سُرمایا: موسیقی کی ایک رسیلی کتاب

سُرمایا تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ مصنف اپنی کتاب کے بارے میں جو کہے وہ ویسی ہو بھی۔

نام کتاب: سُر مایا

مصنف: خرم سہیل

صفحات: 448

قیمت: 600 روپے مجلد

پبلشر: الحمد پبلیکیشنز

رانا چیمبرز، (چوک پرانی انارکلی) لیک روڈ، لاہور

ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ مصنف اپنی کتاب کے بارے میں جو کہے وہ ویسی ہو بھی۔ اکثر اوقات کتابیں مصنف کے بیان سے پیچھے رہ جاتی ہیں لیکن کبھی کبھی آگے بہت آگے اور اتنا آگے بھی نکل جاتی ہیں کہ خود لکھنے والوں کو ختم نہ ہونے والے انتظار سے دوچار کر دیتی ہیں ۔

لیکن سُرمایا کے بارے میں خرم سہیل کا کہنا ہے کہ ’اس کتاب میں گلوکار اپنی دھن میں باتیں کر رہے ہیں، موسیقار اور سازندے سُروں کو کھول اور لپیٹ رہے ہیں اور گیت نگار محبت کی تشریح کر رہے ہیں‘ اور بالکل ایسا ہی ہے۔

دو ہفتے ہوئے اس کتاب کی رونمائی جاپان کلچرل سینٹر میں ہوئی۔ کونسل جنرل ماسا ہاری ساکی کے ساتھ ساتھ رونمائی میں استاد رئیس خان، رضا علی عابدی اور عامر ذکی بھی تھے۔

ان کی باتوں کے نوٹس لیتے ہوئے میں خوش تھا کہ اگر کتاب پر تبصرے کا مرحلہ آیا تو بہت آسانی ہو جائے گی۔ کتاب پڑھنے کی مشقت نہیں کرنی پڑے گی۔ وجہ یہ نہیں کہ میں پڑھنے سے بھاگتا ہوں لیکن اکثر کتابوں کو پڑھتے ہوئے پتّا مارنا پڑتا ہے اور جب اس کے بعد بھی کتاب سے کچھ نہ نکلے تو بڑی بیزاری ہوتی ہے۔

اگرچہ رضا علی عابدی کہہ رہے تھے کہ اُنہیں خرم کی تحریر کی صداقت اتنی پسند آئی ہے کہ انہوں نے خرم کو اپنی سوانح لکھنے کی اجازت دے دی ہے۔ انہوں نے موسیقی سے خرم کی عقیدت مندی کا بھی ذکر کیا۔ عامر ذکی نے بتایا کہ اس کتاب میں شخصیات ایسی دکھائی دیتی ہیں جیسی انہیں نظر آنا چاہیے۔

بظاہر یہ باتیں تسلی کو کافی تھیں لیکن دھڑکا تھا کہ رونمائی کی تقریبات میں تو ایسی باتیں کی ہی جاتی ہیں ایسے ٹیڑھے تو کم ہی ہوتے ہیں جو شادی میں دلہن یا دلہا کی عیب جوئی کریں اور صرف اس لیے کہ انہیں سچ بولنے کا ہوکا ہے۔

مزید یہ کہ تقریب کے آخر میں جن چند لوگوں کو کتاب دی گئی ان میں بھی تھا، کتاب دیکھنے میں اچھی تھی، مغل منی ایچر انداز کا ٹائیٹل، مجلد، 448 صفحات کی خوب چھپی ہوئی۔

اس دوران اوپر تلے ایسے کام نکلتے رہے کہ کتاب دیکھنے میں دیر ہو گئی لیکن آخر کتاب دیکھنا شروع کی تو کتاب مجھے لگ گئی۔

اس کتاب میں انٹرویوز ہیں اور یہ سُرمایا یا سروں کی دولت ان معنوں میں ہے کہ جن لوگوں کے یہ انٹرویوز ہیں، موسیقی ان کا کام یا ان کی زندگی کا جز نہیں، زندگی اور کُل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption قونصل جنرل ماسا ہاری ساکی، رضا علی عابدی اور استاد رئیس خاں نے کراچی میں جاپان کے قونصلیٹ میں ’سرمایا‘ کے اجرا پر گفتگو کی۔

دس انٹرویو کلاسیکی گائکوں کے ہیں، گیارہ نیم کلاسیکی گائیکوں کے، تیرہ پوپ گلوکاروں کے، نو مختلف بینڈز کے، پانچ فوک گلوکاروں کے، چار سازندوں کے، تین موسیقاروں کے اور پانچ گیت نگاروں کے۔

ان کے نام دیکھیں، پٹیالہ گھرانے کے استاد فتح علی خاں، میواتی گھرانے کے استاد رئیس خاں، شام چوراسی گھرانے کے استاد ریاض علی خاں، قوال بچے گھرانے کے فریدالدین ایاز، نیم کلاسیکی گائکوں میں مہدی حسن، فریدہ خانم، عابدہ پروین، راحت فتح علی خاں، پوپ گلوکاروں میں محمد علی شہکی، سجاد علی، ابرارالحق، جواد احمد، علی ظفر، فوک گائکوں میں ریشماں، عطااللہ عیسٰی خیلوی، سائیں ظہور، عارف لوہار، شوکت علی، بینڈز میں میکال حسن، جنون کے سلمان احمد، فیوژن کے شفقت امانت علی، موسیقاروں میں نثار بزمی، ارشد محمود، اور گیت نگارں میں حمایت علی شاعر، خواجہ پرویز، امجد اسلام امجد، صابر ظفر اور ایوب خاور۔

ظاہر ہے یہ تمام نام نہیں ہیں، کُل ساٹھ انٹرویو ہیں۔ اور ایسے ہیں شروع کریں تو پڑھ کر ہی دم لیں۔ بڑے رواں دواں۔

مزے کی بات یہ ہے کہ جن کے یہ انٹرویوز ہیں وہ خود بھی ان سے بہت خوش ہیں۔

عابدہ پروین کا کہنا ہے کہ ’مجھے خرم سے گفتگو کرنے کے بعد ایسا لگا یہ وہ فقیر ہے جو خدا کی تلاش میں ہے۔ یہ پریشان اور اپنے شوق کی انتہا کو چھو لینے والا قلم کار ہے۔ یہ انٹرویو نہیں ماضی کا وہ سفر ہے جو مجھے کئی صدیاں پیچھے لے گیا‘۔

راحت فتح علی خاں کہتے ہیں ’اس کتاب میں فنکاروں کے انٹرویوز کی زبان نہایت عمدہ اور کئی سوال بہت لاجواب ہیں‘۔

عامر ذکی کا کہنا ہے کہ ’میں نے اپنی زندگی میں جتنے بھی انٹرویو دیے ہیں ان میں یہ انٹرویو سب سے بہترین ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کے خرم اپنے کام سے بے حد محبت کرتا ہے‘۔

استاد رئیس خاں نے خرم کو لکھا ہے کہ ’کسی نے میرے لیے کہا تھا کہ: امیر خسرو نے ستار بنایا اور رئیس خاں نے بجایا۔ یہ ایک ہنر ہے، آپ نے موسیقی کی محبت میں اپنا ہنر جگایا ہے لہٰذا ’سرمایا‘ بھی آپ کے ہنر کی طرح معیاری ہے‘۔

خواجہ پرویز نے خرم کے نام لکھا کہ ’اچھے لوگوں کا ذکر کرنا بھی نیکی ہے۔ آپ کی گفتگو نے مجھے بھی اندر سے تر و تازہ کر دیا۔ موسیقی سے محبت کرنے والے اس کتاب کو پسند کریں گے، جن کو موسیقی سے لگاؤ نہیں وہ کہیں گے اس میں ہمارے لیے کچھ نہیں مگر موسیقی سے محبت کرنے والوں کے لیے بہت کچھ ہے‘۔

شوکت علی کا کہنا ہے کہ ’خرم سہیل انٹرویو نہیں کرتا بلکہ فنکار کے اندر اتر کر فنکار کو کھوجتا ہے، خرم کھوجی ہے۔ میں کچھ نہیں کہنا چاہتا تھا لیکن سب کچھ کہہ گیا، یہی خرم سہیل کے انٹرویوز کا کمال ہے‘۔

خرم کا حال گلزار نے بیان کیا ہے: ’خرم کو سوال بہت پریشان کرتے ہیں، وہ ہر آنے جانے والے سے اس کا پتہ پوچھتا رہتا ہے، وہ جانتا ہے کہ وہ لوگ گھروں میں نہیں رہتے، وہ نکار ہیں، وہ گھروں میں تو رکتے ہیں بس، رہتے کہیں اور ہیں، وہ سُروں میں رہتے ہیں لمحوں میں رہتے ہیں۔

خرم کو وہ سب سوال پریشان کرتے ہیں جو ادیبوں اور فنکاروں کے تخلیقی عمل سے جُڑے ہوتے ہیں۔ وہ ان لمحوں کو تلاش کرتا ہے جو خیال سے تخلیق کی تکمیل تک پہنچتے ہوئے ایک ادیب یا موسیقار گزارتا ہے یا جن سے انہیں گزرنا پڑتا ہے‘۔

ان ساری آرا کے بعد صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ تو کیوں کہ فلیپ ہیں اور لکھنے والوں نے محبت اور رواداری میں لکھ دیے ہوں گے لیکن جب آپ یہ گفتگوئیں پڑھیں گے تو آپ کی بھی رائے یہ نہیں رہے گی اور آپ کو بھی یہی لگے لگا کہ کسی نے بھی یہ باتیں محض محبت اور روا داری میں نہیں کیں۔

انٹرویوز دو طرح کے ہوتے ہیں ایک تو صحافتی جو سرسری اور محض ایک دو باتوں پر مشتمل ہوتے ہیں اور دوسرے فنی۔ سرسری انٹرویوز صحافت کے روزمرہ تقاضوں کے مطابق کیے جاتے ہیں اور ان عمومی پڑھنے سننے والوں کے لیے ہوتے ہیں جو عمومی معلومات سے دلچسپی رکھتے ہیں جب کہ دوسرے انٹرویوز خصوصی یا مخصوص فنون کے جرائد کے لیے کیے جاتے ہیں اور یہ انٹرویوز کرنے والے یا والوں کو اس فن کے بارے میں اتنا علم ضرور ہوتا ہے کہ جس سے انٹرویو کیا جاتا ہے وہ اسے اس کے اپنے علم اور تجربے کی اس گہرائی میں لے جاتے ہیں جہاں علم اور تجربہ خود بولنے اور منکشف ہونے لگتا ہے اور ایسے انکشافات ہوتے ہیں جو انٹرویو دینے والے کو بھی تخلیقی مسرت اور حیرت کے لمحے دیتے ہیں۔

خرم سہیل کے یہ انٹرویو سرسری قسم کے صحافتی ہیں اور نہ ہی دوسری نوع کے گہرے علمی اور انکشافات بھرے، وہ ایسی جگہ کھڑا باتیں کر رہا ہے جہاں دونوں پہلو ایک دوسرے سے مل رہے ہیں اس لیے آپ کو دونوں جانب کا لطف بھی حاصل ہوگا اور کہیں کہیں سوچنے کی راہ بھی ملے گی۔

ان میں عام باتیں بھی ہیں جو بہت سے لوگ فنکاروں کے بارے میں جاننا چاہیں گے اور خاص باتیں بھی جو ان فنکاروں کے رستے پر چلنے والے یا مستقبل کے فنکاروں کے بہت کام کی ہوں گی۔

اسی بارے میں