’لومنگ ٹاورز‘ نائن الیون کے اہم کردار

’دی لومنگ ٹاورز: القاعداز روڈ ٹو نائن الیون تصویر کے کاپی رائٹ

گذشتہ دو دہائیوں کے دوران دنیا کو تبدیل کرنے والے واقعات اور لوگوں کی اگر کوئی فہرست بنائی جائے تو یقیناً ان میں نائن الیون کا سانحہ اور اسامہ بن لادن نام سب سے اوپر ہوں گے۔

اسامہ بن لادن اب ہلاک ہو چکے ہیں اور ان کے بارے میں بہت سی تفصیلات بھی آ چکی ہیں پھر بھی نائن الیون اور اسامہ کے بارے میں پایا جانے والا تجسس ختم نہیں ہوا۔ شاید لوگوں کو اب تک یقین نہیں آتا کہ دنیا کے سب سے بڑے ملک میں جو ہر اعتبار سے جدید ترین سہولتوں اور وسائل سے لیس ہے کیسے انیس بیس لوگ گھس کر دہشت گردی کی ایسی کارروائیاں کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں اور اس ملک کے وہ ادارے جو دنیا بھر میں حکومتوں کے تختے الٹنے یہاں تک کہ حکمرانوں تک کو اغوا کرنے میں مہارت رکھتے ہیں ان گنتی کے چند لوگوں کے سامنے بے بس رہتے ہیں۔

لوگ اب بھی گیارہ ستمبر کو امریکہ میں ہونے والے حملوں کی ایک ایک تفصیل جاننا چاہتے ہیں اور یہی تجسس ان کا اسامہ بن لادن کے بارے میں ہے۔

اس تجسس کو سامنے رکھتے ہوئے بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں لیکن بہت کم لوگ ہوں گے جن کی ان تمام کتابوں تک رسائی ممکن ہوئی ہو پھر بھی جو کتابیں انگریزی میں لکھی گئی ہیں وہ ضرور اکثر لوگوں کے علم میں ہیں۔

کئی اداروں اور لوگوں نے اپنے اپنے طور پر اس سانحے کے بارے میں لکھی جانے والی بہترین اور مقبول کتابوں کا انتخاب کیا ہے اس انتخاب میں سرِفہرست آنے والی کتابوں میں ایک کتاب لارنس رائٹ کی The Looming Tower: Al Qaeda's Road to 9/11 ’دی لومنگ ٹاورز: القاعداز روڈ ٹو نائن الیون‘ ہے۔ اس کتاب کو نائن الیون کے بارے میں سرکاری رپورٹ کے بعد سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہے۔

لارنس رائٹ امریکی جریدے نیویارکر کے رپورٹر رہے ہیں۔ نائن الیون کے بعد انہوں نے ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کی کہ نائن الیون کا سانحہ کیسے رونما ہوا؟ اسامہ بن لادن نے سینکڑوں یا ہزاروں کو کیسے اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ امریکہ کے خلاف لڑائی اور جانیں دینے پر تیار ہو جائیں؟ خود اسامہ کو کس بات نے یہ جنگ شروع کرنے پر متحرک کیا؟ اسامہ بن لادن اصل میں کون تھے؟ امریکہ کے خلاف ان کی نفرت کہاں سے اور کیسے شروع ہوئی؟ کیسی پرورش تھی جس نے انہیں اتنا بے خوف اور نفرت بھرا انسان بنا دیا؟ ان کی ذاتی زندگی کیسی تھی؟ وہ اپنے بچوں کے لیے کیسے باپ تھے؟ خود ان کے والدین کیسے تھے؟ کیا وہ اپنی زندگی میں ایک عام انسان بھی تھے یا نہیں؟ اور کس بات نے اسامہ بن لادن کو اسامہ بنایا؟

رائٹ نے اس کتاب کو لکھنے کے لیے عام رپورٹروں کے مقابلے میں قدرے مختلف انداز اختیار کیا۔ وہ اس کےلیے سعودی عرب میں اسامہ بن لادن کے آبائی شہر میں جا کر رہے تا کہ اس ماحول اور حالات محسوس کر سکیں جن میں اسامہ نے پرورش پائی۔ اس کے لیے انہوں نے ساڑھے پانچ سو لوگوں سے انٹرویو کیے جن میں مجاہدین، سیاستدان، خفیہ اداروں کے ایجنٹ، محققین، ماہرین اور کسی بھی حوالے سے القاعدہ اور اسامہ بن لادن سے تعلق رکھنے والے ہر طرح کے لوگ شامل تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے القاعدہ اور اسامہ کے بارے میں تمام تحریروں، تقریروں، کتابوں، رسالوں اور پمفلٹوں تک کا مطالعہ کیا۔ انہوں نے افغانستان، پاکستان، سعودی عرب، اور مصر سمیت کئی ملکوں میں کافی عرصہ گذارا۔

لومنگ ٹاور ارب پتی اسامہ کے مذہبی شدت پسند بننے کے بارے میں بہت کچھ بتانے کے ساتھ یہ بھی بتاتی ہے کہ مکہ، مدینہ اور بیت المقدس یا یروشلم میں تین مقدس عبادت گاہوں کی تعمیر کرنے والا یہ آدمی کبھی کبھی ایک ہی دن میں تین عبادت گاہوں میں جاتا اور نمازیں ادا کرتا تھا۔

جہاد شروع کرنے سے قبل وہ پیغمبرِ اسلام کی طرح ہر پیر اور جمعرات کو روزہ رکھتا تھا۔ اپنی تعمیراتی کمپنی کے مزدوروں کے ساتھ کھانا کھاتا تھا اور اپنے گھر پر ہونے والے دعوتوں میں مہمانوں کے بچے ہوئے کھانے میں سے بھی کھانے کو بھی معیوب نہیں سمجھتا تھا۔

رائٹ کا کہنا ہے کہ اسامہ صرف اسلام پر عمل سے ’پیغمبرِ تباہی‘ نہیں بنا۔ اس میں امریکہ کا ہاتھ بھی ہے۔ وہ سعودی عرب میں غیر مسلمان فوجیوں کی آمد کے حق میں نہیں تھا لیکن جب کویت کے بعد سعودی عرب کی طرف بڑھنے کے صدام کے عزائم ظاہر ہوئے اور ڈک چینی سعودی عرب سے امریکی فوجی قبول کرنے پر اصرار کرنے لگے۔ اس سے پہلے سعودی عرب اسّی کی دہائی میں پچاس ارب ڈالر کا جدید ترین فضائی دفاعی نظام خرید چکا تھا لیکن اس نے اس ساز و سامان کو استعمال کرنے والی فوج بنانے پر کوئی توجہ نہیں دی تھی اور اسامہ اس تناظر میں ایک لاکھ مسلمان جنگجوؤں کو جمع کرنے کے منصوبے پر کام کر رہا تھا۔ سعودی عرب نے امریکی پیشکش قبول کر لی اور یہ فیصلہ اسامہ کی سوچ کو تبدیل کرنے کا سنگِ میل بن گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کتاب کے مصنف لارنس رائٹ

رائٹ کی کتاب صرف اسامہ کے بارے میں نہیں ہے یہ ان دوسرے کرداروں کے بارے میں بھی بتاتی ہے جو اس ساری سوچ کو ایک شکل دینے کا باعث بنے جس نے اسامہ کو بھی شدت پسند افرادی قوت فراہم کی اور اب بھی کر رہی ہے۔ وہ ہمیں مصری سید قطب کی زندگی اور ان تحریروں کے بارے میں بھی بتاتے ہیں جو خود ’مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل کو جائز‘ بنا دیتی ہیں۔ اس میں مودودی کی تعلیمات کا بھی ذکر ہے، اب القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی ساری زندگی کی بھی تفصیلات ہیں ملا عمر کی زندگی کی بھی۔ یہ ہمیں ان امریکی اہلکاروں کے تفصیلی خاکے بھی فراہم کرتی ہے جو 11/9 سے قبل القاعدہ اور اس کے رہنماؤں پر کام کرتے رہے۔ دوسرے کرداروں میں سب سے اہم ایف بی آئی کے سربراہ جان او نیل ہیں جن تک یہ انتباہ پہنچ چکا تھا کہ ’کچھ بہت بڑا ہونے والا ہے‘ لیکن انہوں نے اسے مطلوبہ اہمیت نہیں دی شاید اس لیے کہ انہیں جڑواں میناروں کے سائے میں اپنی تقدیر کا سامنا کرنا تھا۔

رائٹ کا انداز تحریر انتہائی پُر کشش ہے لیکن پھر بھی اسے تفریحی کتاب نہیں کہا جا سکتا کیونکہ یہ کتاب در حقیقت ان عوامل کی تلاش پر مبنی ہے جو ہزاروں افراد کی ہلاکتوں کا باعث بنے اور اب تک موجود ہیں۔

اسی بارے میں