وینا کی ’عریاں‘ تصویر، بازو پر آئی ایس آئی تحریر

وینا ملک تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وینا ملک کے ترجمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے کبھی بھی ایسے کسی فوٹوشوٹ میں حصہ نہیں لیا ہے

پاکستانی فنکارہ وینا ملک کی مردوں کے ایک بین الاقوامی میگزین کے بھارتی ایڈیشن میں شائع ہونے والی ’عریاں‘ تصویر پر تنازع پیدا ہو گیا ہے۔

ایف ایچ ایم انڈیا میں شائع ہونے والی تصویر میں جس میں بظاہر وینا ملک کپڑوں کے بغیر دکھائی دے رہی ہیں اور ان کے بازو پر ’آئی ایس آئی‘ لکھا صاف نظر آرہا ہے۔

پاکستانی میڈیا نے وینا ملک کے ترجمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے کبھی بھی ایسے کسی فوٹوشوٹ میں حصہ نہیں لیا ہے۔

لیکن ایف ایم ایچ انڈیا کے مدیر کبیر شرما نے بی بی سی کی نامہ نگار نوشین عباس سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تصویر اصل ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ یہ تصویر جریدے کے دسمبر کے شمارے کے کور پر شائع کی گئی ہے۔

کبیر شرما نے کہا ’ہمارے پاس اس فوٹو سیشن کی ویڈیو فوٹیج ہے اور سرورق پر وینا ملک کیسے دکھائی دیں گی اس بارے میں ان کے ای میل پیغامات بھی ہیں۔‘

ان کے بقول ’ان کے بازو پر آئی ایس آئی لکھوانا میرا خیال تھا لیکن انہیں جلی حروف میں لکھوانا وینا کا خیال تھا۔‘

انہوں نے کہا ’بھارت میں اگر کچھ غلط ہوتا ہے تو ہم ازراہِ مذاق کہتے ہیں کہ اس کے پیچھے آئی ایس آئی کا ہاتھ ہوگا۔‘

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مردوں کے میگزین کے دسمبر کے شمارے میں شائع ہونے والی پاکستانی فنکارہ کی تصویر نے پاکستان میں طوفان برپا کردیا ہے اور لوگ اس تصویر کی اشاعت پر برہم دکھائی دیتے ہیں۔

پاکستانی اخبار ایکسپریس ٹریبیون کا کہنا ہے کہ وینا ملک کے نمائندے نے فنکارہ کے ایسے کسی بھی فوٹو سیشن میں حصہ لینے کی تردید کی ہے۔

اخبار نے سہیل راشد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’وینا اپنی حدود جانتی ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم نے کچھ ایسے کام کیے ہیں جو انتہائی بے باک ہیں اور وہ ہماری ویب سائٹ پر موجود ہیں تاہم وہ اپنی حدوں کو جانتی ہیں۔‘

میگزین کے مدیر کا کہنا ہے کہ انہوں نے وینا ملک کے نمائندے کے بارے میں کبھی نہیں سنا اور دوسری بات یہ کہ وینا نے ان سے اپنی تصویر میں رد و بدل یا اسے ہٹانے کے بارے میں بھی نہیں کہا۔

اس سے پہلے بھی وینا ملک تنازعات میں رہی ہیں۔ انہوں نے سنہ دو ہزار دس میں بھارت کے ایک ریالٹی شو بِگ باس میں شرکت کر کے پاکستان کے روایت پسند حلقوں کو برہم کردیا تھا۔

وہ مارچ میں دوبارہ اس وقت خبروں میں آئیں جب انہوں نے ایک ٹی چینل پر ایک مذہبی رہنماء کو چیلنج کیا تھا۔

اسی بارے میں