’مائیکل جیکسن کی صحت ٹھیک تھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

گلوکار مائیکل جیکسن کے ڈاکٹر کے خلاف قتل خطاء کے مقدمے کی سماعت کے دوران جیکسن کے شو کے پروموٹر نے عدالت کو بتایا کہ جیکسن کی صحت اچھی تھی اور وہ شو کی تیاریوں میں بھرپور حصہ لے رہے تھے۔

بدھ کو سماعت کے دوسرے روز شو پروموٹر پال گونگاویر نے لاس اینجلیس کی عدالت کو بتایا کہ ان کی موت سے پہلے کے دنوں میں مائیکل جیکسن کی صحت ٹھیک تھی اور وہ شو کی تیاریوں کے دوران اچھا پرفارم کر رہے تھے۔

مائیکل جیکسن کے ڈاکٹر عدالت میں

استغاثہ کا کہنا ہے کہ مائیکل جیکسن کی جون 2009 میں موت ان کے ڈاکٹر کونریڈ مرے کی لا پرواہی کا نتیجہ تھی اور ڈاکٹر نے ان کو دوائی پروپوفول مہلک مقدار میں دی تھی۔

وکیل دفاع کا کہنا ہے جیکسن خود ہی یہ دوائی استعمال کرتے تھے۔

پرورپوفول عام طور سے سرجری کے دوران سکون اور نیند دلانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ reuters

شو پروموٹر پال گونگاویر نے عدالت کو بتایا جیکسن نے انہیں ڈاکٹر مرے کو کام دینے کا کہا تھا اور ڈاکٹر مرے نے اس سلسلے میں سال کے لیے پانچ ملین ڈالر کا مطالبہ کیا تھا۔ ’میں نے انہیں جواب دیا کہ ایسا تو ہونے نہیں والا‘ اور بعد میں انہیں ڈاکٹر کو ماہانہ ڈیڑھ لاکھ ڈالر کی پیشکش کی۔

انہوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ جیکسن کی والدہ نے ان کی کمپنی ’اے ای جی‘ کے خلاف مقدمہ اس بنیاد پر کیا تھا کہ انہوں نے جیکسن کے علاج اور صحت کے حوالے سے ڈاکٹر مرے کی نگرانی میں کوتاہی برتی۔

ڈاکٹر کونریڈ مرے کی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر مرے نے جیکسن کے لیے لندن میں ایک اور ڈاکٹر کے علاوہ ایک سی پی آر مشین کی درخواست کی ہوئی تھی۔ وکیل کے مطابق ’وہ یہ انتظام کرنا چاہتے تھے کہ ہمیشہ ان کی نگرانی کے لیے ایک سے دوسرا ڈاکٹر موجود ہو۔‘

مائیکل جیکسن کے ذاتی معاون مائیکل وِلیمز نے عدالت کو اس فون کال کے بارے میں بتایا جو ڈاکٹر مرے نے ان کو جیکسن کی موت کی تاریخ کو کیا تھا۔

مائیکل ولیمز نے عدالت کو بتایا کہ کس طرح انھوں نے مائیکل جیکس کے آرام گاہ میں سکیورٹی گارڈز بھیجے اور جس وقت جیکسن کی میت کو ایمبولینس سے باہر نکلا جا رہا تھا تو اس وقت ڈاکٹر مرے ہیجان میں مبتلا دکھائی دے رہے تھے۔

مائیکل جیکسن کی سکیورٹی کے سربراہ فہیم محمد نے بھی مائیکل جیکسن کے بیڈ روم میں پیش آنے والے حالات سے عدالت کو آگاہ کیا اور بتایا کہ انھوں نے وہاں ’آئی وی‘ کا سٹینڈ دیکھا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ ڈاکٹر مرے مائیک جیکسن کی مخالف سمت میں بستر سے دور کھڑے تھے۔

’ ڈاکٹر مرے میری مخالف سمت میں کھڑے تھے اور بظاہر وہ دل کی دھڑکن کو بحال رکھنے والے آلہ سی پی آر والے آلہ کا انتطام سنبھالے ہوئے تھے، وہ گھبرائے ہوئے لگ رہے تھے اور پسینہ نکل رہا تھا، لیکن وہ سی پی آر سنبھالے ہوئے نظر آئے۔‘

فہیم محمد نے عدالت کو مائیل جیکسن کی حالت کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی آنکھیں اور منہ تھوڑا سے کھلا ہوا تھا اور وہ اس بات پر متفق ہیں کہ ان کی اس وقت موت واقع ہو چکی تھی۔

اس سے پہلے گلوکار مائیکل جیکسن کی موت کے سلسلے میں ان کے ڈاکٹر کونریڈ مرے کا مقدمہ امریکہ کے شہر لاس اینجلیس میں شروع ہوا تھا۔

ڈاکٹر مرے پر الزام ہے کہ ان کی غیر ذمہ داری اور لا پرواہی ہی مائیکل جیکسن کے موت کا سبب تھی۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر مرے نے مائیکل جیکسن کو دوائی پروپوفول کی جان لیوا مقدار دے دی۔ تاہم ڈاکٹر مرے کے وکیل کا دفاع ہے کہ دراصل جیکسن نے خود یہ دوا لی تھی اور وہ اس کو معمول میں درد ختم کرنے اور نیند دلانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔

اسی بارے میں