مائکل جیکسن کے ڈاکٹر عدالت میں

مائکل جیکسن کے ڈاکٹر عدالت میں تصویر کے کاپی رائٹ reuters
Image caption ڈاکٹر کونریڈ مرے پر قتل خطا کا الزام ہے

گلوکار مائکل جیکسن کی موت کے سلسلے میں ان کے ڈاکٹر کونریڈ مرے کا مقدمہ امریکہ کے شہر لاس اینجلیز میں شروع ہو گیا ہے۔

ڈاکٹر مرے پر الزام ہے کہ ان کی غیر ذمہ داری اور لا پرواہی ہی مائکل جیکسن کے موت کا سبب تھی۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر مرے نے مائکل جیکسن کو دوائی پروپوفول کی جان لیوا مقدار دے دی۔ تاہم ڈاکٹر مرے کے وکیل کا دفاع ہے کہ در اصل جیکسن نے خود یہ دوا لی تھی اور وہ اس کو معمول میں درد ختم کرنے اور نیند دلانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔

اگر ڈاکٹر مرے کو اس مقدمے میں قصوروار پایا جاتا ہے تو ان کو چار سال قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔

عدالتی سماعت کے پہلے روز استغاثہ نے ڈاکٹر مرے پر الزام لگایا کہ وہ مائکل جیکسن کا مناسب علاج نہیں کرتے تھے اور واقعہ کے روز بھی وہ جیکسن کو پروپوفول دے کر انہیںیہ کہہ کر اکیلا چھوڑ گئے کہ وہ ’باتھروم اور پھر اور اپنا فون دیکھنے کے لیے‘ جا رہپے تھے۔

وکیل استغاثہ نے مزید کہا کہ ڈاکٹر مرے نے جیکسن کو بے ہوشی کی حالت میں پانے کے فوراً بعد ایمیولنس نہیں بلائی بلکہ تقریباً بیس منٹ کے بعد ہی جیکسن کے ایک محافظ کو ایسا کرنےکے لیے کہاا۔ جب ایمرجنسی ایمیولنس موقع پر پہنچی تو ڈاکٹر مرے نے ان کو پروپوفول کے بارے میں نہیں بتایا۔

ڈاکٹر مرے کے وکیل کا کہنا تھا کہ مائکل جیکسن اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کیے بغیر ہی ادویات لیتے رہتے تھے۔ ان کا دعوی تھا کہ جیکسن خود اپنے موت کے ذمہ دار تھے کیونکہ صبح کو انہوں نے دوائی لوریزاپام کی اتنی گولیاں لی تھیں جو بقول وکیل کے ’چھ آدمیوں کو سُلانے کے لیے کافی مقدار ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ بعد میں جیکسن نے پروپوفول لی تھی اور ان دونوں ادویات نے ان کو مار ڈالا۔

وکیل کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر مرے تو مائکل جیکسن کی پروپوفول کم کرانے کی کوشش کر رہے تھے کیونکہ جیکسن اس کے عدی ہوے جا رہے تھے اور اکثر اس کو اپنا ’دودھ‘ قرار دیتے تھے۔

امکان ہے کہ یہ مقدمہ پانچ ہفتے تک چلے گا۔

اسی بارے میں