فیض احمد فیض: اکیسویں صدی کا شاعر

مشتاق یوسفی تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ممتاز مزاح نگار مشتاق یوسفی فیض احمد فیض کی زندگی اور شاعری پر اپنے مخصوص انداز میں مضمون پڑھا، مگر ایسے کے بیچ بیچ میں اختصار کے باوجود کوئی فرق محسوس نہیں ہوا۔

کراچی میں ’جب راج کرے گی خلقِ خدا‘ کے عنوان سے جاری فیض سال کی تین روزہ اختتامی تقریبات اتوار کی رات اپنی انجام کو پہنچیں۔

ان تقریبات میں نہ صرف پاکستان اور بھارت سے بلکہ برطانیہ، کینیڈا، امریکہ، ڈنمارک اور آذربائیجان کے ادیبوں، دانشوروں اور فنکاروں نے بھی شرکت کی۔

ان ادیبوں، دانشوروں اور فنکاروں نے اس رائے کا عندیہ دیا کہ فیض سال کی ان تقریبات کو محض ایک بڑے شاعر کو خراج تحسین پیش کرنے اور اسے عالمی سطح کا ایک اہم شاعر ثابت کرنے پر ہی تمام نہیں ہو جانا چاہیے بلکہ فیض احمد فیض کی فکر کو ایک متحرک عملی نظریے کے طور پر آگے بڑھانے کے لائحۂ عمل کے بارے میں بھی سوچا جانا چاہیے۔

کراچی میں ان تقریبات کا اہتمام فیض صدی تقریبات کمیٹی نے انجمن ترقی پسند مصنفین، سٹی اونرز ویلفئیر ایسوسی ایشن، تہذیب فاؤنڈیشن، کراچی کے کئی تعلیمی، ثقافتی اداروں سیاسی اور سماجی کارکنوں کے علاوہ حکومتِ سندھ کے تعاون سے کیا تھا۔

تقریبات کی ابتدا جمعہ کو کراچی میں کلفٹن کے باغ ابنِ قاسم میں افتتاحی اجلاس سے کی گئی۔ جس سے پاکستان کے سینئر صحافی اور حقوق انسانی کے سرگرم رہنما آئی اے رحمان، کنیڈا میں جابسنے والے ادیب اور فیض پر تحقیق و تنقید کے حوالے سے معروف اشفاق حسین، ڈنمارک کی ادیب اور براڈکاسٹر صدف مرزا، بھارت کے ممتاز ادیب اور محقق ڈاکٹر علی جاوید، شاعر اور دانشور عبدالاحد ساز، ترقی پسند تحریک کے بانی سجاد ظہیر کی صاحبزادی نادرہ راج، ممتاز شاعرہ زہرہ نگاہ، ادیب، دانشور اور سابق براڈ کاسٹر رضا علی عابدی نے اپنے خیلات کا اظہار کیا۔

افتتاحی اجلاس کے آخری مقرر مشاق احمد یوسفی تھے جنہوں نے اپنے مخصوص انداز نہ صرف فیض احمد فیض سے اپنی ملاقاتوں کا حال بیان کیا بلکہ ان کی شخصیت فن پر بھی تبصرے کیے۔ ان کا طویل مضمون اس بات کا احساس دلاتا تھا جیسے وہ فیض کی شاعری اور شخصیت کے تو مداح ہیں لیکن ان کہ ہم فکر نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فیض احمد فیض کی شاعری کو جو قبول عام ان کی زندگی اور بعد میں حاصل ہوا ہے وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آیا۔ ان کی خوبی یہ ہے کہ جیسی بے داغ ان کی شخصیت تھی ویسی ہی ان کی شاعری بھی ہے۔

اس اجلاس کے بعد نرت تال گروپ نے دو رقص پیش کیے۔ اس گروپ کی رقاصہ سوہائی ابڑو ہیں جو فوک اور کلاسیکل کو ملا کر میوزیکل ڈرامے کو ایک نئی شکل دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔

رقص کے بعد تہذیب فاؤنڈیشن کا جانب سے موسیقی کا اہتمام تھا جس میں پہلے پاکستانی گلوکارہ فریحہ اور بھارت سے آنے والی گلوکارہ سیما سہگل نے فیض احمد فیض کی شاعری کو اپنے سروں سے سجایا۔ فریحہ پرویز نے تو سینئر گلوکاروں کی گائی ہوئی دھنیں گائیں لیکن سیما سہگل نے جو دھنیں گائیں وہ بقول شریف اعوان کے ان کی اپنی ترتیب دی ہوئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption زہرہ نگاہ ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے فیض احمد فیض کو بہت قریب سے دیکھا۔

میلے کے دوسرے روز اردو اور انگریزی کے سیمینار ہوئے، باغ ابنِ قاسم میں فیملی امن میلہ اور فوک موسیقی کا کنسرٹ اور فرئیر ہال میں عالمی مشاعرہ ہوا۔

انگریزی سیمینار کا اہتمام آئی بی اے اور اردو سیمینار کا عثمانیہ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں تھا اور دونوں جگہ سیمینار میں طلبہ کی خاصی بڑی تعداد شریک تھی۔

اردو سیمینار کے تین اجلاس ہوئے۔ تینوں میں مقررین کی تعداد اتنی تھی کہ کسی کو بھی اپنا مقالہ پڑھنے کا موقع نہیں۔

پہلے سیمینار کے میزبان ڈاکٹر جاوید منظر تھے اور مجلسِ صدارت سحر انصاری، تش مرزا، رضا علی عابدی، ڈاکٹر علی جاوید، عبدالاحد ساز اور مسرور جاوید پر مشتمل تھی جب کے مقرروں میں مجلس صدارت کے ارکان کے علاوہ ڈاکٹر قاصی عابد اور ڈاکٹر صوفیہ خشک بھی شامل تھے۔

دوسرا اجلاس کی مجلسِ صدارت ثروت محی الدین، ڈاکٹر شاہد بھنڈر، پروفیسر شبیر شاہ، آئی اے رحمان، ڈاکٹر عالیہ امام، ڈاکٹر صبیحہ صبا اور پروفیسر شاہدہ حسن پر مشتمل تھی۔ اس اجلاس کی نظامت شاعر اور دانشور صبا اکرام نے کی۔

اس اجلاس میں باصر کاظمی، ڈاکٹر یوسف خشک، ڈاکٹر جاوید منظر اور پروفیسر منزہ سلیم نے بھی اظہار خیال کیا۔ اس اجلاس میں 11/9 کے بعد کی دنیا اور فیض کی شاعری، فیض کا فلسفۂ انقلاب اور عصرِ حاضر، استعماری جبریت اور فیض کا فلسفۂ رجائیت، فیض کے شعری کینوس کے نمایاں رنگ سمیت فیض کے شعری محاسن کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا گیا۔

تیسرے اور آخری اجلاس کے لیے مجلس صدارت میں مسلم شمیم، اشفاق حسین، بشیر قمر، ڈاکٹر محمد علی صدیقی ڈاکٹر علی جاوید، ڈاکٹر ظفر اقبال اور یشب تمنا شامل تھے۔ اجلاس کی نظامت ڈاکٹر جمال نقوی نے کی۔ اس اجلاس میں نادرہ سجاد ظہیر نے نے فیض احمد فیض سے اپنے خاندان کے تعلقات اور اپنے گھر میں ہونے والی محفلوں کا حال بیان کیا جبکہ نقاش کاظمی، شفیق احمد، عبدالاحد ساز، غزل انصاری اور صدف مرزا نے اپنا اور فیض کا کلام پیش کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ضیا محی الدین نے فیض احمد فیض کی نثر اور شاعری کے باہمی رشتوں کو انہی مختلف نثری تحریروں اور شاعری کےذریعے ظاہر کیا۔

اس اجلاس میں گجرات یونیورسٹی کے شیخ عبدالرشید نے اپنے مضمون میں اس خدشے کا اظہار کیا کہ فیض اور نئی نسل کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے اور ان کے درمیان فیضیات کا پُل بنانے کی ضرورت ہے۔ اشفاق حسین نے اپنی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ فیض اپنی جلاوطنی کے دنوں میں کیسا محسوس کرتے تھے۔

ڈاکٹر علی جاوید کا کہنا تھا ہندی زبان میں شایع ہونے والے فیض کے کلام میں ایک لفظ بھی کم نہیں کیا جاتا جب کے اردو میں سے کچھ مصرے یہ کہہ شایع نہیں کیے جا رہے کہ فیض صاحب یہی چاہتے تھے جب کہ یہ حقیقت نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیض کے حوالے سے جتنے سیمینار ہندی والوں نے کیے ہیں اردو والوں نے نہیں کیے۔

ڈاکٹر محمد علی صدیقی کا کہنا تھا کہ بعض لوگ یہ تاثر دینے کی کوشش کرنے لگے ہیں کہ گویا فیض سرسری ترقی پسند تھے جب کہ حقیقت یہ کہ وہ نہ صرف کمیونسٹ پارٹی کے رکن تھے بلکہ پاکستان کمیونسٹ پارٹی کی پہلی مجلسِ عاملہ کے رکن، کمیٹڈ انقلابی اور دنیا بھر کے انقلابیوں اور نیرودا اور ناظم حکمت ایسے شاعرں کے قریبی دوست تھے۔

آخری روز اختتامی اجلاس میں موسیقار و گائک ارشد محمود نے فیض صاحب سے اپنی ملاقاتوں کا ذکر کیا اور دلچسپ باتیں بتائیں، جن میں مرچ مصالحے کے لیے فیض صاحب کی کاپی رائٹنگ کا واقعہ بھی تھا۔ ان کے بعد ضیا محی الدین نے فیض احمد فیض کی نثر اور شاعری کے باہمی رشتوں کو انہی مختلف نثری تحریروں اور شاعری کےذریعے ظاہر کیا۔

اس کے بعد فیض کے سلسلے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو ظفر اللہ پوشنی، راحت سعید، بابر ایاز، ہما بخاری اور کمیٹی کے دیگر لوگوں نے ایوارڈ دیے۔ راحت سعید نے سال بھر فیض تقریبات کو کامیاب بنانے میں حصہ لینے اور تعاون کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔

ایوارڈ کے بعد ناہید صدیقی نے کلاسیکی رقص پیش کیا جس کے لیے ان کے ساتھ موسیقی اور گائکی کے لیے ارشد محمود اور نفیس احمد بھی تھے۔

رقص کے بعد موسیقی کی باری تھی جس میں سیما سہگل اور ودیا شاہ نے فیض احمد فیض کی شاعری کو اپنی آوازوں اور ہنر سے سجایا۔

اسی بارے میں