اور برداشت کی جا سکنے والی زبان پر بھی دسترس رکھتے ہوں۔ اس کی مثال کے طور پر میں پبلک کے صبح اور شام کے ایڈیشنوں سمیت پانچ اخباروں کی بندش کا ذکر کرتا۔ اس کے علاوہ میں ایسے اردو ماہنامے کی فیزایبلٹی کی بھی بات کرتا، مجھے یقین تھا کہ ہیرالڈ اور نیوز لائن کو جو اشتہار ملتے ہیں وہ اردو ماہنامے کو کسی صورت نہیں ملیں گے۔

تجزیات پڑھنے کے بعد مجھے یہ ساری باتیں پھر سے یاد آ رہی تھیں، ایک بات تو صاف تھی کہ اس میں کوئی اشتہار نہیں تھا۔ اس لیے پہلا خدشہ تو یہی محسوس ہوا کہ اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو اس رسالے کا زیادہ عرصے جاری رہنا ممکن نہیں ہو گا۔ جہاں تک مواد کا تعلق تھا تو اس ایک تہائی حصہ ترجموں پر مبنی تھا اور اس میں کوئی خرابی بھی نہیں تھی کیونکہ انگریزی میں شائع ہونے والا مواد اکثریت کے لیے تو غیر مطبوعہ ہی رہتا ہے اور اسی لیے ممنوعات کا تعین کرنے والے انگریزی کی آزادی کو برداشت بھی کرتے ہیں۔ ایک سابق سکریٹری اطلاعات کے مطابق ’ انگریزی میں بات ڈرائینگ روموں کی حدود اور چائے کی پیالیوں سے اٹھنے والی بھاپ سے اوپر نہیں اٹھتی‘۔

خاکم بہ دہن، تجزیات کے بارے میں مجھے اپنے خدشات کچھ کچھ حقیقت بنتے محسوس ہوتے ہیں۔ جنوری 2011 تک تجزیات کے شمارے باقاعدگی سے ہر مہینے آتے رہے، فروری مارچ 2011 کا شمار اکٹھا کیا گیا۔اس سے اگلا شمارہ تین مہینے کا تھا اور زیر نظر شمارہ بھی جولائی تا ستمبر 2011 تین مہینے پر مبنی ہے۔ اے بی سی ہونے کے باوجود، اس میں بھی، کوئی اشتہار نہیں ہے۔ یہی بات خدشوں کو تقویت دیتی ہے۔ پرنٹ میڈیا اور پاکستانی سیاست کو جاننے والے اس رسالے کو دیکھتے ہی بتا سکتے ہیں کہ سامنے اور پسِ پردہ حکومت، تجزیات سے خوش نہیں ہے اور یقیناً تجزیات کی انتظامیہ کو بھی مشتہرین کو رجھانا نہیں آتا۔ انہیں یہ بات بھولنی نہیں چاہیے کہ اگر بہت اچھا کام بھی کاروباری اعتبار سے کامیاب نہیں ہو گا تو جاری نہیں رہے گا۔

زیر نظر شمارے میں بھی صفحہ دو سے صفحہ 187 تک ایک ایک تحریر پڑھنے اور غور کرنے کے قابل ہے۔ ’ایک مشکل توازن‘ کے عنوان سے لکھے گئے ادارتی نوٹ میں پاکستان کے داخلی حالات اور خارجہ پالیسی کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پہلے حصے میں ایمن الظواہری خلافت کا منتظر، عدالتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت، پاک افغان تجارتی روابط کا فروغ: وقت کی اہم ضرورت اور زبان پر سیاست: ماضی حال مستقبل۔

اس شمارے کا ایک اہم ترین حصہ، فکر و نظر کے عنوان سے قائم کیا گیا ہے اور اس حصے میں وہ تجزیے ہیں جو اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد امریکی سینیٹ اور اس کے ذیلی اداروں میں ان ماہرین نے پیش کیے جو نہ صرف پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات کے ماہر تصور کیے جاتے ہیں بلکہ اس خطے میں تشدد اور شدت پسندی کے عوامل، محرکات اور انہیں جاری رکھنے والوں پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔ امریکی کانگریس میں پیش کیے جانے والے ایسے تجزیوں کو شہادتیں کہا جاتا ہے اور انہیں حسب ضرورت پالیسی سازی کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption تجزیات کی ویب کے پہلے صفحے کا عکس

اس حصے کے عنوانات دیکھ کر ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس میں کیا کیا ہو گا۔ ’لشکرِ طیبہ سے عالمی برادری کو درپیش خطرات‘، ’اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے تناظر میں امریکی پالیسی کا تجزیہ‘، ’پاک امریکہ تعلقات‘، ’تبدیلی کے عمل سے دوچار پاکستان اور افغانستان میں فعال القاعدہ، طالبان اور دیگر عسکریت پسند گروہ‘ اور ’پاکستان 2020 بہترین مستقبل کی سوچ‘۔

اس کے بعد ایک خصوصی مطالعے کے عنوان سے بنائے گئے حصے میں، ’پُرامن اور متوازن معاشرے کے قیام میں علما کا کردار‘، ’امن، برداشت اور توازن کو کیسے فروغ دیا جائے‘، ’متوازن فکر اور مدارس کا کردار‘، ’برداشت کے کلچر کو کیسے فروغ دیا جائے‘ اور ’بد امنی اور عدم توازن کے محرکات اور ان کا تدارک‘۔ان عنوانات سے خود علما نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔

زاہد حسین نے سلطان باہو کی زندگی کے بارے میں ایک عمدہ مضمون لکھا ہے، نقطۂ نظر کے تحت آغا گل کا مضمون تاثراتی ہونے کے باوجود بلوچستان کی داخلی صورتِ حال کے بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے۔ مدارس کے نصاب کے بارے میں ابو رجال اور پاک افغان سرحدی علاقوں میں طالبان اور شدت پسندوں کے حملے کے بارے میں ضیا الرحمٰن کے جائزے انتہائی جامع اور گہرے ہیں۔

اس سب کے باوجود اس کی قیمت صرف سو روپے ہے جو اسے عام کرنے کے لیے زیادہ اور زندہ رکھنے کے انتہائی کم ہے۔ پاکستان میں یہ تقاضا اور بات تو ہر سطح پر کی جاتی ہے کہ نیچے کی سطح پر بات پہنچائی جائے لیکن یہ تقاضا اور بات کرنے پر سیمیناروں اور دوسرے اخراجات میں جو رقم استعمال کی جاتی ہے اس کا عشرِ عشیر بھی اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے خرچ نہیں کیا جاتا۔ شاید پاکستان کے پالیسی ساز اس طرح کی ساری باتیں کرنے کے لیے نہیں ’کسی‘ کو سنانے کے لیے کرتے ہیں۔

تجـزیات نے اپنے گزشتہ شمارے ویب پر بھی دستیاب کر دیے ہیں اور کسی قیمت کے بغیر انہیں پڑھا جا سکتا ہے لیکن اس طرح کا مواد پڑھنے والوں کو یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ ’تجزیات‘ کو ایک یاد میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ تجزیات میں صرف ایک کمی ہے۔ جو مضامین ترجمہ کیے گئے ہیں ان میں ماخذوں کے نام تو دیےگئے ہیں تاریخِ اشاعت نہیں دی گئی۔ اس طرح کانگریس میں شہادتوں کی تاریخیں بھی دی جائیں تو اس سے حوالوں کو تقویت ملتی ہے۔

مجموعی طور پر تجزیات میں ایک انتہائی سنجیدہ رسالہ ہے اور اسے ان لوگوں تک پہنچنا اور پہنچتے رہنا چاہیے جو اردو میں سنجیدہ مواد پڑھنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں