عوامی تھیٹر کے بھُولے بسرے چہرے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

جن لوگوں کو عوامی تھیٹر کا سنہری زمانہ یاد ہے وہ عالم لوہار، عنایت حسین بھٹی اور عاشق جٹ کو تو فراموش نہیں کر سکے لیکن مردوں کے اس معاشرے میں لوگوں نے بہت جلد بالی جٹّی، خورشید کُکو، رقیّہ جبیں، ثریا اور نازنین مانو جیسی خواتین کو فراموش کر دیا ہے۔

فوزیہ سیعد نے اپنی زندگی کا بیشتر حصّہ پاکستان میں خواتین کی جدوجہد کو ریکارڈ پر لانے اور اُن کی حالت کو سنوارنے کی کوشش پر صرف کیا ہے۔ کارکن خواتین - خواہ وہ کارخانے میں مزدوری کرتی ہوں یا کسی دفتر میں اعلٰی عہدے پر فائز ہوں - فوزیہ سیعد کے مطالعے کا محور رہی ہیں۔

آج سے تیس برس پہلے فوزیہ نے گانے بجانے کے فن سے وابستہ خواتین کی زندگی کا جائزہ لینا شروع کیا اور بازارِ حسن کی بود و باش اور وہاں کی معاشرت کے اُن تاریک پہلوؤں پر روشنی ڈالی جو عام لوگوں کی نگاہ سے پوشیدہ رہتے ہیں۔ فوزیہ کی پہلی کتاب ’ٹیُبو‘ انھیں فنکار خواتین کی زندگی کا احوال ہے۔

فوزیہ سیعد کے مطالعے کا دوسرا مرحلہ انھیں عوامی تھیٹر کی دنیا میں لے گیا۔ سن اسّی کی دہائی تک دیہات کے میلوں ٹھیلوں میں عوامی تھیٹر کا وجود برقرار تھا لیکن دیہاتی تھیٹر کو اس قابل کبھی نہ سمجھا گیا کہ اُس پر کوئی محقق قلم اُٹھائے یا بڑے شہروں کے پڑھے لکھے طبقے میں اسے متعارف کرایا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فوزیہ سعید کی یہ کتاب محض تھیٹر کے ارتقاء کی داستان نہیں ہے بلکہ اُن جی دار خواتین کی کہانی بھی ہے جو دن میں ایک ذمہ دار گھریلو عورت اور رات کو سٹیج پہ ایک کامیاب فن کارہ کا کردار نبھاتی تھیں

ہمارے عوامی تھیٹر سے وابستہ لوگوں کا حال ویسا ہی تھا جیسا یہاں کے پاپولر فکشن نگاروں کا تھا۔ دت بھارتی، گلشن نند اور ابنِ صفی کو ہر کوئی پڑھتا تھا لیکن ادب کی تاریخ میں ان کا کوئی ذکر نہ تھا۔ صبیحہ خانم، مسرت نذیر اور نیلو کا نام سب جانتے تھے لیکن چکوری، زارا اور ہنٹر جان کا ذکر کوئی نہ کرتا تھا۔

فوزیہ سعید نے انھی افتادگانِ خاک پر توجہ کی نگاہ ڈالی ہے اور گم نامی کی گرد میں اٹے اِن جسموں کو جھاڑ پونچھ کر شہرت اور نیک نامی کی مسند پر بٹھایا ہے۔ جن عورتوں کا تذکرہ کتاب میں موجود ہے وہ محض فنکار نہیں ہیں بلکہ عام زندگی گذارنے والی گھریلو خواتین ہیں جو صبح کے وقت اُٹھ کر چولھا چوکا دیکھتی ہیں، کھانابنانے کے بعد برتن صاف کرتی ہیں، گھر کی صفائی کرتی ہیں، بچوں کو سکول روانہ کرتی ہیں اور پھر شام کو فن کا مظاہرہ کرنے کے لئے ریہرسل کرتی ہیں۔ رات گئے تک وہ سٹیج پر اپنے فن کا مظاہرہ کرتی ہیں، رات کو تھک ٹوٹ کر سو جاتی ہیں اور اگلی صبح روزمرہ زندگی کی جدو جہد پھر سے شروع ہو جاتی ہے۔

بقول مصنفہ اس معاشرے میں عورت ہونا بذاتِ خود ایک کمزوری ہے - پھر رقص و موسیقی سے وابستگی ایک عورت کو مزید ملعون و مطعون کر دیتی ہے۔ ثریا، رقیہ، نازنین اور اُن کی ساتھی خواتین کئی محاذوں پر زندگی کی جنگ لڑ رہی تھیں - گھر میں انھیں شوہر اور بچوں کے سامنے جواب دہ ہونا پڑتا اور تھیٹر میں وہ مالک کے سامنے دست بستہ کھڑی رہتیں لیکن اُن میں سے ایک خاتون ایسی نکلی جو خم ٹھونک کر مرادنہ وار اس میدان میں آئی اور عالم لوہار کے ساتھ ساتھ عنایت حسین بھٹی کو بھی بیچ میدان کے، مقابلے کا کھُلا چیلنج دیا - یہ شیر دِل خاتون تھی بالی جٹی، جس نے خود اپنی تھیٹر کمپنی بنائی اور ناچ گانے کے ساتھ ساتھ تھیٹر چلانے کی انتظامی صلاحیتوں کا مظاہرہ بھی کیا۔

راقم نے دیہاتی تھیٹر کا جاتا جاتا زمانہ پرائمری سکول کے زمانے میں دیکھا تھا جب شاہ بخاری کے میلے میں عالم لوہار، عنایت حسین بھٹی اور بالی جٹی کے تھیٹر مقابلے پر لگا کرتے تھے۔ دیگر میلوں ٹھیلوں میں اتحاد تھیٹر، وطن تھیٹر، شاہ جہان تھیٹر، کسان تھیٹر، بشیر لوہار تھیٹر، طفیل تھیٹر، شمع تھیٹر اور لکّی تھیٹر کا بول بالا تھا، لیکن اِن سب سے بڑھ کر پھجّی شاہ کے تھیٹر کی دھوم تھی جس کا سیزن بِلا توقف تمام سال جاری رہتا تھا۔ گامن تھیٹر کی انفرادیت یہ تھی کہ اس میں عورتیں کام نہیں کرتی تھیں اور نسوانی کردار بھی لڑکے ہی ادا کرتے تھے۔

فوزیہ سعید نے اپنی توجہ تھیٹر کے عمومی ارتقاء سے زیادہ خواتین کے کردار پر مرکوز رکھی ہے اور واضح کیا ہے کہ سٹیج کی چکا چوند میں نمودار ہونے والے بانکے جسم اور سجیلے چہرے، مشقت کی کیسی گھڑیوں سے گزر کے عوامی تفریح کا سامان مہیا کرتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مصنفہ فوزیہ سعید ایک خانہ بدوش عورت کے روپ میں

فوزیہ سیعد کی تحقیق سن اسی کی دہائی میں شروع ہوئی جب عوامی تھیٹر آخری سانسیس لے رہا تھا۔ لیکن فوزیہ نے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر اُن ہستیوں کے خیالات ریکارڈ کر لئے جو اب داستانِ ماضی بن چکی ہیں۔

لوک ورثہ نے جس اہتمام سے آرٹ پیپر پر یہ داستان شائع کی ہے اُس نے عوامی تھیٹر کے بھولے بسرے چہروں کو زندگی کی نئی چمک دمک عطا کر دی ہے اور موجودہ نسل کے ذہنوں میں یہ احساس بھی جگایا ہے کہ مرتے ہوئے ورثے کو بے سہارا چھوڑ دینا ایک ثقافتی بزدلی اور معاشرتی جُرم ہے۔

عوامی آرٹ اور فنون کے کئی پہلو، نوجوان محقیقین کو پکار رہے ہیں کہ اِن ختم ہوتے ہوئے آثار کی آخری جھلک کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کر لیا جائے۔

مصنفہ: فوزیہ سعید

ناشر: لوک ورثہ – اسلام آباد

صفحات: 130 (آرٹ پیپر)

قیمت: درج نہیں

اسی بارے میں