مسلم ریئلیٹی شو میں نائن الیون پر بات

Image caption اس شو میں حصہ لینے والے زیادہ تر لوگ ریاست مشي گن کے شہر ڈیٹرائٹ میں رہتے ہیں

امریکی ٹی وی پر مقامی مسلمانوں کے بارے میں دکھائے جانے والے ایک ريئلیٹي شو کی آخری قسط میں نائن الیون حملوں کی دسویں سالگرہ پر عام لوگوں کے جذبات کے بارے میں بات چیت کی جائے گی۔

’آل امریکن مسلم‘ نامی یہ پروگرام کیبل چینل ٹي ایل سي پر ہر اتوار کی شام نشر کیا جاتا ہے اور چینل کے مطابق شو میں حصہ لینے والے لوگ امریکہ میں ہونے والے ان حملوں کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں۔

یہ ريئلیٹي شو دسمبر کے مہینے میں اس وقت شہ سرخیوں میں آیا تھا جب ایک قدامت پسند عیسائی گروپ کی اپیل پر دو کمپنیوں نے اس شو سے اپنا اشتہار واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا۔

عیسائی گروہ کا الزام ہے کہ اس پروگرام کے پیچھے امریکی اقدار کے برعکس ایک اسلامی ایجنڈا نہاں ہے۔

اس شو میں حصہ لینے والے زیادہ تر لوگ ریاست مشي گن کے شہر ڈیٹرائٹ میں رہتے ہیں۔ اس شہر میں عرب نژاد امریکیوں کی سب سے زیادہ تعداد قیام پذیر ہے۔

اس ريئلیٹي شو کی ریکارڈنگ اس وقت ہوئی تھی جب امریکہ نائن الیون حملوں کی دسویں سالگرہ منا رہا تھا۔

ٹي ایل سي چینل کی جنرل مینیجر ایمی ونٹر نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو اس بارے میں مزید معلومات دیتے ہوئے کہا،’آپ اس شو میں دیکھیں گے کہ ہمارے ملک کی تاریخ کے ایک فیصلہ کن لمحہ میں کیسے ایک کمیونٹی اپنے جذبات کا اظہار کرتی ہے‘۔

اس شو میں حصہ لینے والی ایک خاتون سہیلا امین کہتی ہیں،’ایسا پہلی بار ہوا تھا جب مجھے احساس ہوا کہ لوگ مجھے کم امریکی سمجھ رہے تھے۔ ایک ایسے انسان کے لیے جو اسی ملک میں پیدا اور پلا بڑھا ہو اس کے لیے یہ سب برداشت کرنا بہت مشکل تھا‘۔

اس شو میں حصہ لینے والے دیگر لوگ بھی اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہیں کہ کس طرح انہیں ایک ایسے واقعے کے تناظر میں اپنے معاشرے کا دفاع کرنا پڑا تھا جس سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں تھا۔

اس ريئلیٹي شو کی پہلی سیریز آٹھ جنوری دو ہزار بارہ کو ختم ہوگی لیکن چینل نے ابھی تک یہ نہیں بتایا ہے کہ اسے مستقبل میں جاری رکھا جائے گا یا نہیں۔

اسی بارے میں