بالی وڈ راؤنڈ اپ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

بپاشا اور جان ساتھ کبھی ساتھ نہیں

بپاشا باسو تصویر کے کاپی رائٹ official website
Image caption بپاشا اور جان نے علیحدگی اختیار کرلی ہے

گزشتہ برس جان ابراہم اور بپاشا باسو کے علیحدہ ہونے کے بعد انہیں کسی فلم میں ساتھ نہیں دیکھا گیا ہے۔ یہاں تک وہ لوگ کسی محفل یا کسی پروگرام میں بھی ساتھ نہیں دیکھے گئے ہیں۔ اس برس یہ دونوں ایک ساتھ ایک فلم میں کام کررہے ہیں۔ فلم کا نام ہے ’ریس ٹو‘۔

بپاشا کا کہنا ہے کہ وہ دونوں اس فلم میں ایک ساتھ کام ضرور کررہے ہیں لیکن انہوں نہ تو ایک ساتھ کبھی شوٹنگ کی اور نہ ہی فلم میں وہ ان کے ساتھ نظر آئے گیں۔ بپاشا کا کہنا تھا کہ جان اس فلم میں ولن کا کردار ادا کررہے ہیں اور ان کا کردار بہت چھوٹا ہے۔

اداکارہ نہیں ہوتی تو لکھاری ہوتی

Image caption لکھنے کا شوق ہے سونام کو

فلم سانوریا سے فلمی دنیا میں قدم رکھنے والی سونم کپور نے بی بی سی سے بات چیت میں بتایا وہ ایک لکھاری بننا چاہتی تھیں۔ سونم کپور کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے فلمی کریئر شروع کرنے سے پہلے سنجے لیلا بنسالی کے ساتھ اسسٹنٹ ڈاریکٹر کے طور پر کام کررہی تھیں تبھی وہ سکرین پلے لکھنا چاہتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ سنجے نے پہلی ہی ملاقات میں ان سے کہہ دیا تھا کہ وہ مجھے ہیروئن بنانا چاہتے ہیں۔

نظمیں شائع کروں گا ضرور

Image caption فرحان اختر کو اپنے نظمیں شائع کرنے کے لیے صحیح وقت کا انتظار ہے۔

فلمی دنیا میں بطور اداکار، ہدایت کار اور موسیقی کار کے طور پر اپنے پہچان بناچکے فرحان اختر کا کہنا ہے کہ وہ ایک دن اپنی نظموں کو ضرور شائع کریں گیں۔ فرحان اختر کا کہنا ہے ان کی زیادہ تر نظمیں انگریزی میں لکھی ہیں۔ اردو میں صرف تین ہی نظمیں لکھی ہیں۔

گزشتہ برس ریلیز ہونے والی فرحان خان کی فلم ڈان ٹو کو لوگوں نے پسند کیا۔ فلم کے بارے میں فرحان اختر کا کہنا تھا کہ ڈان ٹو بنانے کا خیال ان سے پہلے دوسرے لوگوں کو آیا تھا۔ وہ جب بھی کسی سے ملتے تھے تو لوگ ان سے پوچھتے تھے کہ ڈان ٹو کب بنارہے ہیں۔ لہٰذا انہیں لگا کہ ڈان کا دوسرا حصہ بنانا ضروری ہے۔

دسویں میں فیل ہونے پردعوت

تصویر کے کاپی رائٹ PR Agency
Image caption انوپم کھیر ایک مشہور تھئیٹر اداکار بھی ہیں

انوپم کھیر نے حال ہی میں اپنی ایک کتاب شائع کی ہے جس میں انہوں نے اپنی زندگی کے بعض دلچسپ مراحل کا احاطہ کیا ہے۔ کتاب کا نام ہے ’دی بیسٹ تھنگ اباؤٹ یو از یو‘۔ انوپم کھیر نے اس موقع پر اپنی زندگی کے بعض اہم لمحات کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد ایک دن انہیں ایک ہوٹل میں کھانا کھلانے لے گئے۔ کھانا کھانے کے بعد انہوں نے اپنے والد سے پوچھا کہ یہ کھانا کس خوشی میں تھا۔ کیا ان کا پروموشن ہوا ہے؟ ان کے والد نے کہا کہ ’تم دسویں میں فیل ہوگئے ہو‘۔ اس پر حیران ہوکر انہوں نے پوچھا کہ وہ پھر جشن کیوں منارہے ہیں۔ ان کے والد نے کہا کہ اس لیے کہ جشن منا رہے ہیں اگر زندگی کی آزمائش میں ’تم کبھی بھی فیل ہو جاؤ تو مایوس مت ہونا‘۔