مائیکل جیکسن مقدمہ، ڈاکٹر کو چار برس قید

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جیوری نے دو روز غور و خوص کے بعد ڈاکٹر مرے کو قتلِ خطا کا مجرم قرار دیا تھا

امریکی عدالت نے آنجہانی پاپ گلوکار مائیکل جیکسن کی موت کے مقدمے میں ان کے ڈاکٹر کونریڈ مرے کو قتلِ خطا کا مجرم قرار دیتے ہوئے چار سال قید کی سزا سنائی ہے۔

مائیکل جیکسن پچیس جون سنہ دو ہزار نو کو نیند کی دوا کی زیادہ مقدار کھانے کے باعث انتقال کر گئے تھے۔

ریاست کیلیفورنیا کے وکلائے استغاثہ نے عدالت سے ڈاکٹر مرے کو چار سال قید کی سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا جو کہ اس جرم میں زیادہ سے زیادہ سزا ہے۔

تاہم وکلائے صفائی کا کہنا ہے کہ انہیں قید کی سزا نہ دی جائے کیونکہ انہیں پہلے ہی عمر بھر کے لیے یہ سزا مل چکی ہے کہ لوگ انہیں ’مائیکل جیکسن کے قاتل‘ کے نام سے جانتے ہیں۔

سات مردوں اور پانچ خواتین پر مشتمل جیوری نے چھ ہفتے جاری رہنے والے مقدمے کے بعد ڈاکٹر مرے کو مائیکل جیکسن کی موت کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔

واضح رہے کہ حکام کا کہنا ہے کہ مائیکل جیکسن کی موت انتہائی طاقتور مسکّن اعصاب دوا پروپوفول کی زائد مقدار استعمال کرنے سے ہوئی تھی اور یہ دوا انہیں ان کے گھر پر دی گئی تھی۔

اٹھاون سالہ ڈاکٹر مرے کو غیر ارادی طور پر مائیکل جیکسن کی موت میں ملوث ہونے پر چار سال تک سزا ہوسکتی ہے جبکہ ان پر بطور ڈاکٹر پریکٹس جاری رکھنے پر پابندی بھی عائد ہوسکتی ہے۔

آخری دلائل میں ڈاکٹر مرے کی قانونی ٹیم کا کہنا تھا کہ وہ جیکسن کی ہلاکت کے ذمہ دار نہیں اور مائیکل جیکسن نے پروپوفول نامی دوا خود اپنے جسم میں داخل کی تھی جبکہ ان کے ڈاکٹر کمرے سے باہر تھے۔

تاہم مقدمے کی سماعت کے دوران بتایا گیا تھا کہ مائیکل جیکسن کو جب ہسپتال لایا گیا تو ان کے ڈاکٹر کونریڈ مرے کو بتا دیا گیا تھا کہ گلوکار طبی طور پر ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایمرجنسی روم میں کام کرنے والے دو ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے پاپ سٹار کے دل کو حرکت میں دوبارہ لانے کی کوشش کی حالانکہ وہ مر چکے تھے ۔ انہوں نے ایسا اس لیے کیا کہ ڈاکٹر مرے اس پر اصرار کر رہے تھے لیکن ان کا خیال تھا کہ یہ کوششیں بیکار ہیں۔

اسی بارے میں