دیو آنند نے زندگی کا ساتھ خوب نبھایا

گائیڈ فلم کا پوسٹر تصویر کے کاپی رائٹ dev anand
Image caption گائیڈ دیو آنند کی مقبول ترین فلموں میں ایک ہے

دیو آنند نے بی بی سی ہندی کو دیئے ایک انٹرویو میں ایک بار کہا تھا کہ انہیں جب تک کوئی ان کی عمر کے بارے میں یاد نہیں دلاتا تب تک انہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ بوڑھے ہوگئے ہیں۔

دیو آنند منفرد لباس اور منفرد انداز کے ہیرو

یہ بات بالکل صحیح بھی تھی۔ اٹھاسی برس کی عمر میں بھی دیو آنند کا جو سٹائل، جو جوش اور زندگی کے بارے میں جو رویہ تھا اسے دیکھ کر یہی لگتا تھا کہ دیو آنند نہ تو کبھی بوڑھے ہوں گے اور نہ ہی زندگی سے ان کی دوستی کبھی ٹوٹے گی۔ اور یہی وجہ ہے کہ ان کے انتقال پر ان کے ہر چاہنے والے نے کہا ’دیو آنند آپ کو آپ کے جذبے پر سلام۔‘

دیو آنند بالی ووڈ کے ان اداکاروں میں شامل ہیں جو اداکاری میں خود ایک ادارے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ اپنی مکالموں کی ادائيگی کے لیے مشہور تھے۔ آج کی نسل بھی یہ جانتی ہے کہ دیو آنند کا جو انداز تھا وہ کسی اور کا نہیں تھا۔

دیو آنند نے جو فلم بھی کی اس پر وہ اپنی چھاپ چھوڑ جاتے تھے۔ ان کی بے حد مقبول ترین فلموں میں ’پیئنگ گیسٹ، بازی، جویل تھیف، سی آئی ڈی، جانی میرا نام، امیر غریب، ہرے راما ہرے کرشنا، گائیڈ، ضدی اور ٹیکسی ڈرائیور‘ شامل ہیں۔

دیو آنند نے نہ صرف اداکاری کی بالکل ایک ہدایت کار کے طور پر بھی فلمیں بنائی۔ گائیڈ ان کی بنائی ہوئی سب سے مقبول ترین فلموں میں ایک ہے۔

دیو آنند نے لمبی زندگی پائی اور بالی ووڈ سے ان کی وابستگی بھی خاصی طویل رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دیو آنند کو ' الٹیمیٹ رومانٹک' کہا جاتا تھا

دیو آنند نے اداکار کے طور پر سنہ انیس سو چونسٹھ میں فلمی دنیا میں قدم رکھا تھا اور مرتے دم تک وہ بالی وڈ سے منسلک رہے۔ انتقال سے پہلے وہ ’چارجشیٹ‘ نامی فلم بنا رہے تھے۔

دیو آنند کا جنم سنہ انیس سو تیئس میں پاکستان کے صوبے پنجاب کے نارووال ضلع شکرگڑھ تحصیل میں ہوا تھا۔ بی اے کی تعلیم پوری کرنے کے بعد دیو آنند گھر چھوڑ کر اداکار بننے کے خواب لے کر ممبئی آ گئے۔ ممبئی میں کچھ دنوں جدوجہد کرنے کے بعد انہیں اشوک کمار کی فلم ’ضدی‘ میں کامنی کوشل کے ساتھ کام کرنے کی پیشکش ہوئی۔ فلم کامیاب ہوئی اور اس کے بعد دیو آنند ایک کے بعد ایک ہٹ فلم کرتے رہے۔

آگے چل کر سنہ انیس سو انچاس میں دیو آنند نے ’نوکیتن‘ نام سے فلم پروڈکشن کھولا تھا۔ اس پروڈکشن ہاؤس کے بینر پر انہوں نے پینتیس سے زائد فلمیں بنائی۔

اداکاری کے لیے ان کی جو فلمیں ہمیشہ یاد کی جائیں گے وہ ہیں ’جویل تھیف، گائیڈ، سی آئی ڈی اور ہرے راما ہرے کرشنا‘ ہیں۔

دیو آنند ڈائیلاگ ادائیگی کے منفرد انداز کے لیے تو مشہور تھے ہی لیکن وہ اپنے لباس، سکراف اور ہیٹس یا ٹوپی کے لیے بھی مشہور تھے۔ اپنے وقت کے وہ مشہور اداکار تھے اور وہ جو لباس پہنتے وہی اس دور کا فیشن بن جاتا تھا۔

وہ رومانی فلمیں بناتے تھے اور رومانٹک مزاج کے تھے۔ انہوں نے ایک بار کہا تھا کہ انہیں زندگی سے عشق ہے۔ انہیں ’الٹیمیٹ رومانٹک‘ کہا جاتا تھا۔

ہندوستانی فلموں میں ان کی خدمات کے لیے بھارتی حکومت نے سنہ دو ہزار ایک میں انہیں اعلیٰ شہری اعزاز پدبھوشن سے نوازا گیا۔ سنہ دو ہزار دو میں انہیں دادا پھالکے اعزاز دیا گیا۔

دیو آنند کو کئی فلم فئیر اعزازات بھی حاصل ہوئے۔ ان کی بنائی ہوئی فلم گائیڈ آسکر کے لیے نامزد ہوئی تھی۔

سنہ انیس سو ترانوے میں انہیں فلم فئیر لائف ٹائم اچیویمنٹ ایوارڈ دیا گیا تھا۔

دیوآنند نے نوبل اعزاز یافتہ پرل بک کے ساتھ مل کر انگریزی زبان میں گائیڈ فلم بنائی تھی۔

دیوآنند کے انتقال کے بعد بالی وڈ نے ایک ایسا اداکار کھو دیا ہے جس نے فلمیں بنانا، فلموں میں کام کرنے کو اپنی زندگی سمجھا اور آخری وقت تک کیمرے اور ایڈیٹنگ ٹیبل کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ دیوآنند جس طرح سے اپنی زندگی جیتے تھے اسے دیکھ کریہی کہا جاسکتا ہے ’دیو آنند آپ جیسے اداکار مر کر بھی نہیں مرتے۔‘