جیکسن ہلاکت کیس کی سماعت مکمل

ڈاکٹر کونریڈ مرے تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ڈاکٹر کونریڈ مرے قتلِ خطا کے الزام سے انکار کرتے آئے ہیں

آنجہانی امریکی پاپ گلوکار مائیکل جیکسن کے معالج کے خلاف قتلِ خطا کے مقدمے کی سماعت کی تکمیل کے بعد معاملہ فیصلے کے لیے جیوری کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

جمعہ کو اختتامی دلائل میں استغاثہ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر کونریڈ مرے نے مائیکل جیکسن کی دیکھ بھال عجیب و غریب طریقے سے کی اور نتیجتاً مائیکل کے بچے اپنے والد سے محروم ہوگئے۔

اس کے برعکس وکلائے صفائی نے موقف اختیار کیا کہ مائیکل جیکسن جون دو ہزار نو میں اپنی ہلاکت کے خود ذمہ دار تھے۔

سات مرد اور پانچ خواتین پر مشتمل جیوری نے جمعہ کی صبح سے فیصلے پر غور شروع کر دیا ہے۔

اگر ڈاکٹر کونریڈ مرے پر قتلِ خطا کا الزام ثابت ہو جاتا ہے تو انہیں چار سال قید کی سزا ہو سکتی ہے اور ساتھ ہی ان کا میڈیکل لائسنس منسوخ ہو سکتا ہے۔

جمعرات کو چھ ہفتے تک جاری رہنے والے اس مقدمے کے اختتامی دلائل میں استغاثہ نے مائیکل جیکسن کی اولاد کی غمگین حالت میں تصاویر عدالت کے سامنے پیش کیں۔

ڈپٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی ڈیوڈ والرگرن کا کہنا تھا کہ ’مائیکل جیکسن کے بچوں کے لیے یہ سب ہمیشہ کے لیے ہے کیونکہ وہ اپنے باپ سے محروم ہو چکے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’وہ ڈاکٹر کونریڈ مرے کی وجہ سے اپنے والد سے محروم ہوئے ہیں‘۔

سماعت کے موقع پر مائیکل جیکسن کے تینوں بچے پرنس، پیرس اور بلینکٹ موجود نہیں تھے تاہم مائیکل جیکسن کے والدین اور کئی بھائی بہن عدالت میں آئے ہوئے تھے۔

وکیلِ استغاثہ نے سوال کیا کہ ڈاکٹر مرے کے لیے ایسا ضروری کیا کام تھا کہ مائیکل کی زندگی کے آخری چند گھنٹوں کے دوران وہ ان کی دیکھ بھال کی بجائے فون کرتے رہے۔

انہوں نے جیوری کو یاد دلایا کہ ڈاکٹر مرے نے ہنگامی طبی امداد کے لیے آنے والوں سے مائیکل جیکسن کی صحت کے بارے میں جھوٹ بولا اور مائیکل جیکسن کو دی جانے والی پروپوفول نامی دوا کے استعمال کو چھپانے کی کوشش کی۔

ڈیوڈ والرگرن نے کہا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ’ڈاکٹر مرے جانتے تھے کہ مائیکل جیکسن کی ہلاکت کی وجہ کیا تھی‘۔

اس سے پہلے مائیکل جیکسن کے ڈاکٹر پر مقدمے کی سماعت کے دوران بتایا گیا تھا کہ مائیکل جیکسن کو جب ہسپتال لایا گیا تو ان کے ڈاکٹر کونریڈ مرے کو بتا دیا گیا تھا کہ گلوکار طبی طور پر ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایمرجنسی روم میں کام کرنے والے دو ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے پاپ سٹار کے دل کو حرکت میں دوبارہ لانے کی کوشش کی حالانکہ وہ مر چکے تھے ۔ انہوں نے ایسا اس لیے کیا کہ ڈاکٹر مرے اس پر اصرار کر رہے تھے لیکن ان کا خیال تھا کہ یہ کوششیں بیکار ہیں۔

آخری دلائل میں ڈاکٹر مرے کی قانونی ٹیم کا کہنا تھا کہ وہ جیکسن کی ہلاکت کے ذمہ دار نہیں اور مائیکل جیکسن نے پروپوفول نامی دوا خود اپنے جسم میں داخل کی تھی جبکہ ان کے ڈاکٹر کمرے سے باہر تھے۔

واضح رہے کہ حکام کا کہنا ہے کہ مائیکل جیکسن کی موت انتہائی طاقتور مسکّن اعصاب دوا پروپوفول کی زائد مقدار استعمال کرنے سے ہوئی اور یہ دوا انہیں ان کے گھر پر دی گئی تھی۔

فروری میں عدالت نے پاپ گلوکار مائیکل جیکسن کی موت کے سلسلے میں ان کے ڈاکٹر کونریڈ مرے پر قتل خطا کی فرد جرم عائد کی تھی۔

اسی بارے میں