پوپ آرٹ کے موجد، رچرڈ ہیملٹن انتقال کر گئے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گزشتہ برس لندن میں رچرڈ ہیملٹن کے فن پاروں کی ایک نمائش منعقد کی گئی

پوپ آرٹ کے موجد برطانوی مصور رچرڈ ہیملٹن مختصر علالت کے باعث نواسی برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

لندن میں پیدا ہونے والے مصور کو انیس سو چھپن میں باڈی بلڈنگ اور ٹن آف ہیم کی کلیکشن پر ’پوپ آرٹ کے باپ‘ کا خطاب ملا۔

گیگوسین گیلری نے ان کی موت کا اعلان کرتے ہوئےکہا ’ پوپ آرٹ کی روشنی ختم ہو گئی ہے‘۔

رچرڈ ہیملٹن مرنے سے چند روز پہلے مصوروں کے سابقہ کارناموں کے حوالے سے منعقد ہونے والی نمائش پر کام کر رہے تھے۔

یہ نمائش اگلے برس لندن، لاس اینجلس، فلاڈیلفیا اور میڈرِڈ میں منتعد کی جائے گی۔

لیری گیگوسن، جن کی پوری دنیا میں آرٹ گیلریاں ہیں، کا کہنا تھا ’آج کا دن ہمارے لیے بہت افسردہ ہے، ہم رچرڈ ہیملٹن کی بیوی ریٹا اور بیٹے راڈ کے دکھ درد میں شامل ہیں۔‘

ڈائریکٹر سر نکولس سیروٹا نے کہا ہے کہ رچرڈ کی موت ان کی خواہش کے مطابق آرٹ پر کام کرنے کے دوران ہوئی۔

بی بی سی کو گزشہ برس دیے گئے ایک انٹرویو میں رچرڈ ہیملٹن نے کہا تھا ’میں نے ہمیشہ وہی کیا جو میں چاہتا تھا اور اس معاملے میں میری قسمت ہمیشہ اچھی رہی ہے۔‘

واضح رہے کہ گزشتہ برس لندن میں رچرڈ ہیملٹن کے فن پاروں کی ایک بڑی نمائش منعقد کی گئی۔

رچرڈ ہیملٹن سنہ انیس سو بائیس میں لندن میں پیدا ہوئے، انہوں نے انجنیرنگ ڈرافٹسمین کے طور پر ٹریننگ حاصل کی اور دوسری جنگِ عظیم کے دوران ای ایم آئی کی حیثیت سے کام کیا۔

رچرڈ ہیملٹن نے لندن کی رائل اکیڈمی میں داخلہ لیا لیکن اپنے استاد کا حکم نہ ماننے پر انہیں اکیڈمی سے نکال دیا گیا۔اس کے بعد انہوں نے سلیڈ سکول آف فائن آرٹ میں داخلہ لیا اور سنہ انیس سو اکاون تک پڑھائی کی۔

سنہ انیس سو باون میں رچرڈ ہیملٹن نے لندن میں انسٹیٹیوٹ آف کنٹیمپریری آرٹ کی بنیاد رکھی جہاں انہوں نے ایڈارڈو پاؤلوزی، لارنس ایلوری کے ہمراہ کام کیا۔

سنہ انیس سو پچاس کی آخری دہائی اور سنہ انیس سو ساٹھ کی ابتدائی دہائی میں رچرڈ ہیملٹن نے سینٹرل سکول آف آرٹس اینڈ کرافٹس اور دی رائل کالج آف آرٹ میں مصوری کی تعلیم دی تھی۔

اسی بارے میں