سوات میں رقاصاؤں کا زوال

رقاصہ تسلیم تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption رقاصہ تسلیم اپنی ساتھی کے قتل کے بعد سوات سے نقل مکانی کر گئی تھیں۔

موسیقی اور رقصاؤں کا روایتی رقص پاکستان کی وادیء سوات کے ضلع بُنڑ کی شاموں کا حسن تھا۔

لیکن چار سال قبل اس علاقے پر طالبان نے قبضہ کر لیا جسے بعد میں دو ہزار نو میں پاکستانی فوج نے ایک کارروائی کے بعد آزاد کروایا۔

جب طالبان کی گولی سوات کی ایک مشہور رقاصہ کے جسم کو چیرتی ہوئی گذر گئی اور اس کی لاش سوات کے مرکزی چوک سے ملی تو اس علاقے کے تمام موسیقار اور رقاص وہاں سے نکل بھاگے۔

گو کہ اب یہ تمام لوگ اپنے علاقے میں واپس آ گئے ہیں لیکن ان کا بے فکر انداز اب ماضی کی یاد بن گیا ہے۔ اب وہاں بہت کم گاہک، اور تماش بین ہیں حتٰی کہ رقاصائیں بھی بہت کم رہ گئی ہیں۔

بنڑ کی تنگ گلیوں میں گھومتا ہوا شخص جو رقص گاہوں میں داخلے کا انتظام سنبھالتا ہے، وہاں آنے والے اجنبیوں کو مشکوک نظروں سے دیکھتا ہے۔ رقاصاؤں کے گھر میں داخلہ کسی مقامی شخص کا حوالے دیئے بغیر ناممکن ہے تاکہ یہ اس یقین ہو کہ آنے والے کا مقصد صرف تفریح حاصل کرنا ہے۔

اب وہاں جانے کے بعد کئی مرد مایوس ہو جاتے ہیں کیونکہ اب وہاں پینے کو کچھ بھی پیش نہیں کیا جاتا اور نہ ہی ان کے سامنے گانا گایا جاتا ہے۔

ماحول کافی سنجیدہ ہے۔ جہاں گروہ کی صورت رقص کیا جاتا ہے اور رقاصائیں موسیقی کی کیسٹس چلا کر فن کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

یہاں شام کا آغاز ایک دھن لوگری سے ہوتا ہے جو ایک ہلکے سروں کی دھن ہے اور اس کا نام افغانستان کے صوبے لوگر سے منسوب ہے۔ پشتو گانوں کا موضوع محبت، جدائی اور دور دراز کا سفر ہوتا ہے۔ جُوں جُوں شام ڈھلتی ہے موسیقی بلند ہوتی چلی جاتی ہے۔

تیس سالہ تسلیم بتاتی ہیں کہ ’پہلے یہاں کاروبار بہت اچھا تھا، اچھے پیسے مل جاتے تھے، سب خوش تھے۔ لیکن اب حالات مختلف ہیں، اب تو صرف گزارے والی بات ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ پہلے وہاں پیسہ عام تھا اور ماحول بہت آزاد خیال تھا۔ طالبان کے آنے کے بعد موسیقاروں اور رقاصاؤں کے لیے کمائی کے ذرائع دھیرے دھیرے کم ہو گئے۔

موسیقاروں، خاص طور پر رقاصاؤں کے مرد رشتہ داروں نے آلات موسیقی سے پیچھا چھڑا لیا لامحالہ کہیں طالبان ان کے گھر پر چھاپہ مار کر انہیں برآمد نہ کر لیں۔

تسلیم نے بتایا کہ ’ہمیں طالبان نے حکم دیا تھا کہ اپنا پیشہ چھوڑ دیں اور ہم سب نے یہ کام چھوڑ کر دوسری ملازمیتیں اختیار کر لی تھیں۔‘

چونکہ پاکستان میں کئی رقاصائیں اسی کاروبار میں پلی بڑھی ہیں اسی وجہ سے ان کے لیے معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کے لیے محض چند ہی راستے ہوتے ہیں۔ ان کے پاس اجنبیوں کے لیے سجنے سنورنے اور رقص کرنے کا خاندانی پیشہ اپنانے کے علاوہ کوئی دوسرا انتخاب نہیں ہوتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شبانہ کو طالبان نے حکم عدولی پر گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

سوات کی دوسری رقاصاؤں اور موسیقاروں کی طرح تسلیم بھی اپنا علاقہ چھوڑ گئی تھیں۔ اس کی وجہ ان کی ساتھی رقاصہ شبانہ کا قتل تھا۔

’جب انہوں نے ہمارے ہمسائی شبانہ کو قتل کیا، اسی دن سب لوگوں نے یہاں سے جانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ ہم افراتفری میں یہاں سے نکلے، ہر چیز یہیں چُھوٹ گئی۔ حتٰی کہ ہمارے جوتے اور کپڑے بھی۔‘

شابہ پچیس برس کی تھیں اور انہوں نے طالبان کی جانب سے رقص اور گانے پر پابندی کو توڑا تھا۔ جنوری دو ہزار نو کی ایک سرد رات طالبان نے ان کے گھر پر حملہ کر دیا۔ انہوں نے شبانہ کے خاندان کے تمام بائیس افراد کو بستروں سے باہر گھسیٹا، جن میں چودہ بچے بھی تھے۔

شبانہ کے بھائی زیارت گل نے بتایا کہ ’ان میں سے ایک نے پوچھا شبانہ کون ہے؟ دوسرے آدمی نے اسے کلائی سے پکڑا اور پوچھا کیا یہ ہے؟

وہ شخص اسے گھسیٹتا ہُوا لے گیا اور کہا کہ وہ اس سے کچھ سوالات پوچھنا چاہتے ہیں جس کے بعد اُسے چھوڑ دیں گے۔

زیارت گل کا کہنا تھا کہ اس نے ان کا پیچھا کرنا چاہا لیکن طالبان نے اسے پیچھنے آنے سے منع کرتے ہوئے مارنے کی دھمکی دی۔ خاندان والے صبح تک شبانہ کا انتظار کرتے رہے پھر زیارت گُل اسے ڈھونڈنے نکل پڑا۔

’وہ مجھے چوک میں پڑی ملی اسے چھ گولیاں لگی تھیں اور اس کا ایک بازو تین جگہ سے ٹوٹا ہوا تھا۔‘

حالانکہ موسیقی اور رقص سے وابستہ یہ لوگ اب واپس آ چکے ہیں لیکن اُس وقت کا خوف ان کے ذہنوں میں اب بھی ہے۔ انہیں میں سے ایک پچیس سالہ نیلم بھی ہے۔

وہ اپنے موسیقی کی وڈیوز کے باعث کافی مقبول ہیں اور پاکستانی فلموں میں کام کرنے کی خواہشمند ہیں۔ لیکن اب اس کی واحد تفریح دھیمی آواز میں موسیقی بجانا اور گھر میں اکیلے میں ہی رقص کرنا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اپنا خواب اور جذبہ کھو دیا ہے۔

نیلم کہتی ہے ’جب سے ہم نے مینگورہ سےنقل مکانی کی میں نے کسی وڈیو میں کام نہیں کیا۔ مجھ سے کئی پروڈیوسرز نے رابطہ کیا لیکن میں نے انکار کر دیا۔ مجھے خوف ہے کہ اگر میں نے موسیقی کی ویڈیوز میں کام کیا تو طالبان واپس آجائیں گے اور مجھے سزا دیں گے۔‘

طالبان کے آنے کے بعد کئی رقاصاؤں کی شادیاں کر دی گئیں اور انہوں نے یہ پیشہ ترک کر دیا۔ اب وہی چند رقاصائیں باقی رہ گئی ہیں جن کے خاندان اُن کی کمائی پر انحصار کرتے ہیں۔

شبانہ کی بھی شادی طے تھی۔ شبانہ کے بھائی کا کہنا ہے کہ اس کا رشتہ ایک سرکاری ملازم سے طے کیا گیا تھا جس نے شادی کے لیے رقم جمع کرنے کی خاطر چھ ماہ کا وقت لیا تھا۔ لیکن اس سے پہلے ہی اسے قتل کر دیا گیا۔

حالانکہ سوات میں بہت کم لوگوں کو لگتا ہے کہ طالبان واپس آ جائیں گے لیکن معاشرے کو لگے یہ زخم جلدی بھرتے دکھائی نہیں دیتے۔

اسی بارے میں