نیم فحش فلم پوسٹروں کی نمائش

فلم پوسٹر تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہندوستان میں ستر اور اسی کی دہائی میں ' مارننگ شو' کافی مقبول تھے

ہندوستان کے دارلحکومت دلی میں ان دنوں سنہ انیس سو ستر اور اسّی کے دہائی میں مقبول ’نیم فحش‘ فلموں کے پوسٹروں کی نمائش جاری ہے۔

انیس سو ستر اور اسی کی دہائی میں نیم فحش فلمیں صبح کے شو میں دکھائی جاتی تھیں جنہیں’مارننگ شو‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ان شوز کو دیکھنے والے مرد اور نوجوان لوگ ہوتے تھے۔

اسکی ایک بڑی وجہ ہوتی تھی کہ ان فلموں میں جسم کی نمائش اور سیکس کی بات عام تھی۔ ان فلموں کو ’پورن فلمیں‘ یا یہ کہیں نیم فحش فلموں کے زمرے میں رکھا جاتا ہے۔

ان فلموں کو ’بالغ افراد‘ کی فلمیں بھی کہا جاتا تھا۔ ہندوستان میں آج بھی اس طرح کی فلمیں بنتی ہیں اور نمائش کے لیے پیش کی جاتی ہیں۔ لیکن ملٹی پلیکس سنیما ہال کے آنے کے بعد ’صبح کے شو‘ کی روایت ختم ہوگئی ہے۔

اب اس طرح کی فلمیں چھوٹے شہروں کے سنیما ہال اور مخصوص سنیما ہالوں میں دکھائی جاتی ہیں۔

دلی میں جاری ان پوسٹرز کی نمائش کو ’مارننگ شو‘ کا ہی نام دیا گیا ہے اور یہ شاید پہلی بار ہے کہ اس طرح کی فلموں کے پوسٹرز کی نمائش کی گئی ہے۔

امریکہ میں قائم ایک اشتہاری کمپنی کے ڈائریکٹر سنیل کہتے ہیں کہ ’مارننگ شو کا کلچر تقریباً ختم ہو گیا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’انٹرنیٹ اور ٹی وی کے دور سے پہلے ہندوستان کے تقریباً ہر مرد نے ان فلموں کو دیکھا اور ان سے سیکھا ہے۔‘

نمائش کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اس نمائش کو دیکھنے بہت لوگ آ رہے ہیں اور حیرانگی کی بات یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر خواتین ہیں۔

ہندوستان میں بیشتر بالغ افراد کے لیے بننے والی فلمیں کیرالہ کی فلم انڈسٹری میں بنائی جاتی تھیں جنہیں بعد میں ہندی ترجمے کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔

بے وفا بیوی، غیر مرد، پیار کی ایک رات، قاتل جوانی، کچی جوانی، کے نام سے ان فلموں کے ناموں سے ہی یہ پتا چل جاتا تھا کہ یہ کس طرح کی فلمیں تھیں۔

ایک جائزے کے مطابق آج کی تاریخ میں بھوجپوری زبان میں بھی اس طرح کی فلمیں بنائی جا رہی ہیں۔

مسٹر سنیل کا کہنا ہے کہ ان فلموں کے پوسٹر فلم سے زیادہ فحش ہوتے تھے۔ اس کا مقصد تھا کہ پوسٹر دیکھ کر زیادہ سے زیادہ لوگ فلم دیکھنے آئیں۔ ان فلموں کے پوسٹرز پر نیم برہنہ اداکاروں کے فوٹو کے علاوہ ہالی وڈ کی اداکاروں کے فوٹوز کا بھی استمعال کیا جاتا تھا۔ کبھی کبھی ان فلموں میں ہالی وڈ کی بعض فلموں کے فحش منظر شامل کیے جاتے تھے۔

یہ فلمیں ایک ایسے وقت میں مقبول تھیں جب انٹرنیٹ اور ٹی وی نہیں تھا اور سماج میں خواتین روایتی کپڑے پہنتی تھیں۔

مسٹر سنیل کا کہنا ہے کہ ایسے کلچر میں اگر ایک عورت کی برہنہ ٹانگ بھی دکھائی دے جاتی تھی تو وہ فلمیں دیکھنے والوں کو محظوظ کرتی تھی۔

آج کے دور میں بالی وڈ کی فلموں میں فحش کپڑے پہننا عام ہے۔ لوگوں کے پاس انٹرنٹ کی رسائی اور سماج زیادہ کھلی ذہنیت رکھتا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ اس طرح کی فلمیں زیادہ تر سنیما ہال سے غائب ہوگئی ہیں۔

اسی بارے میں