مشہور گلوکار رسول بادشاہ انتقال کرگئے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ریڈیو، ٹی وی اور فوک موسیقی کے ایک مشہور عوامی گلوکار رسول بادشاہ انتقال کرگئے ہیں۔

وہ گزشتہ ایک ماہ سے فالج کے جان لیوا حملے اور سرطان کے باعث کے بعد اسلام آباد کے پمز ہپستال میں زیر علاج تھے۔

مرحوم کے چھوٹے بھائی حضور بادشاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ رسول بادشاہ پچھلے دو تین ماہ سے کینسر اور فالج جیسے جان لیوا امراض میں مبتلا تھے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ان کا علاج خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور میں کیا گیا اور بعد میں انہیں پمز ہسپتال اسلام آباد میں داخل کرایا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ بدقسمتی سے ان کے دماغ میں ایک بڑی رسولی ایک ایسے وقت نکل آئی جب علاج میں بہت دیر ہوچکی تھی۔

حضور بادشاہ کے بقول علاج کے دوران انہوں نے خود صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین سے ملاقات کرکے مالی تعاون کی اپیل کی تھی اور اس سلسلے میں وعدے بھی کیے گئے لیکن کسی نے کوئی امداد نہیں کی۔ ’اگر رسول بادشاہ کو بروقت علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جاتی تو شاید وہ جانبر ہوسکتے۔‘

رسول بادشاہ پشتو موسیقی کے ایک نامور فوک اور عوامی گلوکار سمجھے جاتے تھے۔ چون سالہ رسول بادشاہ کا تعلق خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں سے تھا۔

انہوں نے اپنی فنی کیریئر کا آغاز حجروں اور عوامی مقامات پر گلوکاری سے کیا۔

ان کا شمار پشتو کے ان چندگلوکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے موسیقی کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی تھی۔ وہ نامور موسیقاروں استاد شیر افگن نیازی اورلعل خان استاد کے شاگرد رہے تھے۔

ویسے تو رسول بادشاہ کے کئی فوک گانے مشہورتھے لیکن ان کا ایک گانا ’کورمہ تہ مہ زہ پہ مہ گرانہ خطرے خطرے دی’ (کرم ایجنسی مت جاؤ میرے یار وہاں خطرہ ہی حظرہ ہے) کو پاکستان اور افغانستان کے پشتونوں علاقوں میں خصوصی شہرت حاصل تھی۔

مرحوم کے ساتھی فنکاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال حج کرنے کے بعد رسول بادشاہ نے عوامی پروگراموں میں جانا ترک کردیا تھا۔ تاہم وہ ریڈیو اور ٹی وی پروگراموں میں شرکت کرتے تھے۔ مرحوم نے سوگوران میں بیوہ اور ایک پندرہ سالہ بیٹے کو چھوڑا ہے۔