اینان: توروالی کی ضرب المثل شاعری

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کتاب کا نام: اینان (توروالی کلاسیکی شاعری، اردو ترجمے کے ساتھ)

مصنف: نامعلوم شعرا

مترجم: ایڈیٹروں پر مشتمل بورڈ

صفحات: 88

قیمت: 250 روپے

ناشر: ادارہ برائے تعلیم و ترقی، بحرین سوات

ویب سائٹ: www.ibtswat,org

جب بھی انسان کو دستیاب وسائل کم لگے اس نے نقل مکانی کی انفرادی بھی اور اجتماعی بھی، جب بھی ایسی صورت پیدا ہوئی ہے تو اس کا سب سے زیادہ اثر اس کے رہن سہن اور زبان پر پڑتا ہے۔

اسی نقل مکانی میں کیا کیا ہوا، اس کے دوران کتنے ختم ہو گئے اور ان کے ساتھ ان کی زبانیں بھی، اس کی تاریخ اتنی ہی طویل ہے جتنی کہ خود انسان کی۔ ان میں سے صرف وہ زبانیں اور ان کے آثار محفوظ ہیں جنہوں نے کوئی رسم الخط اختیار کر لیا یا کسی ایسی زبان سے منسلک ہو گئیں جس کے پاس رسم الخط تھا۔

ہم ان زبانوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتے جو مفتوح گروہوں کی تھیں۔ ان کے پاس فتح پانے والوں کی زبانیں اختیار کرنے کے سوا کیا چارہ ہو گا؟

اقوام متحدہ کے مرتب کردہ اعداد شمار کے مطابق 2005 تک دنیا میں 6909 زبانیں تھیں جن میں سے 473 زبانیں ایسی تھیں جو ختم ہو جانے کے خطرے سے دوچار تھیں۔ ان میں 182 زبانیں امریکی، 152 اوقیانوسی، 84 ایشیائی، 46 افریقی اور نو یورپی تھیں۔ ان میں ایسی زبانیں بھی ہیں جن کے بولنے والے ان صرف سینکڑوں میں رہ گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

انہی میں سے ایک زبان ’توروالی‘ بھی ہے۔ لیکن یہ زبان قدرے خوش قسمت ہے کیونکہ اس کے بولنے والوں کی تعداد 60000 سے 90000 کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ یہ پاکستان کے صوبہ پشتونخوا میں کوہستان اور سوات کے مختلف حصوں میں بولی جاتی ہے۔ توروالی اپنے قبیلے کے اعتبار سے انڈو ایرانی، دردی اور کوہستانی ہے اور پاکستان کی دوسری زبانوں کی طرح عربی رسم الخط کی حامل ہے۔

مجھے یہ علم نہیں کہ توروالی میں اور بھی کتابیں شایع ہوئی ہیں یا نہیں۔ لیکن اندازہ ہے کہ ایسا نہیں ہے، شاید اس زبان میں تدریس بھی نہیں ہوتی تو پھر اس زبان کا مستقبل کیا؟ اور ایسی کیا چیز ہو گی جو اسے بچا سکے گی؟

اس زبان کے بارے میں ایک تحقیق یونیورسٹی آف ٹیکساس میں وین لنسفورڈ نے 2001 میں ایم اے کے لیے اپنے تحقیقی مقالے کے طور پر کی تھی، اس کے علاوہ اس کی ایک انگریزی ڈیجیٹل ڈکشنری ہے جو آڈیو بھی ہے اور اسے شکاگو یونیورسٹی کے لیے انعام اللہ نے 2005 میں تیار کیا تھا۔

مذکور کتاب توروالی میں ایک نئی کتاب ہے۔ اس میں وہ شاعری جمع کی گئی جو اب تک لوگوں کے حافظوں میں محفوظ ہے اور ضرب المثل کے طور پر بھی استعمال کی جاتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جو شعر اس کتاب میں جمع کیے گئے ہیں وہ اس اعتبار سے کمال کے ہیں کہ ان میں نہ صرف علاقے کا جغرافیہ اور تاریخ محفوظ ہیں بلکہ ثقافت اور رہن سہن کا بھی اظہار ہوتا ہے اور یہ سب سطح پر نہیں ہے بلکہ علامتوں میں ہے اس لیے یہ کتاب ان دوستوں کے لیے یقیناً انتہائی اہم ہے جنہیں علامتوں اور استعاروں سے خوف آتا ہے۔ ویسے تو وہ اس خوف سے نجات کے لیے کہاوتوں سے بھی مدد لے سکتے ہیں اور یہ بھی طے کر سکتے ہیں کہ کیا یہ حقیقت پسندی بالعموم اظہار کو محدود کرتی ہے۔

کتاب کے مرتبین نے توروالی کی کلاسیکی شاعری کو قدیم ہند آریائی پس منظر کا حامل قرار دیا ہے اور ان کا کہنا ہے ’اس کے دل میں اتر جانے والے بول تشبیہات اور استعاروں سے مزین ہیں‘۔

اس کتاب میں جو شعر شامل ہیں وہ توروالی میں پائی جانے والے ایک صنف ’زو‘ میں ہیں اور یقینی طور پر وقت انہیں ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوا شاید اس لیے کہ ان میں ضرب مثل بن جانے کی قوت موجود تھی اور پھر یہ بھی کہ انہیں گایا بھی جاتا تھا۔

انہیں کیسے گایا جاتا ہے کتاب میں اس کی تفصیل بھی موجود ہے۔ ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ صرف مردوں کی ہی شاعری نہیں ہے بلکہ عورتوں کی بھی ہے۔

اینان کے معنی دھنک کے ہیں۔ اس سے بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ شاعری لوگوں کے لیے کس طرح کی جمالیاتی حیثیت رکھتی ہو گی۔

اس کتاب کو ادرہ برائے تعلیم و ترقی کے لیے ایڈیٹرز کے ایک بورڈ نے مرتب کیا ہے۔ کتاب کے تعارف میں نور خان توروالی کا کہنا ہے کہ اینان کے انگریزی اور پشتو ترجمے بھی شایع کیے جائیں گے۔ اور وہ ایک رسالہ بھی جاری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جسے توروالی اور اردو دونوں میں شایع کیا جائے گا۔

اس کتاب میں شامل کچھ ’زو ‘ دیکھیں اور خود ہی اندازہ کریں کہ مطالعے کے لیے یہ چھوٹی سے کتاب کتنی اہم ہے لیکن اس سے پہلے ایک بات۔ کتاب پیپر بیک یعنی غیر مجلد ہے، آرٹ پیپر پر بہت عمدہ شایع کی گئی ہے اور اس کی قیمت صفحات کے اعتبار سے بہت ہے۔

اس میں بہت سی رنگین تصاویر ہیں جن میں سے بہت کم ہیں جو متن کو سمجھنے کے لیے لازمی سمجھی جا سکتی ہیں لیکن اگر کاغذ اور تصویروں کا یہ انداز اختیار نہ کیا جاتا تو کتاب کی قیمت کم ہو سکتی تھی اور اس کا زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنا زیادہ ممکن ہو سکتا تھا یوں بھی بعض اوقات ضرورت سے زیادہ خوبصورتی بے اعتباری پیدا کرتی ہے۔

اس کے علاوہ ترجمے میں وضاحتی الفاظ شامل کرنے کی بجائے وضاحت علیحدہ سے کی جاتی تو زیادہ بہتر ہوتا۔ اس کے علاوہ اس کی پروف ریڈنگ پر توجہ کچھ زیادہ دی جاتی تو بہتر ہوتا۔

اشعار کا ترجمہ:

کاش پیر بابا کا مزار میرے گاؤں کے دروازے پر ہوتا اور وہ ہر صبح سمندر کی درد بھری آواز سُن سکتا۔ ( سمندر شاعر کا نام ہے)۔

عاشق کے ہاتھ میں ہر وقت ستار اور باجا رہتا ہے، تم کیوں نہیں خریدتے میرے وزیرزادے۔

کاش تو کسی مسجد میں طالب ہوتا میرے آشنا، وظیفہ لینے میرے در پہ آتا رہتا اور اس بہانے میں تیری دید کرتی۔

قدرت مجھے لڑکا بناتی اور تجھے لڑکی، پھر تو دیکھتا میں کس طرح تیرے باپ کے سامنے سونے کا ڈھیر لگاتی۔

اسی بارے میں