انجیلینا کی فلم کی بوسنیا میں نمائش

فلم کا ایک منظر
Image caption انجلینا جولی کی یہ فلم تنازعات کا شکار رہی ہے

ہالی وڈ کی مشہور اداکارہ انجلینا جولی کی بطور ہدایت کارہ پہلی فلم ’ان دا لینڈ آف بلڈ اینڈ ہنی‘ کو سرائیوو میں نمائش کے لیے پیش کر دیا گیا ہے۔

انجلینا جولی کی متنازعہ فلم جنگ زدہ بوسنیا میں ایک مسلم خاتون اور ایک سربیا کے نوجوان کی محبت کی کہانی ہے۔

فلم شائقین نے فلم کے بارے میں ملا جلا رد عمل دیا ہے۔ بعض شائقین کا کہنا تھا کہ فلم کی کہانی بے حد جذباتی اور حقیقت کے بےحد قریب ہے جبکہ بعض کا کہنا تھا کہ یہ فلم انہیں بوسنیا میں کشیدگی کے دوران کے دردناک حالات کی یاد دلاتی ہے۔

فلم دیکھنے کے بعد سبیرا سوکولوک نامی خاتون نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ’فلم کی کہانی بےحد حقیقی انداز میں پیش کی گئی ہے۔ میرے لیے یہ فلم دیکھنا بے حد مشکل تھا کیونکہ میں جنگ کے دوران یہیں تھیں۔ فلم دیکھنے کے بعد میں بے حد جذباتی ہوگئی تھی‘۔

فلم دیکھنے والے ایک اور شائقین روکیجا وکالو کا کہنا تھا ’فلم دیکھنے کے بعد مجھے بے حد افسوس ہوا ہے۔ میرے پاس کچھ کہنے کے لیے الفاظ ہی نہیں ہیں۔ فلم میں جب گولہ باری ہورہی تھی تو ایسا لگ رہا تھا جیسے جنگ ابھی بھی جاری ہے‘۔

ایک اور شائق کا کہنا تھا کہ ’یہ فلم آنے والی نسل کے لیے ایک سبق ہے۔ بوسنیا اور سابق یوگوسلاویا کے ہر شہری کو اس فلم کو دیکھنا چاہیے‘۔

انجلینا جولی کی اس فلم پر اس وقت تنازع شروع ہوا تھا جب سرائیوو کے مقامی میڈیا میں یہ افواہ پھیلی تھی کہ فلم میں ایک جنسی زیادتی کی شکار مسلم خاتون کو اپنے سرب معاون کی محبت میں گرفتار ہوتے دکھایا جائیگا۔

جنگ سے متاثرہ خواتین کی تنظیم ’دی ایسوسی ایشن آف وومن‘ نے ان افواہوں کے بعد فلم پر اعتراض کیا تھا ۔

Image caption فلم کی شوٹنگ کے دوران سربیا کے حکام نے ملک میں شوٹنگ کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔

ان افواہوں کے بعد بوسینا کی حکومت نے ملک میں فلم بندی کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔ بعد میں بوسنیا کے ثقافتی وزیر کو سکرپٹ دیا گیا تھا تاکہ وہ فلم کے مواد کے متنازعہ ہونے کے متعلق افواہوں کا ازالہ کر سکیں جس کے بعد بوسنیا کی حکومت نے محترمہ جولی کو فلم کی شوٹنگ کی اجازت دے دی تھی۔

فلم کی زیادہ تر شوٹنگ ہنگری میں ہوئی ہے۔

فلم کی کہانی ڈینیئل نامی شخص اور اجلا نامی خاتون کی ہے جو جنگ سے پہلے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ جنگ کے دوران وہ ایک دوسرے سے جدا ہوجاتے ہیں اور بعد میں انکی ملاقات بوسنیا کے ایک حراستی کیمپ میں ہوتی ہے جہاں اجلا قید ہوتی ہے اور کیمپ کا کمانڈر اجلا کا عاشق ڈینیئل ہوتا ہے۔

فلم میں جنگ کے دوران عصمت دری، پھانسی اور دیگر جنگی جرائم کے مناظر پیش کیے گئے ہیں۔

انجلینا جولی کی یہ فلم آئندہ برس فروری میں ریلیز ہونی ہے لیکن اس سے پہلے انہوں نے بوسنیا کے دارالحکومت میں اس فلم کی ایک ہفتے تک نمائش کی اجازت دی ہے۔

بعض بوسینائی سربوں نے اس فلم پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلم میں انہیں ولن کے طور پر پیش کیا گیا ہے وہیں بعض کا کہنا ہے کہ اس فلم کو دکھایا جائے۔

اسی بارے میں