گوا: بیالیسویں عالمی فلمی میلے کا آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ فلمی میلہ گیارہ دن تک جاری رہے گا

گوا میں ہدایت جواو كورييا اور فرانسسكو ماسو کی فلم ’دی كنسل آف بردو‘ کی نمائش کے ساتھ ہی بیالیسویں بھارتی فلمی میلے کا آغاز ہو گیا ہے۔

یہ فلمی میلہ تین دسمبر تک جاری رہے گا اور اس دوران یہاں سڑسٹھ ممالک کی ایک سو سڑسٹھ سے زیادہ فلمیں دکھائی جائیں گی۔

اس مرتبہ میلے میں پہلی بار تھری ڈی فلموں کی سکریننگ کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔

اس بار میلے میں دیے جانے والے ایوارڈز کے زمرے میں پہلی بار لائف ٹائم اچيومنٹ ایوارڈ بھی شامل کیا گیا جو فرانس کے فلم ساز برٹراڈ ٹیورنيئر کو دیا جائے گا۔

اس فلمی میلے کا افتتاح اداکار شاہ رخ خان نے کیا۔ اس موقع پر صحافیوں نے ان سے دریافت کیا کہ وہ تو بالی وڈ کی مصالحہ فلموں کا حصہ ہیں پھر وہ یہاں کیا کر رہے ہیں۔ اس پر شاہ رخ نے کہا کہ ’سنیما کو مختلف زمروں میں تقسیم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ سنیما تو تفریح ​​کا ایک ذریعہ ہے۔ کہانی کہنے کا ایک ذریعہ ہے بس‘۔

افتتاحی تقریب میں شریک اطلاعات و نشریات کی وزیر ابكا سونی نے مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا، ’میں یہاں آئے ہوئے لوگوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوں۔ اس تقریب میں نہ صرف بھارت کے جانے مانے فلمساز حصہ لے رہے ہیں بلکہ دنیا بھر سے بھی نامور ہدایت کار یہاں موجود ہیں‘۔

ابکا سونی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’دنیا میں سب سے زیادہ فلمیں اگر کہیں بنتی ہیں تو وہ بھارت میں ہی ہیں لیکن اس کے باوجود بھارت کو بین الاقوامی سطح پر وہ درجہ نہیں مل پایا ہے لیکن اے آر رحمان اور رسول پھوكٹي جیسے لوگ اس حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش ضرور کر رہے ہیں‘۔