بیالیس کلومیٹر دوڑنے کے بعد بچی کو جنم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امبر نے میرتھن ریس میں نصف فاصلہ دوڑ کر اور باقی نصف فاصلہ چل کر طے کیا۔

ایک امریکی خاتون نے شکاگو کی میراتھن دوڑ میں حصہ لینے کے بعد ہسپتال پہنچ کر ایک بچی کو جنم دیا۔

امبر ملر کا کہنا ہے کہ وہ خوش ہیں ’یہ میری زندگی کا سب سے طویل دن تھا‘۔

امبر نے حاملہ ہونے کے باوجود آرام کی بجائے میراتھن ریس میں دوڑ لگانے کو ترجیح دی۔

امریکی شہر شکاگو میں ہونے والی دوڑ میں حصہ لے کر وہ ہسپتال پہنچی جہاں انہوں نے بچی کو جنم دیا۔

امبر نے جب دوڑ میں حصہ لیا اس وقت وہ انتالیس ہفتوں سے حاملہ تھیں۔ انہوں نے ہسپتال پہنچ کر سات اعشاریہ سات پونڈ کی بچی کو جنم دیا جس کا نام جُون رکھا گیا ہے۔

ستائیس سالہ امبر نے آٹھویں بار میراتھن دوڑ میں حصہ لیا ہے۔ یہ ان کے ہاں دوسری ولادت ہے۔

اپنے ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق، انہوں نے میراتھن ریس میں نصف فاصلہ دوڑ کر اور باقی نصف فاصلہ چل کر طے کیا۔

انہوں نے کہا ’ریس مکمل کرنے کے بعد مجھے درد ہونا شروع ہوا اور میں سمجھ گئی کہ کیا ہورہا ہے۔ جب یہ بار بار ہوا تو پہلے ہم نے سینڈوچ کھایا اور پھر ہسپتال کی جانب روانہ ہوئے۔‘

ان کے بقول ’بہت سے لوگ مجھے دیکھ کر مسرت کا اظہار کررہے تھے اور کہہ رہے تھے دوڑو حاملہ خاتون۔‘

انہوں نے خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا ’میرے لیے یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ میں ویسے بھی دوڑ میں حصہ لے ہی رہی تھی۔ مجھے دوڑنے کا جنون ہے۔‘

چونکہ انہوں نے آدھا راستہ چل کر طے کیا اسی لیے انہوں نے تقریباً چھبیس میل یا بیالیس کلومیٹر کا یہ فاصلہ سوا چھ گھنٹے میں مکمل کیا۔

اسی بارے میں