منشا کی یاد میں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption منشا یاد پنجابی میں بھی اُسی روانی اور سہولت سے لکھتے تھے جیسے اردو میں

اُردو کے معروف کہانی کار اور ڈرامہ نویس محمد منشا یاد کو اتوار کی سہ پہر اسلام آباد کے قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ اُن کا گزشتہ روز حرکتِ قلب بند ہونے سے اسلام آباد میں انتقال ہو گیا تھا۔ ان کی عمر 72 برس تھی۔

1937 میں پیدا ہونے والے منشا یاد نے اگرچہ اپنی پہلی کہانی 1955 میں لکھی تھی جب اُردو ادب پر ترقی پسند تحریک کا مکمل غلبہ تھا، لیکن منشا نے نہ تو ترقی پسندوں کی اندھی تقلید کی اور نہ ہی تجریدی کہانیاں لکھنے والوں سے متاثر ہوئے بلکہ اپنے لیے ایک نئی اور الگ راہ تلاش کی۔

اُن کا نقطہ نظر تھا کہ کہانی قاری کی سمجھ میں آنی چاہیے کیونکہ جب تک خیال کی مکمل ترسیل نہیں ہوگی قاری کہانی سے بالکل استفادہ نہیں کر پائے گا۔ منشا یاد کی یہ فکر 1975 میں شائع ہونے والے اُن کے اولین مجموعے میں صاف نظر آتی ہے۔ ’بند مٹھی میں جگنو‘ ماس اور مٹی اور خلاء اندر خلا ان کی کہانیوں کے نمائندہ مجموعے ہیں۔

کہانی میں ٹھوس واقعات اور واضح کردار نگاری کے باعث ان کی تحریریں ٹیلی ویژن پر بہت مقبول ہوئیں کیونکہ ہدایتکار کو اُن کی کہانیوں میں ڈرامے کے تمام عناصر بنے بنائے مِل جاتے تھے۔

منشا یاد پنجابی میں بھی اُسی روانی اور سہولت سے لکھتے تھے جیسے اردو میں، چنانچہ اُن کے پنجابی ناول ’ٹاواں ٹاواں تارا‘ کو انتہائی کامیابی کے ساتھ ایک ڈرامہ سیریل میں ڈھالا گیا جو کہ ’راہیں‘ کے نام سے پی ٹی وی سے نشر ہوتا رہا ہے۔

جنون، بندھن، آواز اور’پورے چاند کی رات‘ بھی اُن کے معروف ٹیلی ویژن ڈرامے ہیں۔ سن 2004 میں افسانے اور ناول کے میدان میں ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے انھیں تمغۂ حسنِ کارکردگی سے نوازا گیا اور 2006 میں انھیں پنجابی میں بہترین ناول نگاری کا بابا فرید ادبی ایوارڈ بھی دیا گیا۔

ناول نگاری اور ڈرامہ نویسی میں مقام پیدا کرنے کے باوجود وہ خود کو ہمیشہ ایک افسانہ نگار کے طور پر پیش کرتے تھے اور یہ حقیقت بھی ہے کہ اُن کی زیادہ تر توجہ اور محنت کا مرکز ہمیشہ افسانہ ہی رہا۔

اردو ادب کی تاریخ اگر اُن کے ناولوں اور ڈراموں کو فراموش بھی کر دے تو اُن کی کہانیوں کو کبھی نظر انداز نہیں کر سکے گی۔

اسی بارے میں