ٹیگور کی جعلی پیٹنگز کی تفتیش کا مطالبہ

ٹیگور کی پینٹنگز کی نمائش کی ایک فائل فوٹو
Image caption ربندر ناتھ ٹيگور کو انکے کام کے لیے لیے نوبل اعزاز سے نوازہ گیا تھا

ہندوستان میں فن کاروں نےایک نمائش دوران نوبل انعام یافتہ فن کار ربندر ناتھ ٹیگور کی مبینہ طور پر بعض جعلی پینٹنگز دکھائے جانے کی تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔

بھارت کے محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق اس برس فروری میں کولکتہ کے گورنمنٹ کالج آف آرٹس میں ایک نمائش منعقد کی گئی تھی جس میں ٹیگور کی جعلی پینٹنگز کی رکھی گئیں۔

محکمے کے مطابق اس نمائش میں تئیس پینٹنگز پیش کی گئی تھیں جن میں سے بیس جعلی تھیں۔یہ نمائش ربندر ناتھ ٹیگور کے اعزاز میں لگائي گئی تھی۔

نمائش کی شروعات میں ہی بعض فن کاروں نے یہ پایا کہ نمائش میں پیش کی گئی بیشتر پینٹنگز جعلی تھی۔

یہ بات سامنے آنے کے بعد محمکہء آثار قدیمہ نے اس معاملے کی تفتیش کی جس میں یہ سامنے آیا کہ نمائش میں رکھی گئی بیس پینٹنگز جعلی تھیں۔

پینٹر شواپرسننا ان فن کاروں میں سے ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اس نمائش کے خلاف آواز اٹھائی تھی اور کہا تھا کہ نمائش میں پیش کی جانے والی بعض پینٹنگز جعلی ہیں۔

ان کا کہنا ہے ’ہمیں فورا یہ بات سمجھ میں آ گئی تھی کہ یہ پینٹنگز نہ صرف جعلی ہیں بلکہ ٹیگور کی پینٹنگز کی بے حد کمزور نقل ہیں۔ ہم سب امید کرتے ہیں یہ کام جس نے بھی کیا ہے اسکا فورا پتہ لگایا جائے اور معاملے کی تفتیش کی جائے۔‘

واضح رہے کہ سنہ دو ہزار چار میں ٹیگور کو ملنے والا نوبل میڈل چوری ہوگیا تھا ۔ پولیس سات سال میں ابھی تک یہ نہیں پتہ لگا پائی ہے کہ چوری کِس نے کی تھی۔

اسی بارے میں