‘بہاولپور‘ کا فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بہاول پور پر بہت کم کتابیں لکھی گئی ہیں اور جس نوع کا کام مجاہد حسین نے کیا ایسا تو اور بھی کم ہوا ہے

نام کتاب: بہاولپور (خوشحال ریاست سے پسماندہ ڈویژن تک)

مصنف: مجاہد حسین

صفحات: 272

قیمت: 399 روپے

ناشر: سانجھ پبلیکیشنز۔ بُک سٹریٹ۔ 2/46 مزنگ روڈ۔ لاہور

’بہاولپور پاکستان کے صوبہ پنجاب کا پسماندہ اور سب سے زیادہ نظر انداز شدہ ڈویژن قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ جب سے اس کی صوبائی حیثیت کو ختم کیا گیا ہےاس کی پسماندگی میں اضافہ ہوا ہے، آج اس پسماندہ ڈویژن کی شناخت غربت اور اس سے جنم لینے والی مذہبی انتہا پسندی اور فرقہ پرستی روایت ہے، اس کی آدھی سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے کیوں کہ اس کے حصے کے وسائل لاہور یا دوسرے بڑے شہروں پر خرچ کر دیے جاتے ہیں‘۔

مجاہد حسین اس سے پہلے آٹھ کتابیں لکھ چکے ہیں جن کے کئی ایڈیشن فروخت ہو چکے ہیں۔’بہاولپور‘ ان کی نویں کتاب ہے۔ اتفاق ہے کہ یہ لفظ نویں اردو اور پنجابی دونوں کی املا کے اعتبار سے یہاں درست معنی دے رہا ہے۔

مجاہد کی یہ کتاب نہ صرف مذکور حوالے کو دستاویزی حقائق کی تفصیل مہیا کرتی ہے بل کہ ضمنی طور پر ایسے بہت سے باتیں بھی بیان کرتی ہے جن سے میں بالکل لا علم تھا۔ لیکن مجاہد نے اس کتاب کی تیاری میں جن لوگوں کا شکریہ ادا کیا ہے ان میں سے کچھ کا نیازمند میں بھی ہوں اور یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ کوئی بات محض ذاتی لگاؤ یا اور سیاسی مقصد کے پیش نظر نہیں کہہ سکتے۔

اس کے علاوہ جن لوگوں نے اس سے پہلے مجاہد کی کوئی تحریر یا کتاب پڑھی ہے انہیں یقیناً اس بات کا اندازہ ہو گا کہ مجاہد خود بھی اس اقلیتی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں جو صرف حقائق کو ہی پیر و مرشد مانتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس مسلک کے لوگوں کی تعداد اب روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے اور کچھ بعید نہیں کہ کچھ سال بعد یہ تعداد محض انگلیوں پر شمار کیے جانے تک محدود ہو جائے۔

مجھے مجاہد کی اس بات سے مکمل اتفاق ہے ’میں نے کوشش کی ہے کہ بہاولپور کی ایک غیر جانبدار تصویر اجاگر کروں، اس مقصد میں مجھے کس حد تک کامیابی حاصل ہوئی ہے اس کا فیصلہ تو قارئین کریں گے، میں صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ ایک دلچسپ اور عبرت انگیز داستان ہے جو ریاست کی کمزوری کی طرف اشارہ کرتی ہے اور طاقت کے ان اصل مراکز کو بے نقاب کرتی ہے جو اس علاقے کے وسائل کو غلط طور پر استعمال کر رہے ہیں‘۔

پاکستان کا الیکڑانک میڈیا روزانہ سو کے لگ بھگ ایسے ٹاک شو یا مذاکرے نشر کرتا ہے جس میں سیاستداں، سابق اعلیٰ فوجی افسر، سابق بیوروکریٹس، سابق سفیر، وزیر اور بااقتدار و بےاقتدار سیاسی جماعتوں کے نمائندے شریک ہوتے ہیں۔ ان میں وہ بھی ہوتے ہیں جو اب سینیٹ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے رکن ہیں۔ ان ٹاک شوز اور مذاکروں کو نشر کرنے والا ہر ٹیلی ویژن اچھی ریٹنگ کا دعویدار ہے اور یہ دعوے غلط بھی نہیں ہیں لیکن مذاکروں اور ٹاک شوز کے یہ شرکا اور انہیں نشر کرنے والوں کو اس سے کوئی سرو کار نہیں کہ لوگ ان سب کو سن کر ان سنا کیوں کر دیتے ہیں؟

کسی بھی ملک کی سب سے بڑی بد قسمتی یہ ہو سکتی ہے کہ اس کے شہری اپنے ملک کی تاریخ اور حالات و واقعات سے اتنے لا تعلق ہو جائیں کہ اپنے ہی ملک کے ذرائع ابلاغ کے مواد سے فکشن کے طور پر لطف اٹھانے لگ جائیں اور شاید پاکستان اس وقت اسی بدقسمتی سے دوچار ہے۔

جو پاکستانی تیس اور تیس سال سے کم کے ہیں ان کی بڑی اکثریت کو جنرل ضیا الحق کے دور کے حقائق تک کا علم نہیں تو اس ون یونٹ کے منظر و پس منظر کا کیا علم ہو گا جو بنا تو مغربی پاکستان کے پانچ یونٹوں پر مشتمل تھا اور جب ختم ہوا تو صرف اس میں سے صرف چار برآمد ہوئے۔ مجاہد کی کتاب ہمارے لیے اس کی تفصیل تازہ کرتی ہے۔

بہت ممکن ہے کچھ لوگوں کو تاریخ کا یہ حوالہ بھی انوکھا لگے کہ بہالوپور کے ایک وزیراعظم خان بہادر نبی بخش محمد حسین بھی تھے، جن کا تعلق سندھ سے تھا اور مزاجاً انتہائی متشدد تھے۔

مجاہد نے اس کتاب میں دو مقدموں کا ذکر کیا ہے۔ ان میں سے ایک 1939 میں بنا اور دوسرا 1970 میں۔ پہلا بغاوت کا تھا اور یہ بغاوت ان لوگوں نے کی تھی جنہیں تب بھی ’کمی‘ کہا جاتا تھا اور اب بھی لیکن فرق یہ پڑا ہے اب بر سرِ عام عوام کہا جاتا ہے لیکن حکمراں طبقات اندر سے انہیں کمی ہی سمجھتے ہیں اور اگر آپ اس کتاب میں دیے گئے اعداد و شمار کو غور سے دیکھیں تو آپ کو خود ہی اس کا اندازہ ہو جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مجاہد حسین اس سے پہلے آٹھ کتابیں لکھ چکے ہیں جن کے کئی ایڈیشن فروخت ہو چکے ہیں۔ ’بہاولپور‘ ان کی نویں کتاب ہے۔ اتفاق ہے کہ یہ لفظ نویں اردو اور پنجابی دونوں کی املا کے اعتبار سے یہاں درست معنی دے رہا ہے۔

دونوں مقدمات کی تفصیل انتہائی مختصر ہے لیکن انتہائی اہم بھی ہے کیوں کہ ایسے پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے جو اب جو موجودہ پاکستانی صورتِ حال کو سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

بہاولپور حکومت کے خلاف 1939 کی بغاوت کا مقدمہ ایسے گواہ یا گواہوں کے بیان پر ختم ہوا جو مسلمان نہیں تھے اور استغاثے نے اسی بات پر انحصار کیا تھا کہ ان کا بیان تو مخالفانہ ہی ہو گا۔

دوسرے اور 1970 کے مقدمے کے ملزمان قدرے مختلف تھے۔ ان میں طلبا اور سیاسی کارکن تو تھے ہی سابق ارکانِ اسمبلی، سابق جج، سابق سپیکر اسمبلی، سابق مرکزی اور صوبائی وزیر، شاہ زادے، امیرزادے، وکلا اورعلما بھی تھے۔

عدالت کیسی تھی اور کیا کرتی تھی، اس کے بارے میں آپ کتاب ہی میں پڑھیں تو زیادہ بہتر ہو گا۔

مجھے مجاہد سے ایک شکایت ہے کہ جہاں جہاں انہوں نے غیر مسلموں کا ذکر کیا ہے ان کا لہجہ مجھے قدرے غیر متوازن لگا ہے۔ مجھے علم ہے کہ جب چاروں جانب غیر ذمہ دارانہ زبان کی یلغار ہو تو احتیاط کے خطوط مٹنے لگتے ہیں لیکن جب آپ ایک ایسا کام کر رہے ہوں جسے کل تاریخ کا مواد بننا ہے تو ضرورت سے زیادہ احتیاط لازم ہو جاتی ہے۔

اسی بارے میں