بچوں کے لیے سندھ کی مصور تاریح

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption آکسفرڈ یونیورسٹی پریس کی منیجنگ ڈائریکٹر امینہ سید، ممتاز شاعرہ فہمیدہ ریاض اور مصنفہ حمیدہ کھوڑو تقریب اجرا کے موقع پر

بدھ کو کراچی میں معروف مورخ حمیدہ کھوڑو کی کتاب ’اے چلڈرنز ہسٹری آف سندھ‘ کی تقریب اجرا ہوئی۔ اسے آکسفرڈ یونیورسٹی پریس نے شایع کیا ہے۔ اگلے مرحلے میں اس کتاب کو اردو اور سندھی میں بھی شایع کیا جائے گا۔ اس کے اردو ترجمے کی ذمہ داری ممتاز شاعرہ، ادیب اور مترجم فہمیدہ ریاض کو دی گئی ہے۔

کتاب کے اجرا کے لیے تقریب کی صدارت فہمیدہ ریاض نے کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ مجھ پر شاونزم وغیرہ کا الزام نہ لگائیں تو میں یہ ضرور کہنا چاہوں گی کہ حمیدہ کھوڑو ایک ایسی مورخ ہیں جنہیں بطور مورخ وہ مقام نہیں دیا گیا جس کی وہ مسحق ہیں‘۔

انہوں نے اس موقع پر سندھ کی تاریخ پر بھی بات کی اور کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ اس کتاب کو اردو میں کرنے کی ذمہ داری انہیں دی گئی ہے۔

فہمیدہ ریاض کا کہنا تھا کہ اس کتاب میں آریاؤں سے عربوں اور پھر مغلوں اور انگریزوں کی آمد تک کی تاریخی معلومات کو ایسے انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ بچے یقیناً انہیں دلچسپی سے پڑھیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے بچوں کے بچے ابھی چھوٹے ہیں اور وہ اس دن کا انتظار کریں گی جب وہ ذرا بڑے ہو جائیں اور وہ انہیں یہ کتاب پڑھ کر سنائیں۔

فہمیدہ ریاض نے کہا کہ حمیدہ کھوڑو کو ایسا ہی کام پنجاب، خیبر پختون خوا اور بلوچستان پر بھی کرنا چاہیے۔

حمیدہ کھوڑو نہ صرف ایک مورخ ہیں بل کہ آکسفرڈ یونیورسٹی اور سندھ یونیورسٹی میں تدریس کے فرائص بھی انجام دیتی رہی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ دو بار سندھ کی وزیر برائے تعلیم و خواندگی بھی رہ چکی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کتاب کو سندھی اور اردو میں بھی شایع کیا جائے گا

انہوں نے کتاب کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بچے اب یورپ میں رہتے ہیں اور ان کے بچے بھی وہیں پرورش پا رہے ہیں جہاں ایک مختلف ماحول اور طرزِ زندگی ہے اور انہیں یہ خیال آتا ہے کہ وہ یہاں کے بارے میں کیسے جان سکیں گے۔ انہوں نے یہ کتاب انہیں سامنے رکھتے ہوئے لکھی ہے تا کہ انہیں کچھ نے کچھ تو منتقل کر سکیں۔

حمیدہ کھوڑو نے کہا کہ جیسا کہ فہمیدہ نے کہا ہے وہ بھی پاکستان کے دوسرے صوبوں کے بارے میں اسی طرح کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں کیوں کہ موہنجو دڑو سے ہڑپہ تک پاکستان ایک مشترک تاریخ اور تہذیب رکھتا ہے اور اسی حوالے سے ہم ساری دنیا کی تہذیبوں کا حصہ ہیں۔

ان سے قبل آکسفرڈ یونیورسٹی پریس کی منیجنگ ڈائریکٹر امینہ سید نے استقبالیہ خطبے میں مصنفہ کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ حمیدہ کھوڑو کا اندازِ بیان انتہائی پُرکشش، واضح اور سادہ ہے اور انہوں نے تاریخ کے طویل اور رنگا رنگ سفر کو جس سہولت سے بیان کیا ہے اس سے ان کی دسترس کا اظہار ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا اس کتاب کو اردو اور سندھی میں بھی شایع کیا جائے گا۔ یہ ایک اہم کتاب ہے ’ اور جب آپ اس کتاب کو پڑھیں گے تو میری اس رائے سے اتفاق کریں گے کہ اس کتاب کی اشاعت ہماری فہرست میں ایک قابلِ قدر اضافہ ہے‘۔

اجرا کی رسم کے اختتام پر کورنگی اکیڈمی کے بچوں نے وادیِ سمدھ کی تہذیب کے بارے میں ایک ڈرامہ پیش کیا۔

اس ڈرامے کی ہدایات زارا ممتاز نے دی تھیں جو بچوں کی کتابوں کی ایک مقبول مصنفہ ہیں۔

اسی بارے میں