ادب کا نوبل انعام سویڈن کے شاعر کے لیے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سویڈن کے شاعر تومس ترانس تریمر کو دو ہزار گیارہ کے لیے ادب کا نوبل انعام دیا گیا ہے۔

رائل سویڈیش اکیڈمی نے ان کے نام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ’ان کے ٹھوس اور شفاف تصورات سے ہمیں حقیقت سے قریب تر آنے کی نئی راہیں ملتی ہیں۔‘

شاعر اس انعام کو وصول کرنے والے ایک سو آٹھویں شخص ہیں۔

نوبل فاؤنڈیشن کی جانب سے یہ اعزاز زندہ مصنفین کو دیا جاتا ہے اور انعام کے ساتھ ایک کروڑ کرونر (تقریباً دس ہزار برطانوی پاؤنڈ) دیے جاتے ہیں۔

ترانس تریمر ایک تربیت یافتہ نفسیات دان ہیں۔ انیں سو نوے میں فالج کے دورے کے بعد ان کی بولنے کی صلاحیت متاثر ہوئی تھی۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ تومس ترانس تریمر کی نظمیں سیکولر دعاؤں کی مانند ہیں جو عارفانہ، ہمہ گیر اور غمگین ہیں۔

ان کی نظموں کا پچاس سے زائد زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے۔ ان کی زیادہ تر نظموں کا انگریزی زبان میں ترجمہ سکاٹ لینڈ کے شاعر رابن فُلٹن اور امریکی شاعر رابرٹ بلے نے کیا ہے جو ان کے ذاتی دوست بھی ہیں۔

فُلٹن نے انیس سو ستر میں ترانس تریمر کے ساتھ کام شروع کیا۔

گزشتہ دس برسوں میں ترانس تریمر ادب کا نوبل انعام حاصل کرنے والے آٹھویں یورپی مصنف ہیں۔ تاہم انیس سو چوہتر کے بعد یہ اعزاز حاصل کرنے والے سویڈن کے وہ پہلے شہری ہیں۔

ترانس تریمر انیس سو اکتیس میں سٹاک ہوم میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے انیس سو چھپن میں نفسیات میں گریجویشن کیا جس کے بعد انہوں نے جرائم میں ملوث ہو جانے والے نوجوان کے لیے قائم ایک ادارے میں کام شروع کر دیا۔

ان کی سترہ نظموں پر مشتمل مجموعہ اس وقت شائع ہوا جب ان کی عمر تیئس برس تھی۔ انیس سو چھیاسٹھ میں انہیں بیلمین پرائز بھی دیا گیا۔

سنہ دو ہزار تین میں ان کی ایک نظم سویڈن کی مقتول وزیرِ خارجہ کے لیے ایک تعزیتی تقریب میں پڑھی گئی۔

اسی بارے میں