’بالی وڈ میں کچھ نیا سوچنا ایک گناہ ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ pr
Image caption ’ابھی بھی میرا سفر جاری ہے کیونکہ پکچر ابھی ختم نہیں ہوئی ہے‘

معروف اداکار نصیر الدین شاہ کا کہنا ہے کہ بالی وڈ نے تکنیکی اعتبار سے تو ترقی کی ہے لیکن فلم کے سکرپٹ میں بہتری نہیں آ سکی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’بھارت میں اتنے سالوں سے فلمیں بن رہی ہیں لیکن ابھی تک فلموں کے اصل موضوع میں کوئی بہتری نہیں لا سکا ہے۔

وہ کہتے ہیں، ’گزشتہ پچاس سال سے بس انہی سڑے ہوئے موضوعات پر فلمیں بنتی آ رہی ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ایڈیٹنگ، فوٹوگرافی ، ایکشن میں تبدیلی آئی ہے ، لیکن سکرپٹ وہیں کا وہیں بدبودار ہے اور بہتری کی کوئی امید بھی نظر نہیں آتی‘۔

انہوں نے کہا کہ اس فلمی صنعت میں کچھ نیا سوچنے کا رواج ہی نہیں۔ نصیر الدین شاہ کا کہنا تھا کہ ’بہت تکلیف ہوتی ہے لوگوں کو کچھ نیا سوچنے میں۔ ہماری انڈسٹری کا ایک اصول ہے اور وہ اصول یہ ہے کہ سوچنا یہاں گناہ ہے۔ منظر نامہ پر محنت کرنا گناہ ہے۔ اس لیے لوگ ري میك اور سيكوئل بنا دیتے ہیں، یہاں وہاں سے سین چوری کر لیتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی بھی ان کی اسّی کی دہائی کی مشہور فلم ’معصوم‘ کا ری میک بنائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’معصوم‘ ایک بہت ہی معصوم فلم تھی، جس کی کہانی میں کوئی کمی نہیں تھی۔ وہ اس فلم کو ہدایت کار شیکھر کپور کی بہترین فلم قرار دیتے ہیں۔

نصیر الدین شاہ کو اپنا فلمی کیرئر شروع کیے پینتالیس سال سے بھی زیادہ ہوگئے ہیں اور بقول ان کے جب بھی وہ اپنے اس سفر کو پلٹ کر دیکھتے ہیں تو خود کو بہت مطمئن محسوس کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اس انڈسٹری نے مجھے بہت موقع دیے ہیں۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں ویسے کردار کروں گا جیسے کہ میں نے کیے ہیں۔ کبھی میں نے اپنی بیٹی کی عمر سے چھوٹی لڑکی کے ساتھ پردے پر عشق فرمایا تو کبھی میں نے ’آئے۔آئے‘ جیسے نغمے گائے‘۔

ان کے مطابق ’فلم انڈسٹری کی بدولت میں ایک اچھی زندگی جی پایا ہوں، میں اپنے کیرئر سے مطمئن ہوں لیکن ابھی بھی میرا سفر جاری ہے کیونکہ پکچر ابھی ختم نہیں ہوئی ہے‘۔

اسی بارے میں