را - ون کی نمائش شیڈول کے مطابق

تصویر کے کاپی رائٹ pr
Image caption ریڈ چليز کو یہ رقم جمع کروانے کے لیے بائیس اکتوبر تک کی مہلت دی گئی ہے

بمبئی ہائی کورٹ نے بالی وڈ اداکار اور فلمساز شاہ رخ خان کی نئی فلم را - ون کو نمائش کی اجازت دیتے ہوئے فلمساز کمپنی ریڈ چلیز کو عدالت میں ایک کروڑ روپے بطور ضمانت جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

کثیر سرمائے سے بنائی جانے والی یہ سائنس فکشن فلم چھبیس اکتوبر کو دیوالی کے موقع پر ریلیز کی جا رہی ہے۔

تاہم فلم کی ریلیز سے قبل ٹی وی پروڈیوسر اور مصنف یش پٹنائک نے عدالت میں درخواست دی ہے کہ فلم را - ون کے مرکزی خیال اور مواد پر حقِ اشاعت ان کا ہے۔

یش پٹنائک کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے بمبئی ہائی کورٹ نے فلم کی ریلیز کو نہ روکتے ہوئے فلمساز کمپنی ریڈ چليز کو حکم دیا ہے کہ جب تک یہ معاملہ عدالت میں ہے تب تک انہیں عدالت میں ایک کروڑ روپے کی رقم جمع كرواني ہوگی۔

ریڈ چليز کو یہ رقم جمع کروانے کے لیے بائیس اکتوبر تک کی مہلت دی گئی ہے۔

یش پٹنائک نے عدالت سے مطالبہ کیا تھا کہ فلم کی ریلیز پر اس وقت تک پابندی لگا دی جائے جب تک انہیں ان کا کریڈٹ نہیں دیا جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مرکزی خیال کا کریڈٹ انہیں نہیں ملتا تو انہیں فلم کے منافع میں سے دس فیصد حصہ دیا جائے۔

پٹنائک کے مطابق انہوں نے اپنے اس خیال کا ذکر را - ون کے مصنف مشتاق شیخ سے سنہ 2006 میں کیا تھا۔ یش پٹنائک کے وکيل روندر قدم کا کہنا ہے، ’26 اکتوبر کو ریلیز ہو رہی را - ون میں شاہ رخ خان کا سپر ہیرو والا کردار پٹنائک کے 2006 میں تیار کیے گئے کردار سے ملتا ہے‘۔

ان کے مطابق پٹنائک کی کہانی میں سپر ولن کا نام ’ون‘ تھا جو شاہ رخ نے اپنی فلم کے عنوان کے لیے استعمال کیا ہے۔

یش پٹنائک کے الزامات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے شاہ رخ خان کے وکيل کا کہنا ہے کہ ،’پٹنائک را - ون کے خیال کے جملہ حقوق کی بات کر ہی نہیں سکتے کیونکہ یہ کردار ان اکیلے کا نہیں تھا بلکہ اسے ایک پوری ٹیم نے مل کر اسے تیار کیا تھا‘۔

اسی بارے میں